جمعہ کو یہ وظیفہ لازمی کر یں۔ حضور ﷺ نے ایک صحابی کو فر ما یا یہ پڑھا کرو۔

Jummay ko yeh wazeefa lazmi krain

آج ہم آپ کو لا حول ولا قوۃ الا باللہ کا ایک بہت ہی مجرب عمل بتائیں گے ہمارے آقا ﷺ کے بہت سے ارشادات مبارک ہیں یہ ایک بہت بڑا وظیفہ ہے میرے آقا ﷺ نے ارشاد فر ما یا حضرت ابنِ عباس ؓ سے مروی ہے کہ فر ما یا کہ جسے غم اور افکار گھیر لیں اسے چاہیے کہ لا حول ولا قوۃ الا باللہ کثرت کے ساتھ پڑھے یہ کلمات انسان کو غموں سے آزاد کر تا ہے۔

اس حدیث کی روشنی میں اس بات کا اندازہ ہو تا ہے کہ اگر کسی شخص کو کوئی غم یا تکلیف یا مصیبت ہو یا کوئی بھی حاجت ہو تو اسے چاہیے کہ وہ لا حول ولا قوۃ الا باللہ کا ورد کر ے اس ورد سے اس کا ہر طرح کا غم مصیبت دکھ درد پر یشانی دور ہو گی۔اگر کسی کو کو ئی حاجت ہے وہ اس کا ورد کر ے تو اللہ پاک اس عمل کی بر کت سے اس کی حاجت کو ضرور پورا فر ما ئیں گے۔

اس عمل کے بارے میں حضور نبی کریم ﷺ کی اور بھی احادیث مبارکہ آپ کے سامنے بیان کر یں گے اور اس کا ایک خاص عمل بھی آپ کو بتائیں گے مگر اس سے پہلے ان سے گزارش ہے کہ میری ان باتوں کو بہت ہی زیادہ غور سے سنئے گا تا کہ کسی بھی قسم کی بات آپ سے مس نہ ہو سکے۔ صحیح بخاری و مسلم کی حدیث ہے یہ ایک ایسا ورد ہے کہ جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے لا حول ولا قوۃ الا باللہ جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے۔

یہ میرے آقا ﷺ کا فر مان ہے جو اس سے پیار کر ے گا وہ جنت میں جا ئے گا ان دو حدیث ِ مبارکہ میں حضور نبی کریم ﷺ نے لا حول ولا قوۃ الا با للہ کو جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ قرار دیا اور دوسری احادیث میں فر ما یا کہ جو اس سے پیار کر ے گا وہ جنت میں جا ئے گا اسی طرح ترمذی کی روایت میں ہے کہ یہ جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے اسی طرح ایک اور روایت میں ہے کہ اس کے ساتھ ہر بار ایک فرشتہ اترتا ہے جب بھی کو ئی یہ پڑھتا ہے۔

لا حول ولا قوۃ الا باللہ تو ہر مر تبہ ایک فرشتہ آسما ن سے دنیا میں نزول کر تا ہے اور یہ فرشتہ کیوں اترتاہے؟ بیماریوں کو شفاء دینے کے لیے جو اس کو دس بار پڑھے گا وہ گ ن ا ہ وں سے ایسے پاک ہو جا ئے گا جیسا کہ آج کی ماں کے پیٹ سے پیدا ہو ا ہے دنیا کی ستر بلاؤں سے محفوظ ہو جا تا ہے حضرت ابو ہر یرہ ؓ سے روایت ہے کہ میرے آقا ﷺ نے ارشاد فر ما یا لا حول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم کو زیادہ سے زیادہ سے پڑھو کیونکہ یہ جنت کا خزانہ ہے۔

Leave a Comment