نمرود کی ایک بیٹی جس کا نام رحیمہ تھا ابر ا ہیم ؑ کو نمرود نے جب

Namrood ki beti

کہا جا تا ہے کہ نمرود کی ایک بیٹھی تھی جس کا نام رحیمہ تھا لیکن اسے “رعبا ” کے نام سے پکارا جا تا تھا جب نمرود نے حضرت ابراہیم ؑ خلیل اللہ علیہ السلام کو بہت گ میں پھینکا تو اس وقت وہ لڑکی اوپر محل پر سے یہ منظر دیکھ رہی تھی۔ جب ابراہیم علی السلام کو اگ میں نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا اور آپ کے اردگرد بہت گلاب کے پودوں اور پانی اور درختوں کو دیکھا جن پر پر ندے چہچہا رہے تھے اور دل میں کہنے لگی کہ میرا باپ تو کچھ بھی نہیں ہے قدرت، عزت اور بادشاہی تو اللہ رب العا لمین کی ہے جو ابرا ہیم کا رب ہے میرا والد تو جھوٹا اور عاجز ہے۔

آ دمی کو ہلا ک کرنے پر بھی قادر نہیں وہ یہ سو چتی اکیلی ہی اپنے محل سے نکلی اور اس کے قریب آ گئی اس نے با ہر سے حضرت ابر اہیم کو پکارا اے ابراہیم! کیا آپ کے علاوہ بھی کوئی آپ کے رب کی بارگاہ میں اجازت پا سکتا ہے؟آپ نے فر ما یا ہاں وہ شخص جس کا دل میرے رب کے لیے خالص ہو تو آ گ میں اس کا حال بھی اس طرح ہو گا جس طرح میرا حال ہے۔ اس نے کہا مکہ میں چاہتی ہوں کہ تمہارے رب کے ساتھ صلح کر لو۔ آپ نے فر ما یا تو پھر آ گ میں داخل ہو جاؤ ۔ اس نےآگ میں داخل ہو نا چا ہا تو ڈر گئی آپ نے فر ما یا ڈرو مت اسی وقت آپ کو حکم ہوا اےآگ میری بند ی کی حفاظت کر۔

اسی وقت آپ کو حکم ہوا اے آگ میری بندی کی حفاظت کر اس کے بعد وہ آگ میں داخل ہو گی وہ جس جگہ پہ وہ پاؤں رکھتی اللہ کے حکم سے وہاں سے آگ ٹھنڈی ہو جاتی تھی اسی طرح وہ چلتے چلتے حضرت ابر ا ہیم علی السلام کے پاس پہنچ گئی اور کہنے لگی لا الہ الا اللہ ابر ا ہیم خلیل اللہ میں نے یہ ارادہ کر لیا ہے کہ میں جب تک زندہ رہوں گی آ پ کے دین کو نہیں چھوڑوں گی اور اپنے ظالم سر کش والد کو بھی دعوت دوں گی ہو سکتا ہے وہ میری نصیحت مان لے یہ کہہ کر وہ واپس آ ئی اور اپنے والد کے پاس چلی گئی وہ اس وقت تخت پر بیٹھا ہوا تھا۔

اور اس کے لشکری اس کے اردگرد جمع تھے کچھ کھڑے تھے اور کچھ بیٹھے تھے وہ جا کر کھڑی ہو گئی اور کہنے لگی: اے میرے باپ تو کب تک جھوٹے دعوے کر تا رہے گا کیو نکہ خدائی اور قدرت و طاقت تو اس خدا کے لیے ہے جس نے ابر ا ہیم علیہ السلام کے لیےآگ میں گلاب کے پھول، سبزہ، باغات اور بہتا دریا پیدا کر دیا ہے بادشاہی تو اس کی ہے تیری کیا بادشاہی ہے تو تو ایک آدمی کو گزند پہنچانے سے عاجز ہے اور اس پر قادر نہیں ساتھ ہی اس نے کلمہ پڑ ھا لا الہ الا اللہ ابراہیم رسول اللہ اس کا لعنتی باپ یہ بات سن کر غصے میں آ گیا اور اس سے کہنے لگا اپنے دین سے پھر جا اپنی جان پر ظلم نہ کرو۔

Leave a Comment