سیدوں کی ماں خاتونِ جنت سیدہ بی بی فاطمہ ؓ کی افطاری کا رُلا دینے والا واقعہ

Sayadoon ki maan khatoony jannat

ایک روز آپ نے سیدہ فاطمۃ الزہرا ؓ کے کان میں کچھ کہاتووہ رونے لگیں ۔بیٹی کوروتادیکھ کرآپ نے ایک بارپھر ان کے کان میں کچھ کہاتووہ مسکرانے لگ گئیں۔بعد کے دنوں میں حضرت فاطمہؓ نے وضاحت کی کہ پہلی بار آپ نے مجھے اپنے وصال کی خبردی تو میں رونے لگی،بعد میں فرمایاکہ میرے خاندان میں سے سب سے پہلے آپ ہی مجھ سے آن ملوگی تو میں مسکرانے لگی۔یہ فرط محبت کاایک اچھوتاانداز تھا۔

حضرت فاطمہ الزہرارضی اﷲتعالیٰ عنہاکی پیدائش مبارکہ بعثت نبوی کے پانچویں سال ہوئی۔یہ صبح صادق کاوقت تھا،جمعۃ المبارک کادن اور21ربیع الثانی کی متبرک تاریخ تھی۔آپ ؓخاص قریش،آل بنی ہاشم،بنی عبدالمطلب اور اہل بیت نبویمیں سے تھیں۔امت مسلمہ کے ہاں آپ ؓکی عقیدت ومودت کسی بھی اور خاتون سے کہیں زیادہ ہے۔آپؓ کی پہچان صرف آپؓ کی ذات مبارکہ یاآپؓ کاحسب و نسب ہی نہیں بلکہ آپؓ کی آل والاد اور آپؓ کی نسل بھی اسلام اور تاریخ اسلام کے شاندار ابواب اور عالم انسانیت میں قابل فخروقابل ستائش ہے۔مسلمان معاشروں میںخواتینِ اسلام کے ہاں یہ نام ’’فاطمہ‘‘سب سے زیادہ کثرت کے ساتھ رکھاجاتاہے اورباعث برکت سمجھاجاتاہے۔

آپ ؓکی فضیلت عالیہ کے باعث آپؓ سے منسوب القابات کی بہتات ہے۔آپ ؓکے مشہور القابات ’’زہرا‘‘اور’’سیدۃ النساء العالمین‘‘ہیں اس لیے آپ نے آپؓ کودنیاوجنت کی خواتین کی سردارقراردیاتھا۔آپؓ کی مشہور کنیت ’’ام الائمہ‘‘ہے ،اس لیے کہ اثناعشریہ کے کل ائمہ معصومین آپؓ کی نسل سے ہی تعلق رکھتے ہیں۔آپ ؓ کے 2 فرزندان حضرت امام حسن اورحضرت امام حسین رضی اﷲتعالیٰ عنہماکے باعث آپؓ کو’’ام السبطین‘‘اور’’ام الحسنین‘‘بھی کہاجاتاہے۔آپؓ کو خاتون جنت،الطاہرہ،الزکیہ،المرضیہ،السیدہ وغیرہ سے بھی یاد کیاجاتاہے۔بتول بھی آپؓ کامشہور لقب مبارک ہے۔

پیدائش کے بعد آپنے بذات خود سیدہ فاطمۃ الزہرا ؓکی تربیت کی۔ام المومنین حضرت خدیجہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہابھی ظاہر ہے کہ اس تربیت میں آپکے ساتھ ساتھ تھیں۔بی بی خدیجہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کے وصال کے وقت آپؓ بہت کم سن تھیں چنانچہ قریش کی متعدد خواتین نے حضرت فاطمہؓ کواپنی زیرتربیت لیے رکھا۔ان میںسیدہ فاطمہ بنت اسدؓجو ابوطالب کی زوجہ محترمہ تھیں ،ام الفضلؓ جو حضرت عباس بن عبدالمطلب کی زوجہ محترمہ تھیں،حضرت ام ہانیؓ جو آپ کی پھوپھی تھیں،سیدہ اسماء بنت عمیسؓ جو حضرت جعفرطیارکی زوجہ محترمہ تھیں اور حضرت صفیہ بنت امیرحمزہ ؓبن عبدالمطلب کانام خاص طور پر ملتاہے۔

یہ خواتین اہل بیت کی سرخیل خواتین ہیں۔ان سورج چاندستاروں کے زیرتربیت رہنے والی خاتون کو واقعی حضرت فاطمہ الزہرارضی اﷲتعالیٰ عنہاہی ہونا زیب دیتاہے۔بی بی فاطمہؓ کی پیدائش اور تربیت کازمانہ مکی زندگی کا دورابتلاو آزمائش تھاچنانچہ آپؓ نے ابتدائے اسلام کے بہت ہی کٹھن دورکابنظرغائرمشاہدہ کیا۔ابولہب کامکان اوربی بی خدیجہ ؓکے گھرکی ایک ہی دیوار ہواکرتی تھی۔صبح جب رسول اللہ گھرسے نکلنے کے لیے دراقدس کھولتے توام جمیل زوجہ ابولہب نے کانٹوں کا ڈھیر لگارکھاہوتا،بی بی صاحبہ ؓآگے بڑھ کر اپنی ننھی منی انگلیوں سے پہلے راستہ صاف کرتیں پھر پدربزرگوارروانہ ہوتے۔

اور اس کوشش میں انگلیوں کے مقدس و محترم و معصوم پور کانٹوں کے باعث خون سے رنگین ہو چکے ہوتے تھے۔اہل مکہ جب کبھی نبی علیہ السلام پر اوجھڑی پھینک کر جسم اطہرکوآلودہ کردیتے تو بی بی فاطمہ ؓ رسول اللہ کوپانی سے غسل دیتی تھیں اور ساتھ کے ساتھ اشکوں کی برسات بھی جاری رہتی جس پر سب سے بڑامشفق باپ سب سے زیادہ اطاعت کیش بیٹی کو تسلی ارشاد فرماتے تھے اور اﷲ تعالیٰ کی مدد پر یقین کی تلقین کرتے۔شعب ابی طالب کے کٹھن ترین مرحلے میں آپؓ اپنی کم سنی کے ساتھ شریکِ آزمائش تھیں۔

Leave a Comment