حضرت علی ؓ نے فر ما یا رمضان کی تہجد میں یہ پانچ منٹ کا عمل کر لیں۔

Hazrat Ali ny fermaya Ramzan ki tahajud mai yeh paanch minute ka amal ker lain

ایک ایسا عمل ہے جس کو علی کرم اللہ نے ذکر فر ما یا کہ تہجد کے وقت آپ نے یہ عمل کر نا ہے ویسے تو تہجد کو ئی کوئی پڑھتا ہے لیکن آج کل جیسے رمضان المبارک ہے تو پہلے اُٹھنے پر آپ کو یہ تہجد مل جا ئے گی کیونکہ حضر ت علیؓ کا اس کے بارے میں قول ہے کہ جب کو ئی دروازہ نظر نہیں آ ئے تو انشاء اللہ اس عمل کو اگر تہجد میں کر لیا جا ئے گا تو انشاء اللہ پانچ منٹ کے اس عمل سے یہ اللہ تعالیٰ آپ کی تمام تر پر یشانیوں کو ختم فر ما دیں گے اور جس مقصد کے لیے کر یں گے وہ مقصد آپ کو ضرور حاصل ہو گا۔ اس کے حوالے سے دوسرے صحابہ کرام کا بھی یہی معمول رہا ہے۔

اللہ کے حکم سے جو دروازے بند ہو چکے ہیں اللہ تعالیٰ ان دروازوں کو کھول دیں گے۔ وظیفہ ذکر کرنے سے پہلے میں یہاں پر ایک بات کہنا چاہتی ہوں کہ اس وظیفے کو ضرور کیجئے گا اور اس وظیفے کے بارے میں دھیان سے سنیے گا کیونکہ اس وظیفے سے آپ کو بہت ہی زیادہ فائدہ ہونے والا ہے جیسا کہ میں نے ذکر کیا کہ آج کا جو عمل ہے وہ بہت ہی خاص ہے حضر ت علی کے حوالے سے انشاء اللہ حضر ت علی کے بارے میں ہے کہ راتوں کو تنہائی میں ایسے روتے تھے ایسے اللہ سے مانگتے تھے کہ جیسے کسی چھوٹے بچے کو ز ہر یلے سا نپ نے کاٹ لیا ہو تہجد جو ہے۔

عام دنوںمیں کم لوگوں کو میسر آ تی ہے بہت کم لوگ ہیں جو تہجد گزار ہو تے ہیں لیکن آج کل تہجد ہر ایک کو موثر ہو گی حضرت صدیقِ اکبر ؓ کے بارے میں فر ما یا جا تا ہے کہ ان کی آہیں تہجد میں ایسی ہو تی تھیں کہ جس ہجرہ میں آپ سوتے تھے اس کی چھت جو وہ سیاہ ہو گئی تھی آپ کی اندرونی سوزش کا جو یہ عالم تھا کہ آپ کے اطراف میں بھنے ہوئے گو شت کی بد بو آ نے لگ گئی تھی جس کی وجہ سے بعض مر تبہ بلی بھی آپ کے اردگر چکر لگا تی تھی بتائیے کیا کیفیت ہو گی ان کی نبی کریم ﷺ کے عشق کی آ گ ایسی تھی ۔

کہ آپ فر ما تے کہ کاش کوئی تنکا ہو تا کاش کوئی مومن کا بال ہو تا حضر ت عمر ؓ کے بارے میں فر ما یا جا تا ہے کہ کاش میں بکرا ہو تا کسی مسلمان کے گھر میں بندھا ہو تا تو کوئی مہمان آکر مجھے ذبح کر کے پیش کر دیتا تو آپ سوچئے کہ ان کی آخرت کی فکر کیسی تھی اللہ سے اس طرح سے مانگتے تھے اللہ نےا ن لوگوں کے لیے جنت کی بشارت رکھ دی تھی اور اللہ ہمیں بھی ایسا رونا نصیب فر ما ئے۔

Leave a Comment