اور عین ممکن ہے اس رمضان جو تم مانگو مل جائے کچھ باتیں رمضان کریم کی

or Aain mumkin hai

جنت کا ایک دروازہ ہے جسے ریان کہتے ہیں قیامت کے دن اس دروازے سے صرف روزے دار ہی داخل ہوں گے ۔ سبحان اللہ ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی مکمل روزے رکھنے کی ہمت دے ، اور ہمارے رکھے روزوں کو قبول فرمائے ۔ آمین۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص اللہ کے رستے میں ایک دن روزہ رکھے گا، اللہ تعالیٰ اس کے بدلے اس کے چہرے کو آگ سے ستر سال کی مسافت پر رکھے گا۔ یاد رکھیں ! اہم نہ نہیں کہ رمضان میں آپ نے کیا اعمال کیے ۔ اہم یہ ہے کہ رمضان کی تربیت نے آپ کو کیسا بنا دیا ۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: سحری کھاؤ کیونکہ سحری کھانے میں برکت ہے۔

روزہ دار کی دعا کبھی رد نہیں ہوتی۔ سحری کے بعد جو فجر کی نماز میں سکون ہے وہ لفظوں میں بیان نہیں ہوسکتا۔ اے ایمان والو! تم پر اسی طرح روزے فرض کئے گئے ہیں جیسے کہ تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے تاکہ تم پرہیز گار بن جاؤ۔ ( سورت البقرہ ایک سو تیراسی)۔ خوف خدا دیکھنا ہے تو مسلمان کا دیکھ جوروزے میں وضو کا پانی منہ میں لے کر بھی پیتا نہیں ہے۔ اور عین ممکن ہے اس رمضان جو تم مانگو تمہیں فوراًً دے دیا جائے۔ سات سمندروں کے مالک کو تمہارے ایک آنسو سے محبت ہے۔ تو ایک آنسو بہا کر زندگی آسان کیوں نہیں بنا لیتے؟ رمضان کو رمضان کیوں کہتے ہیں؟

رمضان کا مطلب ہے ” جل جانا” ۔ رمضان کو رمضان اس لیے کہتے ہیں کہ اس میں تین سو تیس دن میں مردوں عورتوں نے جو گن اہ کیے ہوتے ہیں اللہ ہر روزے کے بدلے میں ان گن اہوں کو جلاتا جاتا ہے ۔ جلاتا جاتا ہے ۔ جب آخری دن آتا ہے توتمام گن اہوں سے روزے والا پاک ہو باہر نکل جاتا ہے اس لیے اس مہینے کا نام رمضان رکھا گی ا یعنی ” جل جانا” ۔ کیاجلتا ہے پہلا: ایک تو گن اہ جلتا ہے ، دوسرا: ایک نفس جلتا ہے جب اس کو بھوک اور پیاس ستاتی ہے تو اس کے اندر جو غلاظتیں جمع ہیں وہ جلتی ہیں ۔ تیسرا: اور مادی طور پر بھی پورے جسم میں جو فاسد مادے ہیں وہ جلتے ہیں جب جسم کو بھوک پیاس ستائے ۔

سارا جسم تازہ ہوجاتا ہے۔ روزہ اللہ سے جڑنے کا سبب ہیں۔عورتوں کا اجروثواب رمضان میں کس قدر بڑھ جاتا ہے ۔ ان کو روزے کا بھی اجر ملتا ہے ۔ گھر میں کام کرنے کا بھی اجر ملتا ہے اور روزہ دار کو افطار کرانے کا بھی اجر ملتا ہے اے اللہ! ان کی کمزوریوں پر رحم فرمااور ان کی تشنگی کو دور فرما۔ فرمان حضرت محمد ﷺ ہے اس مہینے کا نام رمضان رکھا گیا کیونکہ یہ گن ا ہوں کو جلادیتا ہے۔ ہم نہ ہوں گے شاید پھر آئے گا رمضان ، درحقیقت رمضان نہیں انسان ہے مہمان۔ رمضان صبر کا مہینہ ہے۔ اور اس صبر کا انعام جنت ہے۔ روزہ دار کے لیے دریائی مچھلیاں تک دعائے مغفرت کرتی ہیں۔ اور افطار کے وقت تک کرتی رہتی ہیں۔

Leave a Comment