رسول اللہ ﷺ نے فرمایاتین باتیں ہیں جن پر میں قسم کھاتا ہوں اور ان کے علاوہ ایک اور بات ہے

Rasool Allah ﷺ ny fermaya

ابو کبشہ انماری سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپﷺ فرماتے تھے کہ تین باتیں ہیں جن پر میں قسم کھاتا ہوں اور ان کے علاوہ ایک اور بات ہے جس کو میں تم سے بیان کرنا چاہتا ہوں، پس تم اس کو یاد کرلو۔ جن تین باتوں پر میں قسم کھاتاہوں، ان میں ایک تو یہ ہے کہ کسی بندہ کا مال صدقہ کی وجہ سے کم نہیں ہوتا ، (یعنی کوئی شخص اپنا مال راہ خدا میں دینے کے سبب سے کبھی مفلس و نادار نہیں ہوگا بلکہ اس کے مال میں برکت ہوگی۔

اور جس خدا کی راہ میں وہ صدقہ کرے گا، وہ اپنے خزانہ غیب سے ا س کو دیتا رہے گا ) اور (دوسری بات یہ ہے کہ ) نہیں ظلم کیا جائے گا کسی بندہ پرایسا ظلم جس پر وہ مظلوم بندہ صبر کرے ، مگر اللہ تعالیٰ اس کے عوض بڑھا دے گا ۔ اس کی عزت (یعنی اللہ تعالیٰ نے یہ قانون مقرر فرمایا ہے کہ جب کسی بندہ پر ناحق کوئی ظلم کیا جائے ، اور اس کو ستایا جائے، اور وہ بندہ صبر کرے ، توا للہ تعالیٰ اس کے عوض اس کی عزت و رفعت دنیا میں بھی بڑھا ئے گا)اور (تیسری بات یہ ہے کہ )نہیں کھولے گا ۔

کوئی بندہ سوال کا دروازہ مگر اللہ کھول دے گا اس پر فقر کا دروازہ (یعنی جو بندہ مخلوق کے سامنے ہاتھ پھیلانے کا پیشہ اختیار کرے گا، اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقدر ہے کہ فقر ومحتاجی اس پر مسلط ہوگی ، گویا یہ تینوں اللہ کے ایسے اٹل فیصلے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایاکہ میں ان پر قسم کھا سکتا ہوں۔ ( ا س کے بعد آپ نے فرمایا) اور جوبات میں ان کے علاوہ تم سے بیان کرنا چاہتا تھا، جس کو تمہیں یا د کر لینا اور یا د رکھنا چاہیے وہ یہ ہے کہ دنیا چار قسم کے آدمیوں کے لیے ہے (یعنی اس دنیا میں چار طرح کے آدمی ہیں)۔ایک وہ بندے جن کو اللہ نے مال دیا ہے اور صیحح طریق زندگی کا علم بھی ان کو دیا ہے ۔

پس وہ اس مال کے صرف و استعمال میں اللہ سے ڈرتے ہیں، اور اس کے ذریعہ صلہ رحمی (یعنی اپنے اعزہ واقارب کے ساتھ سلوک اور ان کی ہمدردی ) کرتے ہیں۔ اور اس میں جو عمل اور تصرف کرناچاہیے اللہ کی رضا کے لیے وہی کرتے ہیں۔ پس ایسے بندے سب سے اعلیٰ وافضل مرتبہ پر فائز ہیں۔ اور (دوسری قسم ) وہ بندے ہیں جن کو اللہ نے صیحح علم ( اور صیحح جذبہ ) تو عطا فرمایا ہے ، لیکن ان کو مال نہیں دیا،پس ان کی نیت صیحح اور سچی ہے۔

اور وہ اپنے دل و زبان سے کہتے ہیں کہ ہمیں مال مل جائے تو ہم بھی فلا ں ( نیک بندے ) کی طرح اس کو کام میں لائیں ( اور اللہ کی ہدایت کےمطابق وہ جن اچھے مصارف میں صرف کرتا ہے ، ہم بھی ان ہی میں صرف کریں )۔ پس ان دونوں کا اجر برابر ہے (یعنی دوسر ی قسم کے ان لوگوں کو حسن نیت کی وجہ سے پہلی قسم والوں کے برابر ہی ثواب ملے گا)۔ اور (تیسری قسم ) وہ لو گ ہیں جن کو اللہ نے مال دیا، اور اس کے صرف و استعمال کا صیحح علم ( اور صیحح جذبہ ) نہیں دیا۔ پس و ہ نادانی کے ساتھ ، اور خدا سے بے خو ف ہو کر اس مال کو اندھا دھند غلط راہوں میں خرچ کرتے ہیں، اس کے ذریعہ صلہ رحمی نہیں کرتے اور جس طرح اس کو صرف و استعمال کرنا چاہیے اس طرح نہیں کرتے ۔ پس یہ لوگ سب سے برے مقام پرہیں۔

Leave a Comment