پر اسرار درویش

pur israr derwaish

آٹھویں درویش نے پہلے درویش سے کہااتنی طول طویل خرافات سُن کر سر میں درد سا ہونے لگا ہے پہلے مجھے اونٹ مارکہ بیڑی پلا ،کہ حواس قائم ہوں تاکہ پھر اپنی دلدوز داستاں سنا کر تیرے بھی سر میں درد لگا سکوںپہلے درویش نے دوسرے درویش کی جیب سے بیڑی نکال کے پیش کیدو کش لگانے کے بعد یہ بزرگ یوں گویا ہوا بچپن تھانیرنگی زمانہ دیکھیے کہ خبر ہی نہ ہوئی اور جوانی آن ٹپکیایک عفیفہ کہ نام اُس کا اب ذہن میں نہیں البتہ اس کے والد گرامی شہرکے سب بڑے کھمبوں پہ رات کو لالٹین باندھ کرکرتے تھے۔

تاکہ اللہ کے وہ بندے جو رات کو دوسروں کے گھروں میں روزی روٹی کے سلسلہ میں نقب لگاتے ہیں ، اُن کو مشکل نہ ہو(لوگ ایویں بکواس کرتے ہیں، کہ ڈاکو ان کو باقاعدہ حصہ دیا کرتے تھے)اور دن میں سود پہ پیسہ دے کر خدمت خلق کیا کرتے تھےایسے لوگ اب جہاں میں کہاں ملیں گےتو ایک روز اس عفیفہ نے مجھے رستہ میں گزرتے ہوئے کہا، اے بھلے آدمی! مدت سے تو مجھے روزن دیوار سے دیکھا کرتا ہےکیوں نہ تو مستقل ہمارے گھر میں ہی منتقل ہو جائےوالد گرامی ایک عدد ملازم کی تلاش میں ہیں ۔

جو اُن کے ساتھ مل کر دن رات اللہ کی مخلوق کی خدمت بجا لائےمیں نے باقاعدہ بغلیں بجائیںاور ساڑھے تین درم کے بتاشے لے کر وہیں غربا میں تقسیم کیاتفاق سے اس وقت ہم دونوں ہی وہیں تھےگھر تو اپنا نام کا تھاسو ہمسایے کا ہی ایک جوڑا چھت سے اٹھایااور اُس عفیفہ کے گھر جا وارد ہوئےپہنچتے ہی اُس خضر صورت بزرگ نے میرا ماتھا چوما اور لالٹینوں میں تیل ڈالنے پر مامور کیا چند ہی روز میں ہمیں یقین ہو گیا، کہ یہ عفیفہ ہم سے محض فلرٹ کر رہی ہےسو اُس شب ہم نے اُس بزرگ کے گھر کو خیر باد کہہ دیادل دنیا سے اوب سا گیا تھا۔

دنیا کے مال سے نفرت ہو چلی تھیاسی لیے سوچا ، کیوں نہ اس بزرگ کو بھی اس آزار سے نکالتے چلیںسو چلتے چلتے اُس کی تجوری کا بوجھ ہلکا کیا اور شہر سے باہر نکل پڑادیکھا تو صحرا میں ایک جگہ کچھ لوگ الاؤ کے گرد رقص کرتے تھے اور نامانوس زبان میں عجب نغمے گاتے تھےاُن کے ہاتھوں میں چھوٹےچھوٹے پیالے تھےجن میں نجانے کوئی مشروب تھاصحرا، رات، رقص،الاؤ، مشروبمیں نے بزرگ کی دولت کو کمر سے کس کے باندھا اور اُس حلقہ میں شامل ہواتھوڑی دیر میں ان میں سے ایک نے میرے ہاتھ میں وہی جام پکڑایاخمار میں تھا۔

ایک ہی لمحہ میں سارا جام چڑھا گیارقص کرتے کرتے مجھے لگا، کہ آسماں کے تارے میرے قریب ہی کہیں آ گئے ہوںبلکہ ایک دو کو تو ہاتھ بڑھا کرمیں نے پکڑنا چاہااسی دوران میں معرفت کی دنیا میں اتر گیااور پھر میری آنکھ اگلی صبح ہی کھلیفوراً کمر کی طرف ہاتھ بڑھایا، تو خبر ہوئی کہ وہ بھی میرے درویش بھائی تھےاور مجھے دنیا کے علائق سے ہٹا دینے پہ مامور تھےحق مغفرت کرے، عجب آزاد مرد تھےتیسرا درویش: اے پیر جواں سالابھی سے سر دو اسپرین والی درد سے بھر گیا ہےاپنی داستان کو کل رات تک اٹھاکہ آج رات مجھے کل رات کی تھکن اتارنا ہےوہ والی تھکن جو پرسوں رات چوتھے درویش کے چوتھے عشق کا قصہ سنتے سنتے ہوئی تھی۔

پانچواں درویش: بھلے لوگو! مدت ہوئی ملائی کا برف کھائےتم میں سے کوئی شہر جائے اور کسی نیک دل تاجر کو سفوفِ دلپذیر سنگھا کرصبح تک کے لیے میٹھی نیند سلا کر اس کی دعائیں لےاور ملائی کا برف اُس کے برفاب خانے سے لائےکیا کہا تھا گنجوی خراسانی نے اک آگ لگی میری سینے میں ہائے ظالم نے کیا مصرعہ کہاتیر ہی تو مار ڈالا سینے میںچھٹا درویش: تیر سے یاد آیا درویش بھائیو! تمہیںبھی کچھ یاد آیا؟؟

ایک تھا تیر انداز ، ایک تھی کمان اور ایک ہی تھا تیر اُس مردِ نیک نہاد نےکمان کا چلہ کھینچاتیر چڑھایااور پھر ساتواں درویش: پھر کیا ہوا؟ آٹھواں درویش:پھر خاک ہونا تھادن چڑھنے کو آ گیا ہے اور ابھی ملائی کا برف نہیں آیاتف ہے ایسی درویشی پہ پہلا درویش: بھائیو! دنیا فانی ہے اور آنی جانی ہےکیوں خواہشات دنیا میں اتنا مگن ہوتے ہوعبرت سرائے دہر میں ہر منظر سے عبرت پکڑوہمارے ہمسائے ہی میں ایک خوبرو ، فرشتہ صفت عطار کا لونڈا دوائیں بیچتا تھاکل میں اس سے دوا لینے گیا تو بھلا چنگا تھا۔

حیرت ہے کہ آج شام میں اس کوچے میں گیا تو اسے دیکھ کر میری سٹی گم ہو گئیکچھ دیر میں اپنی سٹی ڈھونڈتا رہاجب مل گئی تو کیا دیکھتا ہوںکہ وہ بدستور بھلا چنگا ہی تھاکیا زمانہ آ گیا کیا زمانہ آ گیاآٹھواں درویش: رات تمام ہوئیمگر نہ میری داستانِ درد تم نے سماعت کی اور نہ خس خانہ برفاب کا وہ جگر پارہ آیاجسے کہیں تو شہنشاہِ اثمارکے رس میں ملا کے پیش کرتے ہیں تو کہیں مرکب اسود یعنی موسوم بہ چکلیت میں ملا کے نوش جاں کرتے ہیں۔

کہیں رس بھری کارس اس میں ملاتے ہیں تو کہیں میوہ ہائے خشک کا انبار اس کے تودہ پہ استادہ کرتے ہیںہائے نواب اجہل الزماں کے دیوان خانہ کی رونق ! وائے ملک یسارالدولہ کے زنان خانہ کی رونق!!استغفراللہ! یہ کیا ہفوات بک گئے ہم ہم کہنا چاہ رہے تھے ملک یسارالدولہ کے نعمت خانہ کی رونق یہی ملائی کا برف ہی تو ہوتی تھیقسما قسم ذائقوں اور فواکہات میں ملوث و ملفف کر کے نقرئی طشتریوں میں ادھ کھلے چاند کی راتاے چشم فلک! دہائی ہےدہائی ساتواں درویش: صاحبو! دیکھتا ہوں کہ لذائذ جسمانی و نفسانی کے بہت دلدادہ ہوتے جاتے ہو۔

نفس کا غلام اور تربوز کا بیج ایک ہی خاصیت رکھتے ہیںکچھ عرصہ قبل تک تو یہ خاصیت مجھے یاد تھیاب بھولنے لگا ہوںایک تجویز ہے کہ ہم آٹھوں بھائی آج رات نکلیں اور گلیوں کوچوں میں آوارگی کریںنئے لوگ، نئی کہانیاں،نئی خوشبوئیں، نیا کوتوال اور نئے سپاہیکوتوالی کے سابقہ ملازم تو ہم آٹھوں بھائیوں کی جان کے درپے ہی ہو گئے تھے قرارداد منظور ہوتی ہے آدھی رات کے قریب کا وقت ہے، چاند ڈیڑھ نیزے پہ اور سورج بستر میں پڑا ہےتارے دون کی لے رہے ہیں اور ستارے خرگوش کی نیند سے حظ اٹھاتے ہیںایسے میں یہ قلندر صفت مردان باصفا شہر کی سیر کو نکلتے ہیںاگلی شب: تکیے پہ آٹھوں درویش ایک دوسرے کی گردن میں ہاتھ ڈال کے حال کھیل رہے ہیں۔

تزکیہ نفس اور اسرار معرفت کی یہ مجلساللہ اللہ پہلا دریش کہ عمر اور قفس کے تجربے میں سب سے فائق تھایوں گویا ہوااے چمنستان معرفت کی بلبلو! کل رات کی داستاں جلد سناؤ، کہ عقل جلا مانگتی ہے ذرا یہ نمدہ تو ادھر کھسکاناآٹھواں درویش: صاحبو! کل رات جو میں تکیے سے نکل شہر میں وارد و صادر ہواتو بیڑی جلانے کو لمحہ بھر ایک گلی کی نکڑ پہ رکا کیا دیکھتا ہوں کہ ایک گدھا ایک پختہ عمر کو کان سے پکڑ کے کھینچے جا رہا تھادم بخود، انگشت بدنداںفہم نماندیا خدا یہ کیا۔

ہو رہا اس شہر میں تھوڑا آگے چلا تو ایک درویش کو شرطوں کی وردی میں دیوار پھلانگ کر ایک تاجر کے گھر جاتے دیکھاپوچھا ، اے درویش بھائی تم تو بندی خانے میں تھےکہنے لگا، چپ کر میں چپ ہو ررہاآگے چلا تو کیا دیکھتا ہوں کہ ایک بڑھیا غازہ و خم کاکل لگائے سجائے بیچ رستے کے تخت بچھائے بیٹھی ہے اور ہر آنے جانے والے کو آخرت سے ڈرا رہی ہے صاحبو! یہ دیکھ کر میری تابِ مجال جواب دی گئیاور شہر سے صحرا کو نکل آیاالبتہ اتنا ضرور ہوا کہ نکلتے نکلتے ایک بھاگتے ہوئے چور کی لنگوٹی ضرور لے آیا۔

شکر ہے وہ درویش بھائیوں میں سے نہیں تھااللہ بس باقی ہوسساتواں درویش: صاحبو! میں جب شہر پہنچا تو دیکھتا ہوں کہ امیر شہر کی سواری جاتی ہےخدام حشم جلو میں قطار اندر قطار چلتے تھےیہ دیکھ کرحصول خلعت شاہی کی پرانی خواہش میرے اندر عود کر آئی اور میں نے آوازہ ہوس بلند کر دیاافسوس ہے اس نفس پہمیں نے صدا دی! اے امیر شہرتیری توصیف کو تملق بھی کمتر صنعت ہے اور تیری صورت کی مدح کو خود نظیفی و اباابائی قصیدہ لکھ کر لائیں تو حق ادا نہ کر سکیں گےشجاعت کا تذکرہ کروں یا سخاوت کاابھی یہ سب کہہ رہاتھا کہ امیر نے ہاتھ کے اشارے سے مجھے روک دی ا ور کہا درویش لگتے ہومیں بھی کبھی درویش تھایہ بتاؤ بستہ الف کے درویش ہو یا بستہ ی کےمیں حیران ہی تو رہ گیا۔

امیر شہر نےمیری تلاشی کا حکم دیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور پچھلے ہفتے جو ہار ہم نے شربت روح افزا پلا کر فارس کے تاجر سے ہدیتاً وصول کیا تھااُس کو دیکھ کر کہنے لگاایسی رعایا مالک دوجہاں ہر ایک کوعنایت فرمائےکہ بادشاہ کی زیارت کو آویں تو ایسے خوبصورت تحفے لے کر آویںہم تیرا یہ ہدیہ قبول کرتے ہیں سر پیٹنے کا مقام تھاسو خوب پیٹاجانب صحرا آئے اور سر میں مٹی ڈال کر رقص درویش کیااور اس شعر کی قوالی کیا کیے درویشی بھی ہے عیاری، سلطانی بھی ہے عیاریچھٹا درویش: تکیے کے بھائیو! مدت ہوئی میں بادیہ گردی کا اسیر ہوااور شہروں کی بود و باش سے تائباور صرف صحراؤں میں بھٹکے قافلوں کو مزید بھٹکا کر نان شبینہ کا انتظام کیا کرتا تھا۔

کل جب آپ کی تجویز و قرارداد پہ شہر میں جا موجود ہواتو کیا دیکھتا ہوں کہ ایک مانوس شکل سرائے کی انتظارگاہ میں قہوے کے فنجان کے فنجان لنڈھا رہی ہےغور کیا تو یہ اعلیٰ حضرت نادرکلوروی ثم بغدادی تھےان کے ایک قافلے کو ایک دفعہ بیچ صحرا کے اس فقیر نے دنیاوی مال و دولت کے دلدر سے چھرایا تھاحضرت کی نظر مجھ پہ پڑی تو اپنے چار ہٹے کٹے مریدوں سمیت فوراً آن ملےانتہائی محبت سے ملےان چاروں نے بھی باری باری معانقہ کیااس عمل میں ہماری تین پسلیاں مجروح ہوئیں اور باقی مضروباسس کے بعد وہ مجھے باصرار اپنے حجرے میں لے گئے۔

اور ان چاروں احباب کو میرے ساتھ حال بے حال کھیلنے کا حکم دیاانہوں نے تعجیل سے تعمیل کیاس سے آگے بیان میرے بس میں نہیںبس یہی کہہ رہا ہوں تب سے درویش کی موت آئے تو شہر کا رخ کرتا ہے پانچوں درویش: بھائیو! اب تم سے کیا چھپاؤں، جب رات میں نے شہر کا قصد کیا تو مجھ پہ نیند کا غلبہ ہوااتنا غلبہ اتنا غلبہ ہواکہ میں چلتے چلتے رستے میں موجود ایک کٹیا میں پڑ کے سو رہادن چڑھے ہوش آئیتو واپس آ گیانادم ہوں معافی کا خواستگار ہوں ہاں اتنا ضرور ہے کہ رستے میں ایک پان فروش کو چونا لگاتے دیکھا تو خود اس کو چونا لگا کر سکھایا کہ اصل میں چونا کیسے لگاتے ہیںیہ جو ہندوستان کے خوشبو دار پتوں میں خوشبو کی لپٹیں مارتا قوام آپ چبا رہے ہیں۔

یہ اسی مرد حق پرست کا ہی آپ بھائیوں کے لیےتحفہ تو تھاچوتھا درویش: یہ شہر بھی عجیب ہوتے ہیںایسے ایسے لوگ ان میں جا بستے ہیں جن کی جیبیں بھری اور دل و دماغ خالی ہوتے ہیںمدت سے میں استاذ الاساتذہ حضرت مولانا احقر العباد قدس سرہ العزیز کے دروس ہائے فلسفہ سے اپنے علمی پیاس بجھایا کرتا ہوںآج جو شہر کا رخ کیا تو ان کا مدرسہ سامنے آ گیادل کی ضد کہ شیخ کی قدم بوسی کی جائے اور ادھر سے آپ بھائیوں کے حکم کی بجا آوریسو میں نے ایک درمیانی راہ نکالی اور سنیما میں لگی تازہ نمائشِ متحرک تصاویر(فلموں) کے اشتہار دیکھنے لگاان میں سے ایک مجھے بہت بھایانام کچھ یوں تھا۔

’’اندلس کے باغات میں لختئی رقص‘‘ بمعہ چہار ہزلیات از نواب مسؤل امبیٹھوینصف درم خرچ کر میں وسطی طبقے میں جا بیٹھاپردہ سیمیں پہ عجب مناظر تھےعجب ابھی تھوڑی ہی دیر گزری تھی ، کہ برق خود مختار بعد از تبسم رخصت ہوئیہمیں وطن مالوف کی بہت یاد آئیجہاں ایسی ہی برکات و فیوض رئیس سلطنت کے دم قدم سے جاری تھیں صاحبو! اُن کانام نامی تو آپ بخوبی جانتے ہوں گےمیں نے نعرہ مستانہ بلند کیا تمام ناظرین وجد میں آ گئے اور رقص بسمل شروع کیا۔

موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ہم نے ٹکٹیں ان کی جیبوں میں اور نقدی و ماکولات اپنے جبہ میں منتقل کرنا شروع کیںپھر اسی ہاؤ ہو میں سے نکلےشہروالوں کی عاقبت ناندیشی پہ سخت تاسف کرتے کرتے آپ بھائیوں کی خدمت میں دوبارہ ھاضر ہوا شک نہیں کہ کبوتر با کبوترباز بہ بازباری تھی تیسرے درویش کیلیکن اس نے ہوشیار ریل مسافر کی طرح عین وقت پہ ایک ہزار رکعت نفل کی نیت کیتاکہ مالِ مسروقہ شریفہ میں درویش بھائیوں کو شامل کرنے کی نوبت نہ آئے کیا وقت آ گیا۔

کیسے لوگ چہرہ زمین پہ آن بسےاتنی حرصاتنا لالچالحفیظ و الامان دوسرے درویش کی ڈھنڈیا پڑیتو پتہ چلا کہ وہ پہلے درویش کی معیت میں پچھلی رات کا تمام مال غنیمت سمیٹ کر کب کے یاد خدا میں مصروف ہونے کو پہاڑ کی کھوہ کا رخ کر چکے نفل پڑھتے درویش نے کمر کے پٹکے کو اور زور سے باندھا اور سلام پھیرے بغیر ہی جانب مشرق برہنہ پا دوڑ لگا دی بقیہ پانچ درویشوں نے ایک دوسرے کی داڑھیاں اور جبے ہاتھوں میں لیے اور حال کھیلنے لگے وہ دن اور آج کادن سب درویش ویرانوں میں بستے ہیںہاں کبھی کبھار شہروں کا رخ کرتے ہیں تو براہ راست ایوانوں میں پہنچائے جاتے ہیں اور ہاتھوں ہاتھ لیے جاتے ہیں چلتے ہو تو صھرا کو چلیے والسلام مع الاکرام ۔…

Leave a Comment