حضرت انس ؓ نے پوچھا یا رسول اللہﷺآپﷺ کا جنازہ کون پڑھائے گاآنکھوں میں آ نسو آگئے

Hazrat Ans ny pucha

30سفر کو آنحضرت ﷺ کے مرض الوصال کی ابتدا ہوئی ۔ 8ربیع الاول کو بروز پنجشنبہ منبر پر بیٹھ کر خطبہ ارشاد فرمایا جس میں بہت سے امور کے بارے میں تاکید ونصیحت فرمائی ۔ 9 ربیع الاول شب جمعہ کو مرض نے شدت اختیار کی اور تین بار غشی کی نوبت آئی اس لئے مسجد تشریف نہیں لے جاسکے اور تین بار فرمایا کہ ابو بکر ؓ کو کہو کہ لوگوں کو نماز پڑھائیں چنانچہ یہ نماز حضرت ابوبکر ؓ نے پڑھائی اور باقی تین روز بھی حضرت ابوبکر صدیق امام رہے۔

چنانچہ آنحضرتﷺ کی حیات طیبہ میں حضرت ابوبکر ؓ نے سترہ نماز یں پڑھائیں جن کا سلسلہ شب جمعہ کی نماز عشاء سے شروع ہوکر 12 ربیع الاول دو شنبہ کی نماز فجر پر ختم ہوتا ہے حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ جب نبی کریمﷺ پر مرض مو ت کی کیفیت طاری تھی تو آپ ﷺ اپنی چادر کو بار بار چہرے پر ڈالتے جب کچھ آفاقہ ہوتا تو اپنے مبارک چہرے سے چادر کو ہٹا دیتے اپنی اسی پریشانی کی حالت میں فرمایا اللہ کی پھٹکار ہو یہود ونصاریٰ پر کہ انہوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کو مسجد بنا لیا تھا۔

، آپ یہ فرماکر امت کو انکے کارناموں سے متنبہ کررہے تھے علالت کے ایام میں ایک دن حضرت عائشہ ؓ کے گھر میں جو بعد میں آپﷺ کی آخری آرام گاہ بنی اکابر صحابہ ؓ کو وصیت فرمائی ۔ صحابہ کرام ؓ تشریف لائے تو آپﷺ نے فرمایا میرا تم سب کو سلام ہو جو میرے بعد میری امت آئے ان کو بھی میرا سلام کہنا ان کے بعد جو آئی ان کو بھی میرا سلام کہنا تھا ۔

آنحضرت ﷺ کی نماز جنازہ عام دستور کے مطابق جماعت کے ساتھ نہیں ہوئی اور نہ اس میں کوئی امام بنا ۔ حضرت انس ؓ نے پوچھا یا رسول اللہﷺ آپ کو غسل کون دے گا آپ ﷺ نے فرمایا میرے اہلبیت آپ ﷺ کو کفن کون دے گا آپﷺ نے فرمایا میرے اہل بیت آپ ﷺ کو قبر میں کون اتارے گا آپﷺ نے فرمایا میرے اہل بیت آپﷺ کا جنازہ کون پڑھائے گا ۔ تو آپﷺ کی آنکھوں میں آ  سو آگئے فرمایا جب مجھے غسل دے دو کفن پہنا تو سب باہر چلے جانا سب سے پہلے میرا اللہ مجھ پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے گا۔

پھر جبرائیل ؑ ومیکائیل ؑ میرے لیے دعا کریں گے پھر ساتوں آسمان کے فرشتے آئیں گے ۔ میرے لیے دعا کریں گے سب سے پہلے میرے اہلبیت کے مرد آئیں گے ۔ وہ میرے لیے دعا کریں گے پھر ان کی عورتیں آئیں گی وہ دعا کریں گی پھر ان کے بچے آئیں گے وہ دعا کریں گےپھر غلام آئیں گے پھر اس کے بعد مہاجرین آئیں گے پھر ان کے مرد آئیں گے پھر ا ن کی عورتیں آئیں گی پھر ان کے بچے آئیں گے پھر ان کے غلام آئیں گے اس کے بعد انصار آئیں گے۔

وہ دعا کرین گے پھر ان کی عورتیں آئیں گی پھر ان کے بچے آئیں گے پھر ان کے غلام آئیں گے اس کے بعد مجھے میرے اللہ کے سپرد کردینا۔ ابن اسحاق او ر دوسرے اہل سیر نے نقل کیا ہے کہ تجہیز وتکفین کے بعد آنحضرتﷺ کا جنازہ مبارک حجرہ شریف میں رکھا گیا پہلے مردوں نے گروہ درگروہ نماز پڑھی ، پھر عورتوں نے پھر بچوں نے آنحضرت ﷺ کو غسل حضرت علی کرم اللہ وجہ نے دیا حضرت عباس ؓ اور ان کے صاحبزادے فضل اور قثم ؓ ان کی مدد کررہے تھے نیز آنحضرتﷺ کے دو موالی حضرت اُسامہ بن زید اور حضرت شقران ؓ بھی غسل میں شریک تھے ۔ آنحضرتﷺ کو تین سحولی سفید کپڑوں میں کفن دیا گیا ۔

آنحضرتﷺ کے وصال کے روز تو آپﷺ کی چارپائی مبارک کے ساتھ لوگ قطار بنا کر کھڑے ہوتے تھے اور ہر ایک انفرادی طور پر آﷺ کے لیے دعا کرتا لہذا بدھ کے دن آپﷺ کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کیا گیا ۔ آپ کو حضرت ابن عباس اور حضرت علی ؓ اور آپﷺ کے غلام شکران نے قبر میں اتارا تو جب باہر نکلے قبر سے تو مغیرہ بن شعبہ قبر پر کھڑے تھے انہوں نے اپنی انگوٹھی اتار کر قبر میں پھینک دی۔

حضرت علی ؓ سے کہنے لگے علی ؓ میری انگوٹھی گر گئی ہے نکال لوں انہوں نے کہاں ہاں ابھی تو قبربند نہیں کی نکال لو نیچے گئے اور اللہ نبی ﷺ کے جسم سے لپٹ گئے اورآپﷺ کے بوسے لینے لگے اور دھاڑنے مارنے لگے وہ انگوٹھی بہانہ بنایا تھا اصل میں آپﷺ کے جسم سے لپٹنا چاہتے تھے تو لوگوں نے اوپر سے کہا کہ باہر نکلو۔تو آخری انسان جس کاجسم آپﷺ کے جسم سے لگا وہ مغیرہ بن شعبہ ؓ تھے پھر آپﷺ کی قبر مبارک پر مٹی ڈالی گئی۔

حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ حضرت بی بی فاطمہ ؓ کھڑی تھیں کہا کیسے تم نے دو جہاں کے رسول کو مٹی میں چھپایا کس طرح سے ان پر مٹی ڈالی پھر فرمایا یہی اللہ کا قانون ہے ۔ اس کے بعد اچانک یہ خبر ملی کہ انصار ،سقیفہ بنی ساعد میں جمع ہیں اور آپﷺ کی جانشینی کا مسئلہ درپیش ہے حضرت ابوبکر ؓ وعمر اور دیگر مہاجرین صحابہ کرام کو یہ خدشہ ہوا کہ مبادا عجلت میں کسی ایسے شخص کے ہاتھ پر بیعت نہ ہوجائے جس سے فتنہ برپا ہو۔

اور مسلمانوں کیلئے مصیبت نہ بن جائے حضرت ابوبکر صدیق ؓ حضرت عمر اور دیگر مہاجرین کی ساتھ وہاں تشریف لے گئے اول اول مسئلہ خلافت پر مختلف آراء پیش ہوئیں لیکن معمولی بحث وتمحیص کے بعد بالآخرحضرت ابو بکرصدیق ؓ کے انتخاب پر اتفاق ہوگیا اور تمام اہل وعقد نے ان کے ہاتھ پر بیعت کرلی۔

Leave a Comment