حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا دو کام جو انسان روزہ رکھ کرکرتا ہے اس پرخدا کی لعنت برستی ہے

Hazrat Ali ny fermaya:

حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں ایک شخص آکر پوچھنے لگا یا علی رمضان میں وہ کونسا انسان ہے جو روزہ بھی رکھے لیکن نہ اس کا روزہ قبول ہو نہ اس کی کوئی نیکی قبول ہو اور مسلسل اس پر اللہ تعالیٰ کی لعنت برستی ہو۔ تب حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے شخص! وہ انسان ہے جو رمضان کے مہینے میں روزہ رکھ کر دو کام انجام دیتا ہو تو اس شخص نےپوچھا یا علی وہ دوکام کونسے ہیں؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: پہلاکام وہ روزے میں جھوٹ بولتا ہو اور دوسرا کام وہ زمانے بے حیائی اور بدکار ی پھیلاتاہو۔

یاد رکھنا!رمضان کے مہینے میں جو انسان بے حیائی پھیلاتا ہے جھوٹ بولتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی لعنت اس پر مسلسل برستی رہتی ہے۔ او ر یوں نہ اس کا روزہ قبول ہوتاہے اور نہ ہی رمضان کے مہینے میں اللہ کی رحمت قریب آتی ہے۔ بے زبان کو وہ زبان دیتاہے۔ پڑھنے کو وہ پھر قرآن دیتاہے۔ بخشنے پر آئے جب امت کے گناہوں کو تحفے میں گنہا گاروں کو رمضان دیتاہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مجھے عبادت میں دوچیزیں پسند ہیں سرد موسم میں فجر کی نماز اور گرم موسم میں رمضان کے روزے ۔ روزے دار کے لیے دو خوشیاں ہیں ۔

ایک افطار کے وقت ، دوسری اپنے رب سے ملاقات کے وقت اور روزہ دار کے منہ کی بو اللہ تعالیٰ کے نزدیک مشک سے زیادہ پاکیزہ ہے۔ سحری میں برکت نبی کریم ﷺ نےفرمایا: سحری کھاؤکیونکہ سحری کھانے میں برکت ہے ۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا: جو شخص رمضان کا ایک روزہ بلا عذ ر شرعی (سفر اور مرض کے بغیر) چھوڑ دے ۔ مد ت العمراس کی تلافی کے لیے روزے رکھے ، تب بھی ایک روزے کی کمی پور ی نہیں ہوگی۔ زنگی کو رمضان جیسا بنا لو تو مو ت عید جیسی ہوگی۔

تین آدمیوں کی دعا رد نہیں ہوتی عادل حکمران کی ، مظلوم کی ، روزہ دار کی ( حتی کہ روزہ فطار کرلے )۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے ( روزہ رکھ کر بھی ) بد زبانی اور جھو ٹ نہ چھوڑا تو اللہ تعالیٰ کو اس کا کھانا پینا چھوڑ دینے کی کوئی ضرور ت نہیں ۔ حضرت سلیمان بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایاتم میں سے جو شخص روزہ دار ہو تو اس کو چاہیے کہ وہ کھجور سے افطار کرے۔

اگر کھجور نہ مل پائے تو پانی سے افطار کرلے ۔ کیونکہ پانی پاک کرنے والاہے۔ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: جب رمضان کا مہینہ آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں۔ اور شیاطین زنجیروں میں جکڑ دیے جاتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: سحری کھایاکرو کیونکہ سحری کھانے میں برکت ہے اوریقیناً اور اس کے فرشتے سحری کھانے والوں پر درود بھیجتے ہیں۔

Leave a Comment