یوسف ؑ کو دیکھ کر مصرکی عورتوں نے اپنی انگلیاں کیوں ک اٹ لیں

Yusaf ko dekh ker

اللہ تعالیٰ نے حضرت یو سف ؑکے قصے کو “احسن قصص”یعنی تمام قصوں میں اہم قصہ قرار دیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ حضرت یوسف ؑ کی مقد س زندگی، اتار چڑھاؤ، غم وسرور کے مدوجزر سے گزری ہے ۔ آپؑ کے ہر ایک واقع میں بڑی بڑی عبرتوں اور نصیحتوں کا سامان ہے۔ حضر ت یو سف ؑ کو ان کے سوتیلے بھائیوں نے ان کو ایک اندھیرے کنوئیں میں پھینک دیا ۔ اور اپنے باپ یعنی سیدنا یعقوب ؑ سے یہ جھوٹ بولاتھا۔ کہ حضرت یوسفؑ کو بھیڑیا کھاگیا۔

سیدنا یوسف ؑ کو جان سے مارنے کی بھائیوں کی یہ چال کامیا ب نہ ہوئی۔ اور حضرت یوسف ؑ کو ایک قافلے والوں نے اندھیرے کنوئیں سے نکالا۔اور اسی کنوئیں کے سربراہ نے بطور غلام بیچ ڈالا۔ تاریخی روایات میں لکھا ہے حضرت یوسف ؑ تین دن تک اندھیرے کنوئیں میں رہے۔ اتفاق یہ ہو ا کہ وہاں سے ایک قافلہ گزرا۔ جو مدین سے مصر جارہا تھا۔ جب اس قافلے میں شامل ایک آدمی جس کا نام مالک بن زعر زعی تھا پانی بھرنے کے لیے آیا۔ اور کنوئیں میں ڈول دیا۔ تو حضرت یوسف ؑ ڈول پکڑ کر لٹک گئے۔ مالک بن زعر نے ڈول کھینچا تو آپ کنوئیں سے باہر نکل آئے ۔

تو جب اس نے آپ کے حسن وجمال کو دیکھا۔ تو غلا م کہہ کر اپنے ساتھیوں کو خوشخبری سنانے لگا۔ اور قافلہ آپ کو لے کر مصر کی طرف روانہ ہوگیا۔ جب سیدنا یوسف ؑ کو بازار مصر میں لایاگیا۔تو ان کے حسن کے چرچے پورے شہر میں پھیل گئے۔ لوگ اس حسین وجمال غلام کو خریدنے کے لیے جمع ہونے لگے ۔ اور قافلے زیادہ سے زیادہ مالدار شخص کا انتظار کرنے لگے ۔ جو حضرت یوسف ؑ کی زیادہ سے زیادہ قیمت ادا کرسکے۔

بازار مصر میں تقدیرحیران وپریشان کھڑی دیکھ رہی تھی۔ کیسے مستقبل کا شاہ آج بازا ر مصر میں برائے فروخت ہے۔ تقدیر ، تفسیر کتبی میں لکھا ہے لوگوں نے بڑھ چڑھ کر قیمتیں لگانا شروع کیں۔ حضرت یوسفؑ بازار مصر میں اپنے وزن کے برابر سونے ، وزن کے برابر مشک، وزن کے برابر ریشمی کپڑے کے عوض فروخت ہوئے ۔ حضرت یوسف ؑ کو خریدنے والا شخص مصر کا وزیر مملکت تھا۔

جو خزانہ اور امور سلطنت سنبھالتاتھا۔ جب یوسف ؑ کو مصرکے بازار میں پیش کیا گیا۔ تو ان کا مثالی حسن دیکھ کر بہت سے امیر لوگ خریدار بن کرکھڑے تھے۔ جن میں امیر عورتوں کی تعداد بھی بہت زیادہ تھی۔اسی ہجوم میں ایک بوڑھی عورت بھی تھی۔ جس کے ہاتھ میں اون کی چھوٹی سے گچھی تھی۔ عورتوں نے پوچھا تم یہاں کیا کرنے آئی ہو؟ تو وہ بوڑھی عورت بولی میں بھی یوسف ؑ کو خریدنے آئی ہوں۔ اس بات سن کر ساری امیر عورتیں قہقہ لگانے لگیں۔

عزیز مصر نے حضرت یوسف ؑ کو خرید لیا۔ اور انہیں خوش خوش اپنے گھر لے آیا۔ اور اپنی بیوی کو نصیحت کی کہ اس کو بڑے پیار اور محبت سے رکھو۔ حضرت یوسف ؑ مصر عزیز کے محل میں بڑے سکون سے رہ رہے تھے۔ عزیز مصر آپ کی سچائی ، بردباری، اور امانت داری سے متاثر تھا۔ عزیز مصر میں کچھ ہی عرصہ گزرا تھا۔ کہ آپ شباب پر پہنچ گئے۔ عزیز مصر کی بیوی جس کانام زلیخا مشہور ہے۔ وہ آپ کے حسن پر فریفتہ ہوگئی۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کی نیت بدلنے لگی۔

اور آپ پرڈورے ڈالنے شروع کردیے۔ جب حضرت یوسف ؑ نے دیکھا کہ یہ عورت ش یطان کے چنگل میں پھنس کردعوت گن اہ پر بضد ہے۔ تو آپ نکلنے کے لیے دروازے کی طرف بھاگے۔ وہ آپ کو پکڑنے کے لیے پیچھے بھاگی۔ اس کے ہاتھ میں آپ کی قمیض کا پچھلا دامن آگیا۔جسے اس نے کھینچا تو وہ پھٹ گیا۔ حضرت یوسفؑ اس سے اپنے دامن بچانے کی کوشش میں تھے۔ تو اتنے میں اس کا عزیز مصر آگیا۔

اور زلیخا نے جب اپنے شوہر کودیکھا۔ اور معصوم بن گئی۔اور الزام لگایا۔ اور بولی جو شخص تیری بیوی کے ساتھ برا کرے تو اس کی سز ا یہ ہے کہ اسے قید کردیا جائے ۔ حضرت یوسفؑ نے جب دیکھا کہ ان پر الزام لگا دیا ہے۔ تو عزیز مصر کے سامنے حقیقت بیان کی ۔ عزیز مصر کے سامنے ایک بیوی تھی جس نے حضرت یوسفؑ پر بدکاری کا الزام لگادیا۔ تو دوسری طر ف حضرت یوسفؑ کی صداقت، سچائی ، امانت کا خود گواہ تھا۔

اور سوچنے لگا کہ ان میں کون سچا ہے۔ قرآن پاک میں ارشاد ہے کہ عورت کے گھرو الوں میں سے ایک گواہ نے گوہی دی ۔ اگر اس کا کرتا آگے سے پھٹا ہوا ہے ۔ تو عورت سچی ہے او ر وہ جھوٹا ہے۔اگر اس کا کرتا پیچھے سے پھٹا ہوا تو یہ جھوٹی ہے۔ تو جب حضرت یوسفؑ کاکرتا دیکھا تو یہ پیچھے سے پھٹا ہے۔ تب اس نے زلیخا سے کہا کہ یہ تمہار ا فریب ہے۔ کچھ شک نہیں کہ تم عورتوں کے فریب بڑے ہوتے ہیں۔ پھر عزیز مصر نے کہا یوسفؑ اس بات کا خیال نہ کر۔

اور زلیخا توا پنے گن اہ کی بخشش مانگ بے شک خطا تیری ہے۔ یوں حضرت یوسفؑ امتحان میں سرفراز ہوئے۔ اور اپنی پاکدامنی ثابت کرنے میں کامیا ب ہوئے۔ جب دوسری طرف زلیخا کے عشق کے چرچے شاہ مصر کے دربار خاص ہوتے ہوئے شہر بھر کی خواتین میں عام ہو گئے ۔ خواتین نے زلیخا کو بدنام اور لعن طعن کرنا شروع کردیا۔ جس کا ذکر قرآن کریم میں یوں کیا گیا۔ اور عورتوں نے شہر میں چرچا کیا کہ عزیز کی عورت اپنے غلام کو چاہتی ہے۔ اس کی محبت میں فریفتہ ہوگئی ہے۔

ہم تو اس کو صریح غلطی پر دیکھتے ہیں۔ زلیخا ان عورتوں کے طعنوں پر تنگ آگئی تو اس نے عورتوں کو اپنے گھر کھانے پربلایا۔ جب سب خواتین کھانے کی دعوت پرآگئی تو اس نے اس میں سے ہر ایک کو سیب اور چھری دی۔ تاکہ سیب کاٹ کھالیں۔ اور پھر سیدنا یوسف ؑ سے کہا ان کے سامنے چلے جاؤ۔ ان عورتوں نے جب حضرت یوسفؑ کو حسن وجمال کو دیکھا۔ تو دیکھتی رہ گئی۔ وہ حضرت یوسفؑ کے دیدار میں ایسے گم ہوئیں۔

اب انہوں نے سیب کاٹنے کے بجائے اپنے اپنے ہاتھ کاٹ دیے۔ اور بے اختیار کہنے لگی کہ سبحان اللہ ۔ یہ انسان ہرگز نہیں یہ یقیناً بہت بڑے بزرگ فرشتہ ہیں۔ جب زلیخا نے دیکھا یہ عورتیں تو خود یوسفؑ کے جلوے حسن سے اتنی گم ہوگئیں ہیں۔ تو اس نے کہا یہی وہ غلام ہے جس کے بارے میں مجھ پر ملامت کر رہی تھی۔ مبصرین لکھتے ہیں کہ وہ عورتیں بھی ان کی حمایتیں کرنی لگیں۔ جس کی وجہ سے زلیخا کو مزید حوصلہ ملا۔

اور وہ نڈر ہوگئی۔ اور وہ حضرت یوسفؑ کے خلاف سازشیں کرنے لگیں۔ اس کے واقعے کے بعد حضرت یوسفؑ کے حسن کے چرچے چہار جانب ہوگئے۔ ادھر کنیان میں حضرت یعقوبؑ ان کی یاد میں اشکبار ہورہے تھے۔ ادھر حضرت یوسفؑ مصر سے شاہ مصر بننے جارہے تھے۔

Leave a Comment