کیا زکوٰۃ سگے بھائی بہن کو دے سکتے ہیں؟

Kia zakat sagy behn bhaiyon ko dey sakty han?

ایک سوال ہے کیا زکوۃ سگے بہن بھائیوں کو دے سکتے ہیں ؟ ہم نے سنا ہے جو سگے خ ون والے رشتے ہوتے ہیں۔ ان کو زکوۃ نہیں دے سکتے ؟ اس کا جواب ہے زکوٰۃ بہن بھائیوں کو دے سکتےہیں۔ لیکن اپنے ان لوگوں کو نہیں دے سکتے ۔جس کا فائدہ آپ کو خود ہی ہوگا۔ یعنی والدین کو نہیں دے سکتے ۔ داد ا ، دادی ، نانی ، نانا ، پردادا،پردادا جن کواصول کہا جاتا ہے ان کو نہیں دے سکتے۔ کیونکہ اس میں مال اپنا ہی سمجھا جاتا ہے اولا د کو نہیں دے سکتے ۔

بیٹا ہے ،بیٹی ہے ، پوتا ہے، پوتی ہے، نواسی ہے نواسا ہے تو ان کو زکوٰۃ نہیں دے سکتے ۔ کیونکہ عرف میں ان کا مال جو ہے وہ اپنا سمجھا جاتا ہے اسی طرح میاں بیوی ایک دوسرے کو نہیں دے سکتے ۔ کیونکہ ان کا فائدہ ان کی طرف لوٹتا ہے۔ شوہر ویسے بیوی کھلاتا رہتا ہے۔بیو ی کے مالدار ہونےسے شوہر کو بھی فائدہ ہوتاہے۔ تو یہ رشتے ہیں۔ میاں بیوی ایک دوسرے کو نہیں دے سکتے ۔ اور اپنے باپ دادا اور نانا نانی اور ان کی اولا دوں کو نہیں دے سکتے ۔

اس کے علاوہ سب کو دے سکتے ہیں۔ بھائی بہن کو دے سکتے ہیں۔ بھتیجوں کو دے سکتے ہیں۔ بھانجیوں کو دے سکتے ہیں۔ ساس سسر کو دے سکتے ہیں۔ سسر اپنے داماد کودے سکتا ہے تو یہ سب جائز ہے ۔ بھائی بہن کو زکوۃ دینا میں ڈبل ثواب ہے۔ حضوراکرمﷺنے فرمایا: زکوٰ ۃ کا بھی ثواب اور صلہ رحمی رشتہ داری جوڑنے پر بھی ثواب ۔ بہرحال ہر طرح کے طبقوں میں زکوۃ تقسیم کرنی چا ہیے۔ قرآن نے بیان کیا ہے کہ سب میں زکوۃ دینی چاہیے۔

اسلام نے غرباء اور ضرورتمندوں مدد کے لئے اخلاق اور قانون دونوں سے کام لیا ہے۔ زکوٰۃ کی صورت میں نقد اور عشر کی صورت میں زمین سے پیدا ہونے والی اجناس پر مقرر و متعین شرح سے آمدنی کا ایک حصہ صاحب ثروت لوگوں سے قانوناً لیکر ضرورت مندوں کی کفالت کا بندوبست کیا اور یہ کام اسلامی حکومت کے اولین فرائض میں شامل کردیا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:”وہ لوگ کہ اگر ہم ان کو زمین میں اختیار و اقتدار دیں تو نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں اور نیکی کا حکم دیں اور برائی سے روکیں”۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے:”زکوٰۃ تو صرف ان لوگوں کے لئے جو محتاج اور نرے نادار (مسکین) ہوں اور جو اس کی تحصیل پر مقرر ہیں اور جن کے دلوں کو اسلام سے الفت دی جائے (اسلام کی طرف مائل کرنا ہو) اور (مملوکوں کی) گردنیں آزاد کرنے میں اور قرض داروں کو اور اللہ کی راہ اور مسافر کو، یہ ٹھہرایا ہوا (مقرر شدہ) ہے اللہ کی طرف سے اور اللہ علم و حکمت والا ہے”۔

Leave a Comment