روزہ کی حالت میں غسل کا طریقہ کیا ہے؟

Roza ki halat mai ghusal ka trika kia hai?

رمضان المبارک کے مہینے میں دن میں کسی کواحتلام ہو جائے تو اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا، اور احتلام کے بعد غسل کا وہی طریقہ ہے جو عام حالات میں ہے، البتہ روزہ کی وجہ سے ناک میں اوپر تک پانی نہیں ڈال سکتا اور نہ غرارہ کرسکتا ہے، صرف کلی کرلے اور ناک میں پانی ڈال لے توغسل صحیح ہوجائے گا، افطاری کے بعد غرارہ کرنے یاناک میں پانی چڑھانے کی ضرورت نہیں ہوگی روزہ کی حالت میں غسلِ جنابت کے لیے صرف منہ بھر کر کلی کرنا کافی ہے،لہذا افطار کے بعد غرغرہ کی ضرورت نہیں ہے۔

روزہ کی حالت میں غسلِ جنابت کے لیے ناک کے نرم حصے تک پانی چڑھانا کافی ہے،اِس سے پانی حلق تک نہیں پہنچتا۔البتہ پانی کا چلو ناک کے قریب کرکے پانی اوپر کھینچنا جائز نہیں۔انگلی تر کر کے بھی اگر ناک کے نرم حصے کو اندر سے تر کر لیا جائے تو بھی کافی ہے رمضان المبارک میں روزے کی حالت میں غسل لازم آجائے تو کس طرح نہانا چاہئے اس بارے میں شریعت کیا کہتی ہے؟ اس کا کیا طریقہ ہے۔

مضان المبارک میں روزے کی حالت میں اگر غسل لازم آجائے تو اس کی دو صورتیں ہیں ۱۔ روزہ رکھنے کے بعد سحری کرکے سوجائے اور نیند میں احتلام ہوجائے۔ دوسرا سحری کیلئے اٹھا تو اس وقت ناپاکی کی حالت میں تھا لیکن وقت کی کمی کی وجہ سے نہانے کا وقت نہیں تھا اور جلدی سے سحری کرلی اور اتنے میں سحری کا وقت ختم ہوجائےتو ہر دو صورت کا ایک ہی حکم ہے کہ اس صور میں غسل جنابت کرکے پاک ہوجائےغسل جنابت کا طریقہ:روزے کی حالت میں غسل جنابت کے وہی تین فرائض ہیں پہلا پورے جسم پر پانیڈالنادوسرا ناک میں پانی ڈالناتیسرا کلی کرنااحتیاط: اب روزے کی حالت میں غسل کرتے وقت ناک میں اوپر اوپر تک پانی ڈالے گا اوپر پانی نہیں چڑھائے گاکلی بھی مختصرسی چھوٹی سی کرے گا ۔

غرارے نہیں کرے گااگرغرارے کرنے کی صورت میں پانی حلق یا دماغ تک چلا گیا تو اس سے روزہ فاسد ہوجائے گا اور اسکی قضا لازم ہے اس لئے روزے کی حالت میں صرف پورے جسم پر پانی ڈال کر تین چھوٹی سی کلیاں اور تین بار ناک میں مختصر سا پانی ڈالیں گے جو زیادہ اوپر نہ جائے۔

Leave a Comment