حضرت علی ؓ نے فر ما یا تین نشانیاں نظر آ ئیں تو سمجھ جاؤ مو ت قریب ہے۔

Hazrat Ali ny fermaya teen nishaniyan nazer aaeyn to samjh jao moat qareeb hai

حضرت علی ؓ کی عظیم ہستی وہ ذاتِ پاک ہے جن کے بارے میں رسول ِ پاک ﷺ نے ارشاد فر ما یا تھا کہ جس جس کا میں مولا ہوں اس کا علی مو لا ہے اور پھر ایک جگہ پر یہ کہا کہ میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہے اسی لیے آپ ؓ کو آج تک باب العلم جیسے لقب سے یا دکیا جا تا ہے آپ کی ذاتِ مبارکہ بے نظیر ہے آپ کی زبانِ مبارک سے مختلف اوقاتوں میں جھڑنے والے پھولوں کی ایک ایک پتی نصیحت سے لبر یز ہے جس کی خوشبو آج بھی چودہ سو سال گزر جانے کے بعد چار سو عالم میں پھیلی ہو ئی ہے۔

اور اس خوشبو سے خوب فائدہ اٹھا تے ہیں حضرت علی ؓ کا ایک معمول تھا کہ وہ علمی مجالس سجا کر بیٹھ جا تے اور لوگوں کی جانب سے پوچھے گئے زندگی کے متعلق مختلف سوالات کے جوابات دیتے ۔ ایسے ہی ایک مجلس میں مولا علی علم و دانش کے مو تی بکھیر رہے تھے کہ ایک شخص آ یا اور پو چھنے لگا کہ یا علی مجھے یہ بتائیے کہ میری مو ت قریب آ نے کی نشانیاں کیا ہیں میں کس حال میں اور کہاں مر و ں گا۔

ایک اور واقعات میں یہ واقعہ ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے اس نے یہ سوال پو چھا کہ یا علی مجھے یہ ارشاد کیجئے کہ کون لوگ جلدی مر جا تے ہیں اور کس عادت کے سبب لوگ زیادہ لمبی عمر پاتے ہیں۔اس تجسس سے بھر پور اور بظاہر مشکل نظر آ نے والے سوال کا جواب خوبصورتی سے دیا آج آپ کو بتا ئیں گے لیکن اس کی تفصیل میں جانے سے پہلے آپ سے گزارش ہے کہ میری ان باتوں کو بہت ہی زیادہ غور سے سنیے گا تا کہ آپ کو بہت ہی زیادہ فائدہ حاصل ہو سکے آپکو۔

اس میں جب ایک شخص نے یہ سوال کیا کہ یا علی مجھے یہ بتا دیجئے کہ مو ت آ نے کی نشانیاں کیا ہیں کون لوگ اپنی کن عادات کی وجہ سے جلدی ر جا تے ہیں تو حضرت علی ؓ نے مسکرا کر جواب دیا کہ اے شخص جو بھی آدمی اپنی نگاہوں کو ادھر اُدھر گھما تا رہتا ہے۔

دنیاوی خواہشات کے پیچھے بھاگتا رہتا ہے تو وہ اپنی مو ت کو اپنی جانب مائل کر تا ہے کیونکہ ایسا شخص اپنی خواہشات کی فراوانی کے سبب اکثر فکر مندی اور پریشانیوں میں مبتلا رہتا ہے اور بیماریوں میں گھر جا تا ہےا ور مو ت کا شکار بن جا تا ہے مگر اس کے بر عکس جو انسان اپنی نگا ہیں جھکا کر رکھتا ہے اس کی مو ت جو ہے وہ جلدی اس کو نہیں آ پا تی کیونکہ اس کا جو ذہن ہے وہ پریشانیوں سے پاک ہوتا ہےا سے کسی بھی قسم کی کو ئی پریشانی نہیں ہو تی۔

Leave a Comment