رمضان کے مہینے میں چلتے پھرتے اللہ کا ایک نام “اللہ الصمد پڑھنے سے کیسے تقدیر بدل جاتی ہے

Ramzan k maheeny mai chalty phrty Allah ka aik naam

ایک ایسا عمل ہے جس کو آپ نے رمضان المبارک میں چلتے پھرتے اس ذکر کو کرنا ہے۔ “اللہ الصمد” ہے۔ وہ ذکر ہے اور کس طرح سے آپ نے اس کو کرنا ہے ۔ کیا کیا آپ کو اس کے فائدے حاصل ہوں گے؟ آپ کو حیران کن فائدے اس کے حاصل ہوں گے ۔ چلتے پھرتے آپ نے اس ذکر کو کرنا ہے۔ انشاءاللہ! آپ دیکھیں گے کہ کس طرح آپ کے تمام تر پریشانیاں ختم ہوں گی۔

اور اس کے علاوہ جو بھی اکابرین کے تجربہ ہیں۔ جب آپ روزانہ کی بنیا د پر اس ذکر کو کریں گے۔ تو آپ نے ایک اور عمل کونسا ایسا کرنا ہے۔ جس کو کرنے کے بعد آپ کا انشاءاللہ ! اللہ کے حکم سے کامل یقین تک پہنچے گا۔ اور آپ کی جو دعا ہے جو حاجت ہے۔ وہ ضرور باضرور قبول ہوگی۔ آج کو جو عمل ہے وہ ایک ذکر “اللہ الصمد ” کے ساتھ ہے۔ آپ نے ذکر کو رمضان الکریم میں چلتے پھرتے ، اٹھتے بیٹھتے پڑھنا ہے۔ “اللہ الصمد” کا مطلب ہے۔ اللہ معبو د برحق خدائے تعالیٰ معبود حقیقی جو ہر چیز سے بے نیاز ہو۔ یعنی اللہ تعالیٰ وہ ذات جو کسی کی چیز کی محتا ج نہ ہو۔

ہر چیز سے پاک ہو۔ سونےسے پاک ،کھانے پینے سے پاک،مگر عطا کرنے پر قاد ر ہو۔ ایسی ذات کو “اللہ الصمد” کہاجاتا ہے۔ یعنی جو کسی کا محتا ج نہ ہو۔ سب اس کے محتا ج ہوں ۔ وہ کسی کا محتا ج نہ ہو۔ آج کا عمل بہت خوبصورت ہے۔ “اللہ الصمد ” کو اسمائے اعظم بھی کہاجاتا ہے۔ جو بھی انسان چلتے پھرتے اٹھتے بیٹھتے “اللہ الصمد” کا ذکر کرے گا۔ اللہ تعالیٰ اس کے زبان سے نکالے ہوئے ہر الفاظ کو پورا فرمائیں گے ۔ اس کے ہر دعا کو قبول فرمائیں گے ۔ اس کے علاوہ روزانہ کی بنا ء پر ساراد ن اس کو پڑھ کر جب آپ لیٹنے کاوقت آئے تو آپ آنکھوں کو بند کریں گے۔

آپ آنکھوں کو بندکرکے اللہ سے دعا کریں گے ۔ اے میرے پروردگار! آپ بے نیاز ہیں۔ ہر چیز کی طاقت آپ کے اختیار میں ہے۔ اور یہ گمان اپنے دل میں لانا ہے۔ کہ میرا للہ ہر چیز پرعطا کرنے پر قادر ہے۔ میرا اللہ بے نیاز ہے۔ ہر چیز پر قادر ہے۔ ہر چیز جو ہے اس کی محتاج ہے وہ کسی کا محتا ج نہیں ۔ جو بھی آپ کی حاجت ہے آپ نے آنکھیں بند کرنی ہیں۔ آنکھیں بند کرکے اس حاجت کو تصور میں لاتے ہوئے اپنے اللہ سے انشاءاللہ یہ دعا مانگنی ہے۔کہ اللہ تعالیٰ میں یہ گمان کرتا ہوں کہ آپ محتا ج نہیں ہیں کسی چیز کے۔

آپ مجھے اسے عطاکرنے پر قادر ہیں۔ انشاءاللہ ! آپ دیکھیں گے کہ اللہ تعالیٰ انسان کے گمان کے مطابق اس کے ساتھ معاملا ت فرماتے ہیں۔ انسان کے گمان کے مطابق اس کو عطافرماتے ہیں۔ انشاءاللہ ! آپ دیکھیں گے جو بھی آپ نے مانگا ہوگا۔ اللہ تعالیٰ صبح ہونےسے پہلے آپ کو عطا فرما دے گا ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتے ہیں۔ “کہ میں انسان کے ساتھ اس کے گمان کے مطابق فیصلہ کرتاہوں۔انسان کے اختیار میں تقدیر کوبدلوانے کا فیصلہ اللہ نے رکھ دیا ہے۔ انسان چاہے تو اللہ سے کچھ بھی حاصل کروا سکتا ہے ۔

Leave a Comment