رمضان المبارک میں جس گھر کے اندر دس بار سورۃ اخلاص پڑھی جاتی ہے وہاں کیا ہو تا ہے؟

Ramzan ul mubarik mai jis gher k ander

ہر کام کا موسم ہوتا ہے اور اپنے اپنے متعلقہ کاموں کے موسم کا لوگوں کو انتظار رہتا ہے کیونکہ اس کے نفع بخشی سے کاربارِ زندگی میں رونق آتی ہے اور اس کے اثرات باقی رہتے ہیں ایمان والوں کو بھی ایک موسم کا انتظار رہتا ہے اور وہ موسم ہے نیکیوں کا موسمِ بہار ہے جسے ہم رمضان المبارک کے نام سے جانتے ہیں اسی لیے اللہ پاک کا کروڑوں احسان ہے کہ اس نے ہمیں اس ماہِ رمضان جیسی نعمت سے سرفراز فر ما یا ماہِ رمضان کے فیضان کے کیا کہنے اس کی تو ہر گھڑی رحمت بھری ہے ہر نیکی کا ثواب ستر گنا یا اس سے بھی زیادہ ہے۔

نفل کا ثواب فرض کے برابر اور فرض کا ثواب ستر گنا کر دیا جا تا ہے عرش اٹھانے والے فرشتے روزے داروں کی دعا پر آمین کہتے ہیں اور فرمانِ مصطفیٰ ﷺ کے مطابق رمضان کے روزہ دار کے لیے سمندر کی مچھلیاں روزہ دار کے لیے افطار تک دعا ئے مغفرت کر تی رہتی ہیں حضرت سیدنا ابو سید خدوی ؓ سے روایت ہے کہ مکی مدنی سلطان رحمتِ عالمیان ﷺ کا فر مان ِ رحمتِ نشاں ہے جب ماہِ رمضان کی پہلی رات آ تی ہے تو آسمانوں کے دروازے کھول دئیے جا تے ہیں اور آخری رات تک بند نہیں ہو تے جو کوئی بندہ اس ماہِ مبارک کی کسی بھی رات میں نماز پڑھتا ہے۔

تو اللہ تعالیٰ اس کے ہر سجدے کے عوز یعنی بدلے میں اس کی پندرہ سو نیکیاں اس کے لیے پندرہ سو نیکیاں لکھتا ہےا ور ا سکے لیے سرخ یاقوت کا گھر بنواتا ہے رمضان کا پہلا روزہ رکھتا ہے تو اس کے گ ن ا ہ معاف کر دئیے جا تے ہیں اور اس کے لیے صبح سے شام تک ستر ہزار فرشتے دعائے مغفرت کر تے ہیں اور رات اور دن میں جب بھی وہ سجدہ کر تا ہے تو اسے ہر سجدے کے بدلے جنت میں ایک ایسا درخت عطا کیا جا تا ہے کہ اس کے سائے گھڑ سوا ر پانچ سو برس تک چلتا ہے اللہ تعالیٰ باقی مہینوں میں بھی ہم سب کو ہماری نیکیوں کا ثواب دیتا ہے لیکن اس ماہ میں ہماری معمولی نیکی کا ثواب بھی ستر گنا بڑھا دیتا ہے۔

جس سے معلوم ہو تا ہے کہ اس مہینے میں ہم پر اللہ کی کس قدر خاص عنایت ہے۔ یقین مانیے اگر ہم رمضان میں صرف چار بار سورۃ اخلاص پڑھیں ہر نماز کے بعد تو اس کا اتنا ثواب ملتا ہے کہ آپ سوچ بھی نہیں سکتے۔ جس نے سورۃ اخلاص کی تلاوت کی اس نے ایک تہائی قرآن ختم کیا اور اس کی تلاوت کرنے والے کے نامہ اعمال میں ایمان لانے والوں کی تعداد سے دس دس گنا نیکیاں درج کی جا ئیں گی حضرت محمد ﷺ نے ارشاد فر ما یا کیا تم سونے سے ایک تہائی قرآن نہیں پڑھ سکتے ؟ اس پر اصحاب نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ ﷺ یہ کام مشکل معلوم ہو تا ہے۔ آپ ﷺ نے ارشاد فر ما یا سونے سے پہلے سورۃ اخلاص کی تلاوت کیا کرو۔

Leave a Comment