موچی کی دلچسپ داستان، سبق آموز قصہ

Mochii ki Dilchasp Dastan

کوفہ شہر کے ایک محلے کے گھر میں سویا ہوا آدمی رات کو اٹھ کر بڑ بڑانے لگا اور انتہائی غصہ کی حالت میں اس گھر کی طرف چلنے لگا جہاں سے شور شرابے کی آوازیں آ رہی تھیں۔
اف ………خدایا ، یہ کیسا شور ہے ؟ساری نیند کا بیڑا غرق کر دیا۔ اس منحوس کو کہا بھی تھا۔ شراب پی کر اپنے ساتھیوں کے ساتھ غل غپاڑہ ہی کرنا ہی ہوتا ہے تو کہیں اور جا کر کر لیا کرو۔ لیکن مجال ہے اس موچی کو کسی بات کا اثر ہوا ہو۔

اس آدمی نے موچی سے کہا کہ اوئے موچی !اپنی بکواس بند کرو اتنا شور کرتے ہو کہ سارے محلے کا ناک میں دم کر رکھا ہے تم ایک بہت کمینے انسان ہو بدتمیز کہیں کے۔ نیند کا مارا ہوا آدمی موچی کے گھر کے باہر کھڑا ہو کر اونچی آواز میں موچی کو کوسنے لگااوئے جا۔ جا۔ اپنا کام کر بڑا آیا مجھے سمجھانے۔ اپنی زبان کو لگام دے ورنہ تیرا سر پھاڑ دوں گا۔ موچی نشے کی حالت میں گھر سے باہر نکل کر اپنے سامنے کھڑے شخص کو دھمکی دیتے ہوئے بولا۔

تجھے اللہ ذلیل و خوار کرے کمینے شرابی۔۔۔ آدمی موچی کی بات سنتے ہی غصہ سے پاؤں زمین پر پٹختے ہوئے اپنے گھر کی طرف روانہ ہوگیا۔وہ کمزور جسامت۔۔۔ سانولے رنگ کا درمیانہ قد والا ایک موچی تھا۔ جو دن کو بازار میں لوگوں کی جوتیاں گانٹھنے کا کام کرتا اور جو پیسے بچتے اس کی شراب خریدتا اور رات کو اپنے دوستوں کو مدعو کر کے رات بھر غل غپاڑہ کرتا اس موچی کی حرکت سے سارے محلے والے تنگ تھے۔ محلے کے لوگ اس کی خوب بے عزتی کرتے لیکن وہ کسی کی بات کو خاطر میں نہ لاتا اور زیادہ شدت سے ساری ساری رات شراب پی کر اپنے دوستوں کے ساتھ شور مچاتا۔

اگلے دن سارا محلہ ایک جگہ اکٹھا تھا۔ اور موچی کی اس حرکت پہ نوحہ کناں تھا لیکن موچی اپنی حرکت سے باز آنے کی بجائے پوری ڈھٹائی کے ساتھ اپنی حرکت جاری رکھے ہوئے تھا۔ محلے کا معتبر آدمی اپنے محلے والوں کے سامنے جوشیلے انداز میں بولتا جا رہا تھا کہ ساتھیو!اگر موچی سے نجات حاصل کرنی ہے تو اس کو پکڑ کر خوب دھلائی کرو تاکہ اس کو سبق سکھایا جا سکے۔ ہم تو اس کی روز روز کی قبیح حرکتوں سے تنگ آچکے ہیں۔ ہمارے بچے رات کو موچی کا شور سن کر اٹھ جاتے ہیں اور روتے رہتے ہیں۔ موچی کی اس حرکت سے محلے والے ذہنی مریض بن چکے ہیں۔

سارا محلہ بیک زباں بولا اور اپنے معتبر آدمی کی تائید کرنے لگا کہ ہاں ہاں!! بالکل ٹھیک کہا آپ نے۔ اس موچی کے بچے کو ضرور سبق سکھانا چاہیے۔ یہ سمجھتا کیا ہے اپنے آپ کو ہم مزید اس کی غنڈہ گردی برداشت نہیں کر سکتےلیکن دوستو!اس طرح لڑائی جھگڑا ہوگا۔ موچی کے دوست بھی اس کا ساتھ دیں گے۔ ہمارے محلے میں دشمنی پھیل جائے گی۔ موچی کی پٹائی کرنے سے بہتر ہے پولیس کو رپٹ درج کروائی جائے۔

اس طرح پولیس اس کو اور اس کے دوسرے ساتھیوں کو گرفتار کر لے گی۔ آگے پولیس والے جانیں اور اس کا کام۔۔۔ کیوں ٹھیک کہا نا میں نے ؟لوگوں کے آخر میں کھڑا ہوا ایک شخص بولا تو سارے اس کی اس تجویز پہ متفق ہو گئے۔اگلے روز سارا محلہ تھانے کے باہر کھڑا تھا اور موچی کے خلاف احتجاج کر رہا تھا۔ پولیس نے موچی کے خلاف مقدمہ درج کر کے شراب پی کر غل غپاڑہ مچانے کے الزام میں اسے او راس کے دوسرے ساتھیوں کو گرفتار کر کے حوالات میں بند کردیا۔

موچی کے گھر کے ساتھ والی گلی سے ایک نورانی چہرے والے شخص نے ایک آدمی سے دریافت کیا کہ ارے بھائی !کل رات موچی اور اس کے ساتھیوں کے شور مچانے کی آواز نہیں آئی کیا وہ اپنی حرکات سے باز آگیا ہے ۔موچی کمبخت اپنی حرکتوں سے باز نہیں آیا محلے والوں نے پولیس کو شکایت کر کے اسے گرفتار کر ادیا ہے۔ اچھا ہوا کمبخت جیل میں رہے گا تو اس کے ہوش ٹھکانے آ جائیں گے اور پتہ چلے گا کہ دوسروں کو کیسے تنگ کیا جاتا ہے یہ کہتے ہوئے وہ شخص آگے بڑھ گیا۔ جبکہ نورانی چہرے والا شخص یہ سن کر پریشان ہوگیا۔

نورانی چہرے والے شخص نے اپنے کچھ ساتھیوں کو ہمراہ لیا اور سیدھا تھانے پہنچ گیا۔ تھانے کے اعلیٰ حکام سب اس شخص کو جانتے تھے اور اس کے شاگرد بھی تھے سب اس شخص کو دیکھتے ہی احتراماً کھڑے ہوگئے تھانے میں موجود ہر شخص آنے والے شخص کو دیکھ کر حیران تھا۔پولیس کے ایک اعلیٰ آفیسر نے بڑے مودبانہ انداز میں آنے والے شخص سے پوچھا کہ جی۔ آپ کس کام کے لیے تشریف لائے ہیں اے میرے استاد!آنے والے شخص نے سنجیدگی سے کہاکہ میرے محلے کے ایک موچی کو شراب پی کر شور شرابا مچانے کے جرم میں کل پولیس گرفتار کر کے لائی ہے۔ میں چاہتا ہوں اسے میری ضمانت پر رہا کردیا جائے۔

جی بہت اچھا !ہم آپ کی بات کا بھلا کیونکر انکار کر سکتے ہیں ؟ موچی اور اس کے دیگر ساتھیوں کو رہا کیا جاتا ہے۔ پولیس آفیسر نے حکم نامہ جاری کیا۔ آنے والا شخص تھانے کے گیٹ پر موچی کا استقبال کرنے کے لیے خود کھڑا تھا۔ موچی نے رہا ہوتے ہی آپ کو دیکھا تو حیران رہ گیا وہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ اپنے دور کا اتنا بڑا عالم اس کی سفارش کر کے اپنی ضمانت پر رہا کروانے خود آئے گا۔

اب آنے والا شخص بڑے اچھے انداز میں موچی کو سمجھا رہا تھا جبکہ موچی شرم کے مارے پانی پانی ہو رہا تھا۔ بالآخر موچی نے اپنا جھکا ہوا سر اوپر اٹھایا اور کہا اے میرے سردار اے میرے آقا میں آج سے شراب پینے سے آپ کے سامنے سچی توبہ کرتا ہوں اور وعدہ کرتا ہوں آئندہ آپ مجھے کسی بری حرکت میں مبتلا نہیں دیکھیں گے اللہ آپ کو جزائے خیر دے یہ کہہ کر موچی اور اس کے دیگر ساتھیوں سے شراب پینے سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے توبہ کر لی۔

پھر موچی اس شخص کی علمی مجالس میں بیٹھنا شروع ہوگیا اور بالآخر اس موچی کا شمار کوفہ کے بڑے بڑے عالموں میں ہونے لگا۔ آپ جانتے ہیں کہ موچی کو رہا کروانے والی شخصیت کون تھی ؟نہیں ناں تو ہم آپ کو بتاتے ہیں وہ شخصیت سیدنا امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی تھی جس نے موچی کو رہا کروا یا اور موچی نے آپ کی نصیحت سے متاثر ہوکر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے شراب پینے سے توبہ کر لی۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو امام صاحب کی پیروی کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

Leave a Comment