اللہ سے دوستی تو لگاؤ پھر دیکھو وہ کیا کرتا ہے

Allah sy dosti to lagaoo

اس اللہ سے جوڑو۔ اس اللہ سے مانگو۔ اس اللہ کے سامنے سر جھکاؤ۔ اس کے آگے سجدوں میں سررکھو۔ اس کے لیے ہاتھ اٹھا کر مانگوں گا۔ اللہ کی قسم ۔ وہ سنے گا۔ فرماتا ہے : کہ مجھے وکیل تو بنا پھر دیکھنا میں کیاکرتاہوں۔ مجھ سے دوستی لگا کر دیکھ میں کیاکرتا ہوں۔ مجھے حفاظت لے کر آ۔ سارے پہرے دار مارے جاتے ہیں۔ سار ے سردار مارے جاتےہیں۔ میرا اللہ کہتا ہے مجھے حفیظ بنا دیکھ میں موسی ؑ کو فرعون کی گو د میں پال کر دکھایا۔

اسماعیل ؑ کو چھری کے نیچے سے نکال کردکھایا۔ ابراہیمؑ کو آگ کے ڈھیر پر پال کے دکھایا۔ مریم بن باپ کے بیٹا دے کر دکھا یا۔ آدمؑ کو مٹی کےپتلے سے انسان بنا کر دکھایا۔ حوا کو اس کی پسلی سے نکال کر دکھایا۔ یہ سب میرے رب کے کرشمے ہیں۔ مجھے ایک بار بنا دیکھ میں تیری حفاظت کیسے کرتا ہوں؟ پہلے تو یہ رخ ہے اللہ تعالیٰ کا ۔ میں تمہارے لیے وکیل بن جاؤں کافی ہوں۔ حفیظ بن جاؤں کافی ہوں۔ نگہبان بن جاؤں کافی ہوں۔ دوست بن جاؤں کافی ہوں۔ کسی دوست کی ضرورت نہیں ۔

بس اللہ کافی ہے۔ پھر کہتا ہے مجھے جب دوست بناؤ گے پھر تم دیکھو گے میں اکیلا ہی کافی ہوجاؤں گا۔ پھر جب وہ دیکھتا ہے کبھی ہم سے کبھی غیروں سے شناسائی ہے۔ کبھی میرے سامنے تو کبھی مخلوق کے سامنے ۔ پھر اللہ تعالیٰ یہ آیت اتارتا ہے ۔ میرے بندے کیا میں اکیلا کافی نہیں ہوں۔ میرے اکیلے پر اعتبار نہیں ۔کیا میں اکیلا کافی نہیں ہوں۔ میری طاقت کو بھول گئے ہو۔ کہتے کہ ہماری سنتا ہی نہیں ۔ یہ کس نے کہا وہ تو کہتا ہے میں قربان جاؤں۔ اس نے توتقوی ٰ کی شرط نہیں لگائی۔

اس نے ایمان کی شرط بھی نہیں لگائی۔ اس نے ایمان کی شرط بھی نہیں لگائی۔ اس نے کہا کہ میرے ساتھ ایک کام کرلو۔ اگر نہ کروں تو پھر کہنا۔ مسلم اور مشرک کی قید نہیں لگائی ۔ میرے سامنے تڑپ کے آجا۔ اور میرے سامنے آہیں بھر کے آنسوؤں بہا کر مانگ پھر نہ دیکھو گا کہ تم مسلم ہے یا کافر ہے۔ یہ تو آج ہمارے نادان لوگ ہیں ہمارے سنتا نہیں۔ تو تمہاری کیسے سنے گا۔ وہ تو بے نیا ز ہے ۔ وہ تو صمد ہے ۔ وہ کہتا ہے کہ مانگ تو صیحح ۔ میرے بندے مانگ کے دیکھ میں نے کب کہاں میں نہیں سنتا۔

Leave a Comment