دعائے تراویح

Duaey Trawee

“سُبْحَانَ ذِی الْمُلْکِ وَ الْمَلَکُوْتِ ط سُبْحَانَ ذَی الْعِزَّ ۃِ وَ الْعَظْمَۃِ وَ الْھَیْبَۃِ وَالْقُدْ رَ ۃِ وَالْکِبْرِ یَاءِ وَ الْجَبَرُوْتِ ط سُبْحَانَ الْمَلِکِ الْحَیِّ الَّذِیْ لَا یَنَا مُ وَلَا یَمُوْتُ ط سُبُّوْحٌ قُدُّ وْسٌ رَّبُّنَا وَرَبُّ الْمَلٰکَۃِ وَ الرُّ وْحِ ط اَ للّٰھُمَّ اَجِرْنَا مِنَ النَّارِ ط یَامُجِیْرُ یَامُجِیْرُ یَامُجِیْرُ ط”

ترجمہ : ” پاک ہے وہ زمین کی بادشاہی اور آسمانوں کی بادشاہی والا۔ پاک ہے وہ عزت اور بزرگی اور ہیبت اور قدرت والااور برائی اور دبدبے والا۔ پاک ہے بادشاہ (حقیقی)زندہ ہے جو سوتا نہیں اور نا مرے گا۔ بہت ہی پاک (اور) بہت ہی مقدس ہمارا پروردگار اور فرشتوں او رروح کا پروردگار الہٰی ہم کو دوزخ سےپناہ دے ۔ اے پناہ دینے والے ، اے پناہ دینے والے، اے پناہ دینے والے”۔
نماز تراویح کا پڑھنا مرد و عورت سب کے لئے سنت مؤکدہ ہے۔ اس کا چھوڑنا جائز نہیں اور تراویح کی جماعت سنت علی الکفایہ ہے۔ یعنی اگر تمام لوگ باجماعت نہ پڑھیں تو گن اہگار ہوں گے اور اگر کچھ لوگ باجماعت ادا کر لیں تو گن اہ نہیں۔

قیامِ رمضان کی بڑی فضیلت ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کو رمضان کی راتوں میں نماز پڑھنے کی ترغیب دیا کرتے تھے۔ نماز تراویح کا وقت عشاء کی نماز کے بعد وتر سے پہلے ہوتاہے اور رات کے آخری حصے میں پڑھنا افضل ہے۔ تراویح میں ہر چار رکعت کے بعد جو دعا مشہور ہے وہ کسی روایت اور حدیث میں ایک ساتھ نہیں ملتی ،البتہ ٹکڑے ٹکڑے میں مل جاتی ہےجوڑنے سے یہی دعا بن جاتی ہے۔

ہر چار رکعت کے بعد تھوڑی دیر بیٹھنا مستحب ہے اور اس دوران اس دعا کا پڑھنا ضروری نہیں ،تسبیح و تہلیل،درود شریف اور دعائے ماثور وغیرہ کچھ بھی پڑھا جاسکتا ہےآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’جس نے رمضان المبارک میں حصول ثواب کی نیت اور حالتِ ایمان کے ساتھ قیام کیا تو اس کے سابقہ (تمام) گن اہ بخش دیے جاتے ہیں۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ تراویح کی کل آٹھ رکعات ہیں، جب کہ صحیح قول کے مطابق تراویح کی کل بیس (20) رکعات ہیں۔

اُمّ المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسجد میں (نفل) نماز پڑھی تو لوگوں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی.پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اگلی رات نماز پڑھی تو اور زیادہ لوگ جمع ہوگئے، پھر تیسری یا چوتھی رات بھی اکٹھے ہوئے لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کی طرف تشریف نہ لائے۔ جب صبح ہوئی تو فرمایا: میں نے دیکھا جو تم نے کیا اور مجھے تمہارے پاس (نماز پڑھانے کے لئے) آنے سے صرف اِس اندیشہ نے روکے رکھا کہ یہ تم پر فرض کر دی جائے گی. یہ واقعہ رمضان المبارک کا ہے۔

Leave a Comment