اللہ تعالیٰ کا وعدہ نبی ﷺ سے اگر آپﷺ کی امت کو جہنم میں ہی ڈالنا ہوتا تو رمضان نہ بناتا

Allah ka wada

رمضان کا مہینہ مسلمانوں کیلئے خاص اور انتہائی مقدس ہے جس میں عبادت بڑھ جاتی ہے اور نیکی کی جستجو بھی، تراویح جیسی اجتماعی عبادت کا خاص اہتمام کیا جاتاہے۔ ہر سال کی طرح اس سال بھی دنیا بھر کے مسلمان اس ماہِ مقدس کا اہتمام کر رہے ہیں۔رمضان کی پہلی رات کو شیاطین اور سرکش جنات کو باندھ دیا جاتا ہے۔ جہنم کے تمام دروازے بند کردیئے جاتے ہیں اور جنت کے تمام دروازے کھول دیئے جاتے ہیں۔

ایک فرشتہ اعلان کرتا ہے کہ اے بھلائی کے چاہنے والے آگے بڑھ اور دیر نہ کر۔ اے شر کے چاہنے والے رُک جا۔ رمضان کی ہر رات اﷲ تعالیٰ لوگوں کو جہنم سے آزاد کرتے ہیں (سنن ابن ماجہ)۔ حضرت سہل بن سعد ؓ سے روایت ہے کہ جنت کا ایک دروازہ جس کا نام ریان ہے۔ جس سے قیامت کے دن صرف روزے دار گزریں گے ان کے علاوہ اس دروازے سے کوئی دوسرانہیں گزرے گا۔

اﷲ تعالیٰ نے رمضان کے مہینے میں روزے فرض قرار دیئے ہیں اور قیام الیل(مسنون تراویح) کو نفل قرار دیا ہے جو شخص اس مہینے میں دل کی خوشی سے بطور خود کوئی ایک نیک کام کرے گا وہ دوسرے مہینوں کے فرض کے برابر اجر و ثواب پائے گا اور جو شخص اس مہینے میں ایک فرض ادا کرے گااﷲ تعالیٰ اس کو دوسرے مہینوں کے ستر فرضوں کے برابر ثواب بخشے گا۔

اﷲ تعالیٰ اپنے بندوں کے کسی بھی نیک عمل کا ثواب اور اجر فرشتوں کے ذریعے عطا فرماتے ہیں مگر روزہ ایک ایسی عبادت ہے جس کا ثواب اور اجر اﷲ تعالیٰ خود عطافرماتے ہیں جس کی وجہ یہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میرا بندہ صرف میرے لئے روزہ رکھتا ہے۔ روزہ صرف کھانے پینے سے اپنے آپ کو روکنے کا نام نہیں ہے بلکہ روزہ تمام جسم کا ہوتا ہے یعنی آنکھ کا۔ ناک کا۔ زبان کا۔ کان کا اورذہن کا بھی ہونا چاہئے۔

روزے رکھنے سے ہماری جسمانی اور روحانی تمام بیماریوں سے شفاء ملتی ہے۔پہلے کے عشرے کی دعا ہے رب اغفر وارحم وانت خیر الرحمینترجمہ:اے ہمارے رب مجھے بخش دے ،مجھ پر رحم فرما تو سب سے بہتر رحم فرمانے والا ہے ۔پہلے عشرے کے اہم واقعات کا ذکر کیا جائےتو حضرت ابراہیمؑ کو صحاف پہلے عشرے میں دیئے گئے ۔حضرت موسیٰ ؑ پر تورات چھ رمضان المبارک کو نازل ہوئی اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ ؑ سے فرمایا کہ اے موسیٰ ؑ میں نے امت محمدیﷺ کو دونور عطاء کیے ہیں جس نے ان دونوں سے دامن وابستہ کرلیا تو دونوں جہان کے عذاب سے محفوظ رہے گا۔

حضرت موسیٰ ؑ نے پوچھا وہ کونسے نور ہیں ارشاد باری تعالیٰ ہوا ہے کہ ایک نور قرآن اور دوسرا نور رمضان ہے ۔ رمضان کے مہینے میں میری امت کو پانچ نعمتیں دی گئیں جو کہ مجھ سے پہلے کسی اور نبی کو نہیں دی گئیں۔رمضان کی پہلی رات اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو نظرِ رحمت سے دیکھتے ہیں اللہ تعالیٰ جسے نظر رحمت سے دیکھ لے اسے عذاب نہیں دیتا ۔

Leave a Comment