رمضان میں افطاری کروانے کا اجروثواب

Ramzan mai aftarii kerwany ka ajer-o-sawab

یہ ایسا مہینہ ہے جس میں مومن کے رزق میں برکت ڈال دی جاتی ہے۔ مومن کارزق بڑھادیا جاتا ہے۔ جس کسی نے افطار کروایا اس رمضان میں کسی روزے دار کو۔ تو وہ اس کے لیے اس کے گناہوں کی مغفر ت کا سبب بن جائے گا۔ اور اس کی گردن کے آگ سے چھٹکارا پانے کاذریعہ بن جائے گا۔ کسی روزے کو روزے دار کا افطار کرانا۔ ہمارے ہاں اس دور میں عام طور پر رزق کی فروانی ہے۔

وہ جو فاقہ اور فقر کی جو کیفیات پچھلے زمانوں کے اندر سننے میں آتیں۔ عام طور پر وہ اب دنیا میں موجود نہیں ہیں۔ لیکن یہ کہ اس دور تک تصور کیجیے۔ وہاں ایسا بھی ہوتا تھا۔ کسی کے پاس کھانے کو کچھ نہیں۔ خود اپنے لیے بھی کچھ نہیں ہے۔ ہوسکتا ہے کہ وہ صر ف کہیں سے کوئی تھوڑی سی دودھ کی لسی بنا کر بیٹھا ہوگا۔روزہ افطار کروانے کے لیے اور اس کے پاس خود کچھ نہ ہو۔ اس حالت میں کوئی اور شخص یہ بھی نہ ہواگر اس کے پاس آتا ہے تووہ اپنے تھوڑی سی لسی میں سے اگر اپنے کسی اور بھائی کو کچھ پلادیتا ہے۔

دوگھونٹ اس کا اجروثواب اس وقت پس منظر کو ذہن میں رکھیے۔ اس وقت ہمارے ہاں جو ریل پیل ہے اس ریل پیل میں اگر آپ روزہ افطار کروانے کی محفلیں منعقدکریں۔ افطاریاں کرائیں۔ بہت اعلیٰ افطاریاں کرائیں۔ تو اس کو اس حساب میں شمار نہ کیجیے۔ بہرحال وہ اپنی جگہ پر رہے ۔ اس انسان احباب کے ساتھ محبت کے اضافے کےلیے کرتا ہے اور وہ محبت خالص اللہ کے لیے ہے اللہ کے دین کے لیے ہےاس کا اپنی جگہ پر اجروثواب ہوگا۔ لیکن یہ جو اجروثواب یہاں بیان ہورہا ہے جس درجے کا جو ثواب بیان ہورہا ہے اس کے لیے اس قسم کے پس منظر کو سامنے رکھنا ضروری ہے ۔ ورنہ یہ بہت مبالغہ سامعلوم ہوتا ہےاتنی سی بات کےاوپر اتنا بڑا اجروثواب ۔

لیکن اس کو انسان اپنے اوپر طاری کرے ۔ جیسا کہ آتا ہے بہت سے اصحابہ کے بارے میں ۔ انہیں تو فاقےہوتے تھے۔ کئی کئی وقت کے فاقے۔ اصحابہ کے وقت کہیں سے کچھ آتا تو کھا لیے ورنہ کئی کئی وقت کے فاقے ہورہے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ : اور اس افطارکروانے والے کو روزہ رکھنےوالے کے برابر ثواب ملے گا۔ بغیر اس کے کہ اس روزے رکھنے والے کے ثواب میں کوئی کمی ۔ اس کا اپنی جگہ پر اجر وثواب رہے گا ۔ لیکن جس نے افطار کروایا ہے تواس کو اس کے برابر اجروثواب ملے گا۔ حضرت سلیمان فارسی ؑ فرمارہے ہیں۔ کہ اے اللہ کے رسول ﷺ ! ہم سے ہر ایک کو یہ قدرت حاصل نہیں ہے۔

جس سے وہ روزہ کسی روزے دار کاروزہ افطار کرواسکیں۔ ہم پر توخود جو ہے بہت فقر کا غلبہ ہے۔ ہم بہت احتیاج کی کیفیت ہے۔ تو آپﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ یہ ثواب عطا فرمادے گا اس شخص کوبھی جس نے کسی روزے دار کا روزہ افطار کروایا ۔ کسی لسی کے گھونٹ پراور شربت۔ یا پانی بھی کسی وقت اس قدر ہوجاتا ہے پانی نہیں ہے۔ تو پانی میں سے بھی کسی کو حصہ دار بنا لیا ہے۔ تو جو شخص کسی روزے دار کو پیٹ بھر کر سحر ہو کر کھانا کھلائے گا۔ تو اس کو اللہ تعالیٰ میرے حوض کوثر سے پلائے گا۔ سیر اب کرے گا۔ اور اس طرح سیراب کرے گا جب تک جنت میں داخل نہ ہوجائے۔ اس کو پیاس کا احساس نہیں ہوگا۔

Leave a Comment