جمعہ کے روزہ کی فضیلیت پنجتن پاک کی نظر میں

Jummay k rozay ki fazeelat

اللہ کے رسول نے فرمایا: جو انسان رمضان میں جمعہ کا روزہ رکھے اور افطاری کرتے وقت جو بھی دعا مانگے ۔ اللہ وہ دعا رد نہیں کرتا۔ امام علی ؑ نے فرمایا: جوانسان جمعہ کا روزہ رکھے تو جب تک روزے کھولتا نہیں فرشتے اس کے لیے استغفار پڑھتےرہتے ہیں۔ جب وہ روزہ کھلتا ہے۔ تو اس کے سارے گن اہ اللہ مع اف کردیتا ہے۔ بی بی سید ہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اگر کوئی عورت جمعہ کا روزہ رکھ کر گھر میں کام کرے تو اللہ اس عورت پر دوزخ کی آگ حرام کردیتا ہے۔

امام حسن ؑ نے فرمایا: اگر کوئی انسان جمعہ کاروزہ رکھے ۔ اورجمعہ نماز پڑھے تو اس وقت اللہ اس کے لیے آسمانوں سے اورزمینوں کے خزانے کے دروازے کھول دیتا ہےاور کہتا ہے اے میرے بندے ! مانگ کیا مانگتا ہے۔ امام حسین ؑ نے فرمایا: اگر کوئی انسان رمضان میں جمعہ کار وزہ رکھے ۔اور رزق کی حلال کمانے کے لیے جائے ۔ تو فرشتے اس کے قدم چومتے ہیں۔ اور اللہ اس کے پسینے کی ایک ایک بوند کےبدلے جنت میں اس کا مقام بڑھاتا رہتا ہے۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ تم میں سے کوئی صرف جمعہ کا روزہ نہ رکھے مگر جب کہ اس سے پہلے یا بعد والے دن کا بھی روزہ رکھے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اور راتوں میں صرف جمعہ کی رات کو قیام کے ساتھ مخصوص کرو نہ اور دنوں میں صرف جمعہ کے دن کو روزے کے ساتھ مخصوص کرو، سوا اس کے کہ کوئی شخص (کسی تاریخ کو) ہمیشہ روزہ رکھتا ہو اور (اس تاریخ میں) جمعہ کا دن آ جائے۔

حضرت زر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر مہینے کے شروع میں تین دن روزہ رکھتے اور بہت کم جمعہ کے دن روزے کا ناغہ فرماتے۔ لہٰذا صرف جمعہ کے دن کو ہی روزہ رکھنے کے لئے مخصوص نہ کیا جائے یعنی باقی دنوں میں نفلی روزہ کی اہمیت کم سمجھنے کی سوچ قائم نہیں ہونی چاہیے۔ ایک دن پہلے یا بعد میں ساتھ ملا لیا جائے تو بہتر ہے۔ اگر کوئی شخص ہر ماہ جیسے ایام بیض وغیرہ کے روزے رکھتا ہو تو درمیان میں جمعہ آجائے یا کسی تاریخ کا روزہ رکھنے کی نظر مانے تو اس دن جمعہ آ جائے تو روزہ رکھ سکتا ہے کوئی حرج نہیں ہے۔

Leave a Comment