روزہ کی حالت اور خواتین کے مسائل بالغ عورتیں یہ مسائل لازمی سن لیں

Rozah ki halat or khawateen k masail

روزہ کی حالت میں خواتین کے مخصوص مسائل روزے میں الٹی آجانا ، اگرکسی عور ت یا مرد کو قے آگئی تو روزہ نہیں گیا، خواہ تھوڑی ہویا زیادہ ، اور اگر خوداپنے اختیار سے قے کی اورمنہ بھر کر ہوئی تو روزہ ٹوٹ گیا ،ورنہ نہیں۔ اگر روزدہ دار اچانک بیمار ہوجائے اور اندیشہ ہو کہ روزہ نہ توڑا توجان کا خطرہ ہے ، یا بیماری کےبڑھ جانے کاخطرہ ہے تو ایسی حالت میں روزہ توڑنا جائز ہے۔ حاملہ عورت کا روزہ: اسی طرح اگر حاملہ عورت کی جان کو یا بچے کی جان کوخطرہ لا حق ہوجائے تو روزہ توڑ دینا درست ہے۔ مستقل بیماری کی وجہ سے اگررمضان میں روزے نہ رکھ سکے تو قضا کرے ۔

اگر کوئی ایسی عورت یا مردجو مستقل کسی بیماری کی وجہ سے روزہ نہیں رکھ سکے ، وہ ان کی جگہ بعد میں قضاءروزے رکھ لیں، اور آئندہ بھی اگر وہ رمضان المبارک میں بیماری کی وجہ سے روزے نہیں رکھ سکے۔تو سردیوں کے موسم میں قضاء رکھ لیا کرے۔ اور اگر چھوٹے دونوں میں بھی روزے رکھنے کی طاقت نہیں رہی تو اس کے سوا چارہ نہیں کہ ان روزوں کا فدیہ ادا کردے ۔

ایک د ن کے روزے کا فدیہ صدقہ فطر کے برابر ہے۔ دودھ پلانے والی عورت کا روزہ کا قضاکرنا ایک ایسی ماں جس کا بچہ سوائے دودھ کے کوئی غذا نہ کھا سکتا ہو، اگر وہ ماں یا اس کا دودھ پیتا بچہ روزے کا متحمل نہیں کرسکتے تو وہ عورت روزہ چھوڑ سکتی ہےبعد میں قضارکھ لے ۔ مجبوری کے ایام میں عورت کو روزہ رکھناجائز نہیں ،رمضان میں عورت جتنے دن مجبوری میں ہو، ان مجبوری (حیض و نفاس) کے دنوں میں عورت کو روزہ رکھنا جائز نہیں ، بعد میں قضا رکھنا فرض ہے۔

دوائی کھا کر ایام روکنے والی عورت کار وزہ رکھنا رمضان شریف میں بعض خواتین دوائیاں وغیرہ کھا کر اپنے ایام کو روک لیتی ہیں، اس طرح رمضان شریف کے پورے روزے رکھ لیتی ہیں، اور فخریہ بتاتی ہیں کہ ہم نے تو رمضان کےپورے روزے رکھے۔تو واضح ہے کہ جب تک ایام شروع نہیں ہوں گے ، عورت پاک ہی شما ر ہوگی اور اس کو رمضان کے روزے رکھنا صیحح ہوگا ، رہا یہ کہ روکنا صیحح ہے یا نہیں ؟ تو شرعاً روکنے پر کوئی پابندی نہیں ، مگر شرط یہ ہے کہ اگر یہ فعل عورت کی صحت کے لیے مضر ہوتو جائز نہیں ۔

روزے کے دوران اگر ” ایام” شروع ہوجائیں تو روزہ ختم ہوجاتا ہے ماہ رمضان میں روزہ رکھنے کے بعد اگردن میں ماہواری کے شروع ہوتے ہی روزہ خود ہی ختم ہوجاتا ہے ، کھو لیں یا نہ کھولیں ، البتہ ماہ رمضان میں مجبوری کے تحت جو روزے رہ جاتے ہیں۔ تو ان کی قضا رمضان کے بعد کرلی جائے تاہم تراویح صرف رمضان میں پڑھی جاتی ہے۔ اور قضا ئے رمضان کے روزوں میں تراویح نہیں ہوتی۔

Leave a Comment