کیا حاملہ عورت روزہ چھوڑ سکتی ہے ؟

kia hamla orat roza choor sakti hai?

اللہ نے بیمار کو روزہ چھوڑنے کی اجازت دی ہے ۔ چاہے بیماری کم ہو یازیادہ ہو۔ مسافر کو روزہ چھوڑنے کی اجازت دی ہے چاہے سفر تکلیف یا مشقت ہو یانہ ہو۔ البتہ تکلیف نہیں ہے روزہ رکھنا افضل ہے۔ اور بیماری میں بھی روزہ رکھنا افضل ہے۔ وہ بیماری جس میں روزہ چھوڑنا جائز ہے۔ اس میں دو شرطیں ہیں دوشرطوں کے ساتھ روزہ چھوڑسکتے ہیں۔ پہلی شرط یہ ہے کہ اگر روزہ رکھا تو بیماری بڑھنے کا خطرہ ہو۔آپ کو ننانو ے فیصد بخا ر ہے اگر روزہ رکھا سوفیصد ہوجائے گا تو آپ روزہ چھوڑسکتے ہو۔ چاہے چھوٹی بیماری یا بڑی ۔ آپ کا گلا خراب ہے۔ اگر میں نے روزہ رکھا تو دوا نہیں کھا سکوں گا۔

گلہ مزید خراب ہوجائے گا۔ حالانکہ گلے کی خرابی کو اتنی بڑی بیماری نہیں سمجھا جاتا ۔آپ کا چھینکیں آگئی اور زکام ہوگیا اور خیال ہے کہ اگر دوائی نہ کھائی یا ابھی دوائی کھا کر نہیں سویا۔ رات تک افطار ی تک انتظار کیا ۔یعنی کہ سحری کے وقت گزر جاتا ہے تو روزہ چھوڑ سکتے ہیں۔دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ بیماری میں بڑھنے کا اندیشہ نہ ہوتولیکن بیماری کے دیر سے ٹھیک ہونے کا اندیشہ ہو۔ آپ کا خیال ہے اگر میں نے روزہ رکھا تو بیماری بڑھ تو نہیں جائے گی۔ لیکن جس بیماری نے دو دن میں ٹھیک ہونا تھا ۔

وہ دن سے زیادہ ہوجائے گی۔ اگر یہ دو کنڈیشن نہیں ہیں۔ تو پھر بیماری میں روزہ چھوڑنا جائز نہیں ہے۔ بعض بیماریاں ایسی ہوتی ہیں کہ بھو کا رہنے سے جلدی انسان ٹھیک ہوجاتا ہے۔ ایک دوسرا مسئلہ جو حاملہ یا دودھ پلانے والی خواتین ان کے لیے روزہ رکھنا جائز ہے یانہیں ؟ یہ مسئلہ بہت پوچھا جاتا ہے۔ یاد رکھو کہ حمل کوئی بیماری نہیں ہے۔ یا خاتون کا اپنے بچے کو دودھ پلانا کوئی بیماری نہیں ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ ڈاکٹر نے منع کیا ہے۔ ان کو ہر تھوڑی دیر کے بعد ان کو پانی ضروری ہے۔

کیونکہ یہ بچے کو دودھ پلارہی ہیں۔ تو یہ کب سے ضروری ہوا ہے؟ یہ بات یا د رکھیں کہ فقہاء بیان کرتے ہیں کہ حمل عورت یا دودھ پلانے والی عورت جب کسی ڈاکٹر سے روزہ چھوڑنے کی اجازت لے گی تو دو شرطیں ہیں۔ ایک تو ڈاکٹر اس فیلڈ کا ماہر ہے۔ دوسرا یہ کہ ڈاکٹر دین دار ہو۔ رمضان کی اہمیت جانتا ہو۔ بہت سے ڈاکٹروں کا اپنا روزہ نہیں ہوتا۔ وہ رمضان کی اہمیت نہیں ہے ان کے دلوں میں۔

ذرا ذرا سی بات پر روزہ چھوڑنے کی اجازت دے دیتے ہیں۔ تو حمل یا دودھ پلانا کوئی بیماری نہیں ہے۔ ہاں اگر کسی خاتون کو کمزوری ہے تو وہ دودھ پلانےسے ان کو باقاعدہ چکر آتے ہو یا بچے کو نقصان کا خطرہ ہو یا دودھ نہ بن رہاہو تو پھر کسی ڈاکٹر کو بتائیں۔ اگر ڈاکٹر واقعتاً دین دار ہے او ر سمجھتا ہے کہ نقصان ہے تو پھر روزہ چھوڑ سکتے ہیں۔ ذرا ذرا سی بات پر روزہ نہیں چھوڑنا چاہیے ۔ روزہ رکھ کر پریشانی تو ہوگی ۔ روزے کا مطلب ہی پریشانی ہے۔ ایسا روزہ جس میں کچھ نہ ہو۔ روزہ رکھیں گے تو پریشانی بھی ہوگی اور چکر بھی آئیں گے۔ تو اگر واقعی بیماری ہے تو چھوڑ سکتے ہیں۔

Leave a Comment