اس رمضان یہ چند کا م ضرور کرلیں

Is ramzan yeh chand kam zroor kr lain

ہر سال رمضان ہمار ی زندگیوں میں آیا اور ہرسال ہم نے اپنے طورپر جو اہتمام کرسکے ۔کیا۔ اور رمضان گزر گیا۔ آج اس رمضان میں ایک خیال خاص طور پر ہم سب کو یقیناً آرہا ہوگا۔ کہ بہت سے ایسے لوگ ہیں جو پچھلے رمضان ہمارے ساتھ تھے اس سال ہمارے ساتھ نہیں ہیں۔ کیا وجہ ہے کہ ہم ان لوگوں کی فہرست میں نہیں ہیں۔ کیا وجہ ہے کہ قدرت نے ہمیں کیوں یہ موقع دیا ایک رمضان ہمیں نصیب ہو۔ کیا اس پر ہمیں رک کر سوچنا نہیں چاہیے ۔ کہ اس پر بہت زیادہ شکر ادا نہیں کرنا چاہیے۔ کیا ایسا تو نہیں کہ قدرت ہمیں ایک اور موقع دے رہی ہے۔اس آنے والے رمضان کر جاؤ جو تم پچھلے رمضان میں نہیں کرسکے ۔

کوئی بھی خوشی کا موقع ہماری زندگی آنے والا ہوتا ہے کوئی شادی بیا ہ ، کوئی بچوں کی خوشیاں اس کو منانے کے لیے ہم پہلے سے تیار ی کرتے ہیں۔ تو اللہ کی رحمتوں سے بھرا ہوا یہ مہینہ تمام مہینوں کا سردار ہے۔ گیارہ ماہ کے بعد جس کے آنے کی باری آتی ہے۔ جس میں اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اپنی عروج پر ہوتی ہیں ۔ اس مہینے کو منانے کے لیے اور استقبال کرنے کے لیے ہمیں آج سے پلاننگ شرو ع نہیں کرنی چاہیے۔ چلیں مل کر اس مہینے کو گزشتہ رمضان سے زیادہ اچھا گزارنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بتایاجاتا ہے کہ اپنے اندر روحانیت بڑھانے کے لیے تین باتوں پر عمل کرنا ضروری ہے۔ کم سونا، کم بولنا اور کم کھانا۔

یہ تینوں چیزیں رمضان میں روزے کی حالت میں میسر ہوتی ہیں۔ہم کھانا ویسے کم کردیتے ہیں۔ اس کے بعد نیندیں ہماری باقی گیارہ مہینوں کی نسبت کم ہوتی ہیں۔ روزے کی حالت میں ہونے کی وجہ سے یا تو ہمارا دھیا ن اللہ کی طرف ہوتا ہے۔ پھر زیادہ وقت کسی نہ کسی تسبیح میں گزاریں ۔ خواتیں سے درخواست کریں گے ۔ کہ رمضان کے مہینے میں آپ کو جتنا بھی بازار کا کام پڑ سکتا ہے۔ یعنی کہ گروسری ہے ، جوتے کپڑوں کی شاپنگ ہے یا دیگر کام ہیں وہ رمضان شروع ہونے سے پہلے ہی ختم کرلیں۔

کیونکہ اس رمضان میں ہم نے ایک گھڑی گھڑی کو بچانا ہے۔ کیونکہ پہلی مرتبہ رمضان کو اس اینگل سے پلان کررہے ہیں۔ کہ یہ رمضان ہم نے چٹ پٹے کھانے، نئی نئی ریسی پیز بنانے یا اپنے گھر والوں کو خوش کرنے کےلیے استعمال نہیں کرنا۔بلکہ اس رمضان میں ہم نے اللہ کو خوش کرنا ہے۔ ہم نے رب کوراضی کرنا ہے۔ ہمارا رب جو کہ ہمارے اعمال کی وجہ سے ناراض ہے۔ اس کی ناراضگی کا ثبوت پوری دنیا میں ایک ہی وقت میں آنے والے کرونا وائرس کی صورت میں ہمارے سامنے ہے۔

اپنے روٹھے ہوئے رب کو منانا ہے اس سے دل کی باتیں کرنی ہیں۔ دن ہو یا رات اپنے رب کو ایک لمحہ بھی اپنے دل سے باہر نہیں نکالنا ۔ ہم نے ہروقت اللہ کے اسم “یا حی یا قیوم “کا ورد کرتے رہنا چاہیے۔ اس کے ساتھ ہم نےصلوۃ کو ترجمے کے ساتھ پڑھنا ہے اور قرآن کو پورے ترجمے کے ساتھ پڑھنا ہے۔ ہم نے وہ تمام تسبیحات یا ورد اپنے معمول میں شامل کرنا ہے۔اس دفعہ ہم اس کو ترجمے کے ساتھ پڑھیں گے۔ خیرات کھل کرکریں گے گن گن کر نہیں کریں گے ۔ کیونکہ ہم اللہ سے اپنا حق کھل کرلیتے ہیں تو اس کی راہ میں کھل کردینا کی گنتی کیسی۔ کو شش کریں کہ اس رمضان سحر ی وافطار میں سے کسی ایک فر د کو شامل کرلیں کہ وہ اپنا افطار کا کھانا اس وقت یہاں سے لے کر جایا کرے ۔

رمضان آنے سےپہلے نظر دوڑا لیں کہ کوئی ہم سے ناراض ہے۔ اگر کوئی ہے تو رمضان کے آنے سے پہلے پہلے اس سے معافی مانگ لیں۔ رمضان ہم سکھاتا ہے کہ اس تیس دن کے اندر تم اپنے من کو مار سکتے ہو۔ توباقی گیارہ مہینوں میں کیوں نہیں ۔ اگر نیند پر قابو پاسکتے ہو تو باقی گیارہ مہینوں میں کیوں نہیں۔ ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ ہم اس رمضان کے آخری عشرے میں اپنے دن کا ایک ایک لمحہ اور اپنی راتوں کا ایک ایک لمحہ ہم خاص طور ہر پورے جو ش و جذبے اور قربانی کے ساتھ اللہ کی رضا میں سرف کریں گے ۔

Leave a Comment