حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا بھولنے کی بیماری کیسے ختم کریں دماغ کو تیز کرنے کاعمل

hazrat Ali ny fermaya

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کیا سوال کیا گیا؟ اور باتوں کو یادرکھنے کے حوالے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کیا عمل بتایا۔ سرکار دو عالم کے فیض کی برکت یہ تھی ۔ کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ جب اپنے منبرپربیٹھتے تو آپ سوال کرتے ۔ سوال کرنے والوں مجھ سے سوال کرو۔ کسی چیزکے بارے میں پوچھنا چاہتے ہو مجھ سے پوچھو۔ میں تمہیں اس بات کا جواب دوں۔ تاکہ تم پریشان نہ رہو۔ تاکہ تم کو کل کو دقت پیش نہ آئے ۔ تو میں تمہارے سوال کا ایگزیٹ جواب ملے تو مجھ سے سوال کرو۔ جو آپ کے قریبی دوست و احباب ہوا کرتے تھے وہ آپ سے سوال کیاکرتے ۔

پھر آپ ان سوالوں کے جواب دیتے تھے۔ سوال کرنے والے سوال کیاکہ اے حضرت علی رضی اللہ عنہ ! آپ کو شیرخدا کہاجاتا ہے۔ علم کا شہر کا دروازہ کہاجاتا ہے۔ کہاجاتا ہے کہ آپ کے پاس ہر سوال کا جواب ہے میرے ایک سوال کا جواب عنا یت کریں۔ آپ نے پوچھا سوال کرنے والے پوچھو۔ تم کیا پوچھنا چاہتے ہو؟ اس نے کہا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ مجھے یہ بتائیے میں ایک بڑا ہی ذہین انسان تھا۔ مجھے چیزیں یا د رہتی تھیں۔ مجھے چیزیں بھولتی نہیں تھیں۔ اور موقع کی مناسبت سے وہ بات کرسکتا ہے جو بات مجھے کرنی ہوتی ۔ مجھے کوئی چیز نہیں بھولتی تھی۔ مگر میرا ایسا مسئلہ درپیش آیا کہ میرا ابھی بڑھاپا آیا۔

کہ مجھے چیزیں بھولنا شروع ہوگئیں ہیں۔ جو چیزیں ذہن میں رکھتا ہوں کہ فلاں جگہ جاکر میں نے یہ بات کرنی ہے تو وہ بات میرے ذہن سے نکل جاتی ہے۔ اے شیر خدا مجھے بتائیے کہ وہ کونسی ایسی چیز ہے جس کے ذریعے اپنی اس سوچ کے عمل کو ٹھیک کرسکوں؟ جب یہ سوال کیا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جواب دیا اے سوال کرنے والے تم ایک آسان سا عمل ہے ۔وہ بڑا خاص ہے۔ اگر تم اس بات کا تہیہ کرلو کہ تم یہ عمل کرو گے یقین جانو تمہاری پوری زندگی میں دوبارہ نسیان کا مسئلہ درپیش نہ ہوگا۔ اس نے کہا اے شیر ا خدا آپ نے اگر حکم کیا ہے تو میں وہ عمل ضرور کروں گا۔

آپ مجھے بتائیے میں نے کیا کرنا ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : کہ جب بھی تم رزق کو کھاؤ جو لقمہ تمہارے پیٹ میں جارہا ہے وہ لقمہ حرام تو نہیں ہے۔ پہلے اس بات کی تسلی کرلو کہ وہ لقمہ حرام تو نہیں ہےلیکن پہلے جب تم تسلی کرلو تو تم نے پہلے دو کام کرنے ہیں۔ سوال کرنے والے نے کہا وہ کونسے دو کام کرنے ہیں؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: پہلا یہ تم نے کھانےسے پہلے اس کی تسلی کرلینی ہے کہ یہ حلا ل رزق ہے۔

دوسرا یہ کہ جب بھی کھانے لگو تو اس پر ” یا حلیم ، یااللہ ” ایک ایک مرتبہ پڑھ کر اس پر پھونک دو۔ اور پھر وہ کھانا شروع کردو۔ انشاءاللہ ! اللہ کے حکم سے تمہیں اپنی زندگی میں دوبارہ یہ مسئلہ درپیش نہیں ہوگا۔ تمہیں کبھی چیزیں نہیں بھولیں گی۔ لہذا تم اس عمل پر غو رکرو۔ انشاءاللہ تمہیں بڑا فاقہ ہوگا۔ سوال کرنے والے نے اس پر عمل کیا ۔

اور کچھ عرصہ بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی تو آ پ نے پوچھا تو اس نے کہا کہ جب میں نے وہ عمل کیا تو اب میں اتنا ذہین فطین ہوگیا ہوں کہ اب مجھ سے لوگ اپنی باتیں پوچھتے ہیں یعنی کہ فلاں جگہ جو واقعہ ہواتھا اسکا کیا معاملہ تھا؟ تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا سوال کرنے والے اگر تجھےاس سے فائدہ ہوا ہے تو اسے آگے تک بھی پہنچا۔ اور نیکی کے عمل کو کبھی روکنا مت۔

Leave a Comment