بیوی کے جنازے کو کندھا دینا یا اسے دیکھنا

Bivi k jnazy ko kandha dyna ya isy dekhna

ایک بندہ کا سوا ل ہے کہ میں سعودی میں ٹیکسی چلاتا ہوں۔ ادھر دو چار گھنٹے نمبر کا انتظارکرنا پڑتا ہے۔ یہ بتا دیں کہ جہاں مجھے نمبر کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔ میں کسر نماز پڑھوں گا یا پوری ؟ اس کاجواب ہے ۔ کہ وہ وہاں کسر نما ز پڑھیں گے کیونکہ وہ دو چا ر گھنٹے انتظا ر کوئی ایسا دورانیہ نہیں ہے۔ جس سے آدمی نیت سے بدل جائے۔ کسی جگہ پندرہ دن رہنے کی نیت او ر وہ بھی پندرہ دن مسلسل رہنے کی نیت اس سے آدمی مقیم بن جاتا ہے۔

اور پوری نماز پڑھنا پڑتی ہے۔ اور بات اگر چار گھنٹے کی ہے تو پھران کو کسرہی پڑھنی ہے۔ ایک دوسرا سوال کیا بیوی کے انتقال کے بعد شوہر اسکا چہرہ دیکھ سکتا ہے اس کو کندھا دے سکتا ہےاور کیا اسے قب ر میں اتار سکتا ہے؟ اس کا جواب ہے ۔ چہرہ بھی دیکھ سکتا ہے اور اس کی چارپائی کو کندھا بھی دے سکتا ہے۔

بلکہ دینا چاہیے ۔ ساری زندگی اس کو کندھا دیا ہے تو اب م و ت کے بعد بھی کندھادینا چاہیے۔ البتہ قب ر میں جہاں اتارنے کا مسئلہ ہے تو بیوی کو مرنے کے بعد ہاتھ لگانا کیونکہ نکاح ختم ہو جاتا ہے تو شوہر کو ایسا عمل نہیں کرنا چاہیے۔ جس سے اس کی بیوی پر ہاتھ لگا ہو۔ اس لیے افضل یہ ہے کہ جو محرم رشتے دار ہیں۔ بھائی ہیں ، والد ہیں ، اس طرح کے رشتے دار ہیں ۔

وہ قب ر میں اتاریں ۔شوہر نہ اتارے ۔ لیکن ان میں سے کوئی اتارنے والا نہیں ہے۔ تو بالکل اجنبی آدمی نہ اتارے ۔ پھر شوہر اتار ے قب ر میں۔ تو قب ر میں اتارنا جائز ہے لیکن ہاتھ نہ لگائے اس کے جسم کو۔ اگر محرم ہے تو بہتر ہے کہ قب ر میں محرم رشتہ دار اتارے ۔ کوئی اور نہیں ہے تو پھر شوہر اتار لے۔

Leave a Comment