جب رسول اللہ ﷺ پر نزع کی کیفیات طاری ہوئیں محبوب کے آخری لمحے محبت کی آخری باتیں

jab Rasool Allah ﷺ per nizah ki kafiyat tari hui

رسول اللہ ﷺ پرنزع کی حالت طاری ہوگئی ۔ سیدہ عائشہ ؓ نے آپ کو سہارا دیا سیدہ کہتی ہیں کہ آپ کی پشت مبارک میرے سینے پر تھی آخری وقت میں میرے بھائی عبدالرحمٰن بن ابوبکر داخل ہوتے ہیں ان کے ہاتھ میں مسواک تھی ۔ میں نے مسواک کی طرف دیکھا تو میں سمجھ گئی کہ آپ مسواک کرنا چاہتے ہیں ۔ سیدہ کہتی ہیں میں نے پوچھا آپ کیلئے مسواک لے لوں ۔
آپ نے سر کے اشارہ سے فرمایا کہ ہاں مسواک ذرا سخت تھی اس لیے میں نے آپ کیلئے اس کو اپنے دانتوں میں دبا کر اسے نرم کیا اس طرح میرا لعاب آخری وقت میں بھی آپ کے لعاب سے مل گیا ۔

نبی کریمﷺ نے مسواک استعمال فرمائی ۔ آپ پانی کے کٹورے میں ہاتھ ڈال کر انہیں پونچھتے جاتے تھے اور فرما رہے تھے لاالہ الا اللہ ترجمہ: اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ۔ ان الموت سکرات مو ت کے وقت انسان کیلئے سختیاں ہیں ۔ آپ ﷺ نے انگلی اٹھائی چھت کی طرف نگاہ بلند فرمائی ۔ ہونٹوں پر خفیف سی حرکت ہوئی ۔ سیدہ عائشہ نے کان لگا کر سنا آپ فرما رہے تھے ۔ انبیاء ، صدیقین ، شہداء اور صالحین کے ساتھ ۔

اور امام احمد کے الفاظ کے مطابق نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا اے اللہ مجھے بخش دے اے اللہ رفیق اعلیٰ کیساتھ اس کے ساتھ ہی آ پ ﷺ کا ہاتھ جھک گیا ۔ انا للہ وانا الیہ راجعون یہ گیارہ ہجری بارہ ربیع الاول پیر کا دن اور زوال کے بعد کا وقت تھا ۔عمر مبارک تھریسٹھ سال اور چار دن تھے ۔ نبی کریمﷺ کی وفات کو معمولی حادثہ نہ تھا وفات کی خبر فوراً پورے مدینہ میں پھیل گئی ۔ صحابہ کرام ؓ اس خبر پر یقین کرنے کیلئے تیار نہ تھے ۔

وہ دیوانہ وار مسجد نبویﷺ میں اکٹھے ہوتے چلے گئے سب رو رہے تھے بلا شبہ یہ دن مدینہ منورہ کی تاریخ کا سب سے غمناک دن تھا ۔ سیدنا انس ابن مالک ؓ نے آپ ﷺ کی وفات کے حوالے سے کہا تھا کہ جس روز رسول اللہ ﷺ ہجر ت کرکے مکہ سے مدینہ ہمارے پاس تشریف لائے تھے ۔ میں نے اس سے بہتر خوبصورت اور روشن دن اپنی زندگی میں نہیں دیکھا جس روز وفات پائی اس سے ناگوار تاریک دن میں نے اپنی زندگی میں کبھی نہیں دیکھا۔

سیدہ فاطمہ ؓ ان کو اپنے والد کے ساتھ شدید محبت تھی ۔ انہوں نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا تھا اے ابا جان جنہوں نے اپنے رب کی پکار پر لبیک کہا اے ابا جان جن کا ٹھکانہ جنت الفردوس ہے اے ابا جان ہم جبرائیل ؑ کو آپ کی وفات کی خبر دیتے ہیں۔ مسجد نبوی صحابہ کرام ؓ سے بھر چکی ہے لوگ اپنے ہوش وحواص میں نہیں ہیں۔ حتیٰ کہ حضرت عمر فاروق ؓ جیسی نہایت ذہین وفطین شخصیت کہہ رہی ہیں خبردار اگر کسی نے کہا اللہ کے رسول ﷺ وفات پا چکے ہیں وہ تو اپنے اللہ تعالیٰ کے پاس اسی طرح گئے ہیں جس طرح موسیٰ ؑ طور پر پہاڑ پر گئے تھے ۔

ابوبکر صدیق ؓ کا گھر مدینہ سے مشرق کی جانب صنعا کے مقام پر تھا آپ ؓ کو اطلاع ملی تو گھوڑے پر سوار ہوکر مسجد نبوی آتے ہیں لوگ کو دیکھا ان سے بات کیے بغیر اپنی صاحبزادی سیدہ عائشہ ؓ کے گھر تشریف لے گئے جہاں نبی کریمﷺ کا جسد اطہر ایک یمنی چادر سے ڈھانپا ہوا تھا انہوں نے رُخ انور سے چادر ہٹائی او ر نبی کریمﷺ کے چہرے کو چوما اور رونے لگے ۔عرض کرتے ہیں میرے ماں باپ آپ پر قربان اللہ تعالیٰ آپ کو دو موتیں نہیں دیگا جو مو ت آپ کو آنی تھی وہ آچکی اس کے بعد ابو بکر صدیق ؓ کا رُخ مسجد نبوی کی طرف ہے ۔

ابو بکر صدیق ؓ مخاطب ہوتے ہوئے فرماتے ہیں عمر ؓ بیٹھ جاؤ پھر صحابہ کرام ؓ سے مخاطب اپنا تاریخی خطبہ ارشاد فرمایا لوگ دیکھ رہے ہیں ابوبکر صدیق ؓ نے مختصر خطبہ پڑھا اور ارشاد فرمایا تم میں سے جو شخص آپﷺ کی عبادت کرتا تھا وہ جان لے کہ محمدﷺ وفات پاگئے ہیں ۔ تم میں سے جوشخص اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا وہ جان لے کہ اللہ تعالیٰ ہمیشہ زندہ رہنے والا ہے اسے کبھی مو ت نہیں آئیگی۔

Leave a Comment