قصہ ہاروت ماروت وہ فرشتے جن کو انسانی شکل میں دنیا میں بھیجاگیا اور انہوں نے عورت کے ساتھ ز ناکیا

Qissa Haroot Maroot

انسان کا مقام فرشتوں سے بلند ہے اگر انسان کا مقام فرشتوں سے بلند ہوتا توحضرت آدمؑ کےسامنے فرشتے سجدہ نہ کرتے آج کا ہمارا موضوع بھی اسی کے مطابق ہے یہ حضرت سلیمان رضی اللہ عنہ کے زمانے کا قصہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے جنات کو حضرت سلیمانؑ کے تابع تھا اس وقت چونکہ جنات بھی دربارحضرت سلیمان ؑ میں حاضر ہو ا کرتے تھے اور ان کا عام انسانوں کے ساتھ منازرا ہوا کرتا تھا عام لوگوں سے کلام کیا کرتے تھے لیکن ان میں بعض شیاطین جن کا بھی شامل تھا جنہوں نے انسانوں کو غلط اپنی طاقت او ر سہر کے بل بوتے بھٹکانے کا سلسلہ شروع کیا انہوں نے لوگوں کو ج ادو سکھا نا شروع کردیا۔

جبکہ قرآن پاک میں اس کی کوئی تاکید کی گئی تھی وہ جنات چونکہ حضرت سلیمان ؑ کے حکم تابع تھے اس لیے بعض لوگوں نے حضرت سلیمانؑ کی نسبت سے ان جنات کی باتوں پریقین کرنا شروع کردیا اور ان کے بتائے ہوئے عمل شروع کردیے اس طرح کالے جادو یا سفلی عملیات کی بنیاد رکھی گئی ۔ لیکن سورت البقرہ کی آیات نمبر دو سو تین میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ سلیمان ؑ نے کبھی کوئی شرک نہیں کیا اور ان کا ان جنات کے عملیات سے کوئی تعلق نہ تھا یہ جنات شیاطین نقشہ سلیمان ؑ کے نام سے عملیات کرتے جب کہ اللہ تعالیٰ نے خود قرآن پاک میں ان سب کو سلمانؑ سے غیر منسوب قرار دے دیا ہے ۔

تو اس معاشرے میں بداعمالی کا راج بڑھتا چلا گیا اور معاشرہ ہر قسم کی اخلاقی برائیوں کا شکار ہوتا چلا گیا۔اب یہاں سے ان دونوں فرشتوں کا تذکرہ شروع ہوتا ہے جنکو اللہ تعالیٰ نے اس معاشرے کو راہ راست پر لانے کیلئے انسانی روپ اور انسانی صفات دے کر زمین پر بھیجا علماء کرام فرماتے ہیں وہ قصہ جو ہاروت وماروت روایت میں آتا ہے ۔وہ پایہ ثبوت تک ہے اور اس کا تب وکل یقینی ہے قصہ کچھ یوں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان کے دنیا کے پردے ہٹا دیے اور فرشتوں نے زمین پر دیکھا کہ اہل زمین سنگین گناہوں میں مبتلا ہیں شراب نوشی ،زنا، چوری چکاری قتل وغارت عام ہے اس قدر گناہوں میں متبلا ہیں۔

تو فرشتوں نے اللہ تعالیٰ سے شکایت کی اے پروردگار یہ کیا ہے ہمارے رب انکو تونے دنیا میں اپنی عبادت اور اطاعت کیلئے بھیجا تھا پر انکی حالت یہ ہے کہ ایسے گناہوں میں مبتلا ہیں آپ فوری طور پر انکی پکڑ نہیں کررہے ہیں لہذا فرشتوں کو ان کے اعمال دیکھ کر سخت بیزاری ہوئی اور انہوں نے انکے لیے بددعا دی ۔یہ سب دیکھ کر اللہ تعالیٰ نے فرمایا درحقیقت کے بات یہ ہے میری ذات اہل زمین سے حجاب میں ہے اس لیے ان کو میرا خوف کم ہے اور تم سب چونکہ میرے پاس موجود ہو مجھے دیکھ سکتے ہیں۔

اس لیے تم پر میر ی حیبت اور خوف ہے اور اطاعت کرتے ہو جو وحشت تم پر طاری ہے وہ زمین پر نہیں ہے ۔یہ بھی پڑھیے جانیے ان 7لوگوں کے بارے،جنہیں قبر میں دفناتے ہی ان کے چہرے کعبہ سے خود بخود پھیر دیے جاتے ہیں۔اس لیے ان سے یہ گناہ ہو جاتے ہیں اس لیے پھر بھی ملائکہ کو اس بات پر اطمینان نہ ہوا ۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ٹھیک تم اپنے میں سے نیک اور پارسا فرشتے چن لو اور میں انکو زمین پر انسانوں کے درمیان بھیجتا ہوں ۔

اور پھر میں دیکھتا ہوں جب وہ میرے پردے میں جائیں گے تب انکے اعمال کیسے ہوں گے ۔احادیث میں آتا ہے کہ ملائکہ نے اپنے میں سے تین فرشتے پیش کیے جن کو اللہ تعالیٰ نے انسانی نفسانی خواہشات عطا کیں اور فرمایا جب تم زمین والوں میں شامل ہوجاؤ تو تم پر چار کامو ں کی پابندی عائد ہوگی ۔پہلا شراب نہ پینا ،دوسرا زنانہ کرنا اور تیسرا قتل مت کرنا اورچوتھا بت کو سجدہ مت کرنا یہ چار شرائط ان پر عائد کیں۔

لیکن جب انکو زمین پر اتارنا چاہا تو ان میں سے ایک نے کہا یا اللہ یہ سب مجھ سے نہیں ہوگا میں تیرے سامنے رہ تیری بندگی کرنا چاہتا ہوں۔ اس نے عذر کیا اورپیچھے ہٹ گیا لیکن دو فرشتے ہاروت ومارت زمین پر آنے پر رضامند ہوگئے۔ان دو فرشتوں کے بارے میں روایت میں آتا ہےکہ یہ دونوں آسمان پر دیگر ملائکہ میں سے سب سے زاہد اور عابد فرشتے تھے ۔ان کو زمین پر اللہ تعالیٰ نے اتار دیا اور ۔حضرت علی ؓ کی روایت ہے وہ حضرت ادریس ؑ کا زمانہ تھا یہ دونوں زمین آگئے اس کے بعد ان پر اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے درمیان فیصلہ کرنے پر مقرر کردیا۔

لوگ ان کے پاس اپنے مسائل لے کر آتے تو وہ ان کے درمیان فیصلہ کرتے ایک طویل زمانہ گزر گیا یہاں تک ایک خاتون انکے پاس آئی کہ بہت حسین وجمیل تھی کہتے کہ حسن وجمال کا یہ عالم تھا کہ جیسے زہرہ ستارہ ستاروں میں حسین ستارہ ہے اسی طرح وہ خاتون بے حد حسین تھی وہ ان دونوں ہاروت ومارت کے پاس آئی اور ان کے سامنے اپنا مسئلہ پیش کردیا اللہ تعالیٰ نے جو نفسانی خواہشات ان فرشتوں میں رکھی تھی وہ بھڑک اُٹھی اور ان کے اندر انکے ساتھ برائی خواہش پیدا ہوگئی انہوں نے اسے برائی کی دعوت کردی تم ہمیں اپنے ساتھ زن اکی اجازت دے دو نہیں پہلے تم لوگوں کو میری شرط ماننی ہوگی شرط یہ ہے۔

کہ میرے پاس ایک بت ہے پہلے تم میرے بت کو سجدہ کرو اور میرے دین میں داخل ہوجاؤ تو میں تمہیں زناکی اجازت دوں گی۔انہوں نے کہا نہیں ہماری توبہ ہے یہ شرک ہم سے نہیں ہوگا ۔ اس پر وہ خاتون وہاں سے چلی گئی پھر ایک طویل عرصے کے بعد اللہ تعالیٰ کو منسوخ تھا کہ خاموشی رہی اور ایک بار پھر وہ خاتون آئی اور اس نے وہ بات دوبارہ کہہ دی تو پھر دونوں فرشتوں نے ایک بار پھر اپنی خواہش کا اظہار کردیا تو اس عورت نے کہا کہ نہیں کہ میری شرط ہے کہ تم پہلے میرے شوہر کو قتل کردو تو میں تمہاری فریاد پوری کردوں گی ۔

تو دونوں فرشتوں نے کہا قتل تو گناہ کبیرہ ہے یہ ہم سے نہیں ہوگا وہ کہنے لگی اچھا ایک کام کرو میرے پاس شراب ہے تم وہ پی لو تومیں پھر تمہاری خواہش کو پورا کرسکتی ہوں اس پر دونوں فرشتے ہاروت وماروت نے مشورہ کیا کہ چلو ٹھیک ہے۔شراب تو چھوٹی چیز ہے کوئی بات نہیں کہ پی لیتے ہیں تو کہتے ہیں کہ دونوں اُڑ کر اس کے مکان پر پہنچے اور وہاں جا کر انہوں نے شراب پی لی اور انہوں نے شراب پی لی تو وہ اپنے حواس کھو بیٹھے اور مدحوش ہوگئے اس بدحواسی میں دونوں فرشتوں نے اس خاتون کیساتھ صحبت بھی کی جس کا نام زہرہ تھا اس کے بعد اسکے شوہر کا قتل کردیا۔

اس ڈر سے کہ یہ لوگوں کو ہمارے عمل بد سے آگاہ نہ کردے ۔اور پھر بت کو سجدہ کرکے شرک میں پڑ گئے تو جب یہ سب کچھ ہوگیا تو اللہ تعالیٰ نے روئے زمین وآسمان کے پردوں کو ایک بار پھر ہٹا دیااور ملائکہ نے آسمان سے یہ سارا منظر دیکھ لیا وہ سب کے سب حیران ہوگئے کہ یہ سب کیسے ممکن ہے وہ حیران ہوئے اور توبہ کرنے لگے جب دونوں فرشتوں کو ہوش آیا تو زہرہ خاتون نے ان سے دریافت کیا کہ یہ جو تم پل بھر میں آسمانوں میں غائب ہوجاتے ہو اور پل بھر میں واپس آجاتے ہو تو یہ کیسے ممکن ہوتا ہے انہوں نے بتایا کہ ہمارے پاس اسم اعظم ہے اس خاتون نے ان سے وہ اسم اعظم سیکھنے کی فرمائش کی ۔

اسم اعظم سیکھنے کے بعد تینوں نے آسمان کی طرف سفر شروع کردیا لیکن زہرہ کو تو پہلے آسمان کھینچ لیا گیا اور ہاروت وماروت کے پر کاٹ لیے گئے اور ان کو زمین پر پھینک دیا گیا یہ ان کی سزا کی شروات تھی اس کے بعد ان سے تمام فرشتوں والی صفات چھین لی گئیں ۔اور ان کا اللہ تعالی آسمانوں اور دیگر ملائکوں سے رابطہ ختم کردیا گیا۔اس کے بعد وہ ایک عرصے تک زمین پر دربدر بھٹکتے رہے پھر انہیں پتا چلا کہ ایک نبی کا دور ہے۔

جن کی یہ خاصیت ہے کہ ان کی ایک جمعہ سے دوسرے جمعہ تک کی گئی ایک دعا قبول ہوجاتی ہے ۔وہ ان نبی کے پاس پہنچے یہ سوچ کر کہ یہ اللہ تعالیٰ سے ہماری توبہ کیلئے دعا کرلیں گے ان کے پاس پہنچنے کے بعد انہوں نے ہاروت وماروت کیلئے اللہ پاک سے رجوع کیا جس کا جواب یہ ملا کہ سزا تو انہیں ضرور ملے گی کہ دنیا میں لینی ہے یا آخرت میں ان دونوں فرشتوں نے باہمی مشورے کے بعد فیصلہ کیا کہ دنیا میں سزا لے لیتے ہیں کیونکہ دنیا تو فانی ہے جبکہ آخرت کی زندگی تو ابدی ہے لہذا ایک روایت میں آتا کہ بابل کے مقام پر ایک کنواں ہے جہاں ان دونوں کو اُلٹا لٹکا دیا گیا ہے۔

اور قیامت تک کیلئے وہ وہاں پر لٹکے رہیں گے۔اور بعض روایت میں آتا ہے کہ زمین اور آسمان کے درمیان ایک مقام ہے جہاں وہ دونوں قیامت تک کیلئے اُلٹے لٹکے ہوئے ہیں اُس کے بعد انہیں دوبارہ آسمان پر اُٹھا لیا جائے گا۔اسی سبب آسمان پر فرشتے زمین والوں کیلئے ہمیشہ دعا کرتے ہیں کہ کیونکہ انسان اللہ تعالیٰ کے حجاب میں ہوجانے کے باوجود اُس کی عبادت کرتے ہیں لیکن یہ نفسانی خواہشات ہیں جن کے سبب ان سے گناہ سرزد ہوجاتے ہیں اور جو نیک لوگ اپنی تمام زندگی اللہ تعالیٰ کے راستے پر گزار دیتے ہیں ان کا اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہت بلند مقام ہے فرشتوں سے بھی بلند وبرترہے۔

Leave a Comment