زندگی میں لباس اتارتے وقت د و کام کبھی نہ بھولیں

Zindagi mai libas utarty waqt do kam kabhi na bhoolain

ایک سوال ہے کہ آپ میں سے کچھ لوگ جانتے ہوں گے لیکن یہ بات یا د رکھیں کہ اکثر لوگ اس سے واقف نہیں ہیں ؟ وہ کیا ہے ۔ کبھی کسی نے کپڑ ے اتارتے وقت “بسم اللہ “پڑھی ہے۔ آپ روزانہ لباس اتارتے ہیں۔ جس طرح انسانوں کی نظر بد لگتی ہے۔ جنوں کی بھی نظریں بد لگتی ہے۔ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: اگر آپ جنوں کی نظروں سے بچنا چاہتے ہیں جب قمیض یا لبا س کا کوئی بھی حصہ اتارنا چاہیں تو بسم اللہ پڑھ لو ۔ سارے جن دیکھ نہیں سکے گے ۔ اندھے ہوجائیں گے ۔ اور اگر تم “بسم اللہ ” نہیں پڑھتے تو جن بھی دیکھتے ہیں۔ اور جس طرح انسانوں کی نظر لگتی ہے۔ جنوں کی بھی نظرلگ جاتی ہے۔

شاید کہ آپ نے قصے سنے ہوں۔ فلاں بہت نیک اورصالح عورت ہے لیکن اس کو جن تنگ کرتےہیں۔ کہتے ہیں کہ میں نے اس سے شادی کی ہوئی ہے۔ میں اس کو چھوڑ نہیں سکتا۔ یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ میں چلا جاؤں۔اس کی وجہ کیا ہے؟ رسول اکرمﷺ نے دیکھا کہ جب صحابی عبداللہ ابن عامر رضی اللہ عنہ وہ غسل کرنے سے صرف کندھوں سے چادر نیچے اتری ہوئی ہے۔ ایک صحابی دیکھ کر کہتے ہیں۔ کتنے خوبصورت ہیں ؟ اور وہیں گرگئے۔

اللہ تعالیٰ کے رسول اللہ ﷺنے فرمایا: تمہیں اپنے بھائیوں کو کیوں مارتے ہو کیوں ق تل کرتے ہو۔ تم نے کیوں نہیں کہا “ماشاءاللہ تبارک وتعالی” ۔ نظر لگ گئی فوراً اس سے وضو کروائے اور اس کی کمر پر ڈالے اور وہ اٹھ کرکھڑے ہوگئے ۔ اسی لیے دو باتیں یا د رکھیے۔ زندگی میں کبھی لباس اتاریں کیا پڑھے ؟“بسم اللہ ” پڑھے۔ اگر کسی کے بچے ہیں تو بھی یاد رکھیں کہ ماں باپ کی نظر زیادہ لگتی ہے۔ لیکن ہم سمجھتے ہیں ہماری کونسی نظر ہے میں کوئی نظر وٹو ہوں جو نظر ہوگئی ہو۔ کہ نظر لگ جائے ۔

بات یہ نہیں ہے۔ جب اللہ کے رسول کی بات نہیں مانے گے ۔ اللہ کے رسول جب کسی چیز کو دیکھتے تھے تو کیا کہتے تھے “ماشاءاللہ تبارک وتعالیٰ”۔ قرآن مجید میں بھی اللہ عزوجل نے ایک بات کا تذکر ہ کیا ہے ۔حدیث میں آیا ہے “اگر تقدیر پر سبقت لے جانے والی کوئی چیز ہوتی تو نظر بد ہوتی ۔ قیامت کے نزدیک اونٹ ہنڈیا ں میں ہیں۔ اورمرد قب ر میں اکثر اجائیں گے تو نظر بد کی وجہ سے جائیں گے ۔ چھوٹی بات نہیں ہے۔ اس لیے نظر بد سے اپنے آپ کو بچانے کے لیے جب بھی لباس اتاریں کیا پڑھنا چاہیے “بسم اللہ”۔

Leave a Comment