حضرت آدم ؑ اور مو ت کا فرشتہ

Hazrat Aadam or moat ka frishta

جب اللہ نے انسان کو خلق کرنے کا ارادہ کیا۔ توکوئی بھی فرشتہ زمین سے مٹی نہ لا سکا۔ تو اتنے حضرت عزرائیل ؑ فرمانے لگے ۔ اے اللہ! یہ کام مجھ سے ہی ہونا ہے۔ تو بس اللہ کے حکم سے حضرت عزرائیل ؑ زمین کو آئے اور تین اقسام کی مٹی کوجمع کیا۔ سرخ ، سفید اور سیاہ ۔ پھر اس مٹی مکہ اور طائف کے درمیان رکھا گیا۔ اورمسلسل باران رحمت برستی رہی ۔ پھر اللہ نے اس مٹی کو عرش پر بلایا۔ اور حضر ت آدم ؑ کا پتلا تیار کردیا۔ اور چالیس سال تک وہ جنت میں رکھاگیا۔

ہر فرشتہ اس مجسمے کو دیکھتا ۔ کہ یہ مٹی کا بنا ہوا پتلا کیسے چلے گا ؟ کیسے بات کرے گا؟ کیسے زندہ ہوگا؟ چالیس سال تک اللہ نے اس نشانی کو قائم رکھا۔ اور پھر ایک دن جنت کے تمام فرشتوں کو حکم دیا کہ آج میں اپنی اس میں روح ڈالوں گا۔جب ایسا ہو تو تمام فرشتے اس آدم کو سجدہ کردینا۔ سب فرشتے سے حیرت سے پتلے کو دیکھ رہے تھے کہ اتنے میں اللہ نے اس مٹی کو مجسمے میں اپنی روح ڈالی ۔ تو حضرت آدمؑ نے چھینک ماری۔ اور تمام فرشتے سجدے میں گر گئے اور اللہ کی تعریف کرنے لگے سوائے ابلیس کے ۔ وہ طاقت پر حسد کر بیٹھا۔

اللہ نے اسے اپنی دربار سے نکال دیا۔ پھر اللہ نے حضر ت آدم ؑ سے بی بی حوا کو پیدا کیا۔ اور ان کی جنت میں کی گئی غلطی کے سبب ان کو زمین پر بھیجا۔ اور حکم نافذ کیا۔ اب جنت میں وہی آئے گا۔ جو یہ ثابت کرے کہ وہ ہمارا فرمانبردار ہے۔ اور یوں انسانوں کے لیے دنیا میں امتحانات کو رکھا گیا۔ تاکہ ہرانسان امتحان دے کر اللہ کا راضی کرکے جنت تک پہنچ سکے ۔ تاریخ نے لکھا جب آدمؑ اور بی بی حوا زمین کو آئے ۔

دو سوسال تک ایک دوسرے سے جدا رہے۔ اللہ سے معافی مانگتے رہے۔ بالآخراللہ نے ان کی ت وبہ قبول کی۔ حضرت جبرائیل ؑ انہیں مکہ جبلہ عرفات پر چھوڑ آئے اور وہ ساتھ رہنے لگے ۔ اورپھر اللہ نے حضرت آدم ؑ کو حکم دیا کہ وہ خانہ کعبہ تعمیرکریں۔ اور حضرت جبرائیل ؑ اور حضرت آدم ؑ نے مل کے ایک ہلکا نشان قائم کیا جس کوبعد میں تعمیر حضرت ابراہیم ؑنے کیا۔ اور جسے آج بھی اللہ کا گھر خانہ کعبہ کہتےہیں۔ حضرت آدم ؑ جب جب اپنے خطا لے کو پشیمان ہوتے تھے۔ یااللہ! کی عبادت کرناچاہتے تھے تو اس جگہ آکر اللہ کا ذکر کرکے اللہ کو راضی کیا کرتے تھے۔ حضرت آدمؑ نوسو ساٹھ برس کی زندگی پائی ۔

جبکہ آدم ؑ کی زندگی ایک ہزار سال کی تھی۔ کیونکہ جب آدمؑ جنت میں تھے ۔ تو اللہ نے حضرت آدم ؑ کی تمام اولا د کو جن جن کو نبوت ملنی تھی ان کی شخصیت اور ان کی عمر آدمؑ کے نزدیک واضح کردی۔ آپ نے جب حضرت داؤد ؑ کی عمر کو ساٹھ سال تک دیکھا تو اللہ سے کہنے لگے اے اللہ! میری عمر کے چالیس سال میرے پوتے داؤد کودیدیں۔ یوں آپ کی دعا قبول ہوگئی ۔ اللہ نے آدم ؑ کو دو فرزند عطا کیے ۔

ہا بیل اور قابیل ۔ لیکن ش یطان کے وسوسے ،حسد اور نف رت نے جب قابیل کے ہاتھوں سے ہابیل کو ق تل کروادیا۔ تو حضرت آدمؑ اندر سے ٹوٹ گئے اور باربار اللہ کی دربار میں دعامانگنے لگے ۔تو ایک دن اللہ نے جبرائیلؑ کو آدم ؑ کے پاس بھیجا۔ اور فرمایا:اے آدمؑ ! اللہ تمہیں ایسا بیٹا دینے والا ہے ۔ جس کے نسب سے انبیاء واولیاء زمین تک پہنچے گیں۔ اس کا نام شیث رکھنا۔ شیث کا مطلب ہے اللہ کا عطاکیاگیا تحفہ۔ اور یوں اللہ نے آدمؑ کی نسل کو زمین پر پھیلا دیا۔

جب آدم ؑ کا آخری وقت آیا آپ نے اپنے بیٹوں سے کہاکہ میرا جنت کے پھل کھانے کاجی کررہا ہے۔ آپ کے بیٹے زمین پر جنت کے پھل ڈھونڈتے رہے کہ اچانک ان کو فرشتہ ملے ۔ اور کہنے لگے اے بنی آدم ؑ کہاں جارہے ہو؟ انہوں نے کہا ہم اپنے باباآدم ؑ کے لیے جنت کے پھل ڈھونڈرہے ہیں۔ان فرشتوں نے کہا جاؤ تمہارے بابا چند دنوں کے مہمان ہیں۔ آپ کے تمام فرزند دوڑتے دوڑتے آپ تک آپہنچے۔ تو آدمؑ بستر بیماری پر اللہ کا ذکر کررہے ہیں۔ بس اتنے میں مو ت کا فرشتہ آپہنچا۔

جیسے ہی بی بی حوا نے مو ت کے فرشتے کو دیکھا تو آدم ؑ سےلپٹ گئے کہ میں اپنے شوہر کو اپنے سے جدا نہیں کروں گی۔ اللہ کے نبی آدمؑ نے فرمایا: اے حوا! مجھ سے دور ہٹ جاایک مرتبہ پہلے بھی تیری وجہ سے جنت سے نکا لا گیا ہوں۔ آج بھی اللہ اور اس کے فرشتے کے درمیان تو حائل نہ بن۔ پھر آپ ان فرشتوں سے مخاطب ہوکر کہنے لگے اے فرشتہ الموت کیا بھول تو نہیں گئے میں نے اللہ نے سنا تھا میری عمر ایک ہزار سال کی ہے۔

اور ابھی تو مجھے نو سو ساٹھ سال ہوئے ہیں۔ تو ملک الموت نے کہا اے اللہ کے نبی آدمؑ ! آپ ہی خود فرمایا تھا کہ آپ کی زندگی کے چالیس سال آپ کے پوتے داؤد ؑ کو دیے جائیں۔ بس آدمؑ کی روح قبض کی گئی۔ آپ کو غسل فرشتوں نے دیا۔ اور جنت کی خوشبوآپ کے جسم مبارک لگائی گئی۔ پھر آپ کی جن ازے کی نماز فرشتوں نے حضرت جبرائیل ؑ کے پیچھے ادا کی۔ اور زمین کھو د کر آپ کی تدفین کی ۔ اور تما م انسانوں کے نزدیک اللہ کا حکم نافذ کیا جب بھی کسی کا انتقال ہو توان کے جسم کو ایسے ہی تدفین کرنا۔ آج بھی ان فرشتوں کی سنت پر اہل ایمان عمل کرکے اپنے بزرگوں کی تدفین کرتے ہیں۔

Leave a Comment