انسان کا پیدائش کا معجزا قطرے سے ماں کی گود کا سفر

Insan ka paidaish ka moojza

ماں کے روپ میں بحیثیت خاتون کی سماج کے تئیں ایک اہم ذمہ داری ہے۔ خاتون چاہے تو سماج کی شکل بدل سکتی ہے۔ وہ آنے والی نسل کو اچھی تربیت دے کر ایک نئی صدی کا آغاز کرسکتی ہے، کیونکہ ماں ہی بچے کی پہلی استاد ہوتی ہے۔ وہ اپنے بچے کو رحم ہی سے اچھی تربیت دینا شروع کر دیتی ہےماں کی گود بچے کی پہلی تربیت گاہ ہوتی ہے۔ اسی تربیت پر بچے کی شخصیت پروان چڑھتی ہے۔ اخلاق کی جو تربیت ماں کی گود میں ہوتی ہے اسی تربیت پر بچے کی سیرت کے بننے یا بگڑنے کا انحصار ہوتا ہے۔

دھوپ میں چھاؤں جیسی ماں
صبح کی نماز سے لے کر، باورچی کی کھٹ پٹ، چھت پر کپڑے سکھاتے ہوئے، کڑھائی بنائی کرتے ہوئے…. یا پھر بالوں میں تیل لگاتے ہوئے، رات میں لوری گاتے ہوئے، کہانی سناتے ہوئے…. کھنکتی چوڑیوں سے سجے ہاتھوں سے دن بھر کی اپنی تمام ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے باتوں باتوں میں زندگی کی نہ جانے کتنی باتیں سکھا جانا…. یہ ہنر صرف ماں کے پاس ہوتا ہے…. نہ کوئی کلاس روم، نہ کوئی کتاب، نہ کوئی سوال جواب…. وہ بس اپنے پیار، اپنی باتوں، اپنے لب و لباب ہی سے اتنا کچھ سکھا جاتی ہے کہ ہم بغیر کوشش کئے ہی بہت کچھ سیکھ جاتے ہیں،۔

اس لئے کہا جاتا ہے کہ ماں ہماری پہلی استاد ہوتی ہے۔ اپنی ماں کے ساتھ ہم سب کی ایسی ہی کوئی بیش قیمتی یادیں جڑی ہوتی ہیں، اس لئے ایک ماں کے روپ میں بحیثیت خاتون کی اپنی اولاد اور سماج کے تئیں کئی ذمہ داریاں ہوتی ہیں۔ماں ہونا ایک بڑی ذمہ داری ہےایک ماں کے روپ میں خاتون کے لئے اتنا ہی کہنا کافی ہے کہ دنیا کے سب سے کامیاب انسان کو پیدا کرنے والی بھی ایک خاتون ہی ہوتی ہے۔

لہٰذا ماں کے روپ میں بحیثیت خاتون کی سماج کے تئیں ایک اہم ذمہ داری ہے۔ خاتون چاہے تو سماج کی شکل بدل سکتی ہے۔ وہ آنے والی نسل کو اچھی تربیت دے کر ایک نئی صدی کا آغاز کرسکتی ہے، کیونکہ ماں ہی بچے کی پہلی استاد ہوتی ہے۔ وہ اپنے بچے کو رحم ہی سے اچھی تربیت دینا شروع کر دیتی ہے۔ یہ بات سائنسی اعتبار سے بھی ثابت ہوچکی ہے کہ جب بچہ ماں کے رحم میں ہوتا ہے تو ماں کی ذہنی حالت کا بچے پر بھی اثر پڑتا ہے۔ لہٰذا حاملہ خاتون اچھے ماحول میں رہ کر، اچھی کتابیں پڑھ کر، اچھی سوچ اپنا کر بچے کو رحم میں ہی اچھی تربیت دینے کی شروعات کرسکتی ہے۔

بچپن اور ماں کا ساتھ
پیدائش کے بعد بچپن کا زیادہ تر وقت بچہ اپنی ماں کیساتھ گزارتا ہے اور سب سے خاص بات، پیدائش سے لے کر پانچ سال کی عمر تک انسان کا ’گراسپینگ پاور‘ یعنی سیکھنے کی صلاحیت سب سے زیادہ ہوتی ہے۔ اس عمر میں بچے کو جو بھی سکھایا جائے اسے وہ بہت جلدی سیکھ جاتا ہے۔ لہٰذا ہر ماں کو چاہئے کہ وہ اپنے بچے کی پرورش اس انداز سے کرے جس سے وہ ایک اچھا، سچا اور کامیاب انسان بنے، اس کی مکمل نشوونما ہو۔

بچے کی پرورش میں ماں کا کردار اس کسان کی طرح ہوتا ہے جو بیج کو پھلنے پھولنے کے لئے مناسب ماحول تیار کرتا ہے، اس کی کھاد پانی کی ضرورتوں کو پورا کرتا ہے۔ ٹھیک اسی طرح اگر آپ اپنے بچے کی اچھی پرورش کرنا چاہتی ہیں تو اسے تناؤ سے دور اور مثبت ماحول دیں، لیکن اس بات کا بھی دھیان رکھیں کہ اسے کسی بندش میں باندھنے کے بجائے اپنے طریقے سے آگے بڑھنے دیں۔

؎بچے کو خود مختار بنائیں تاکہ بڑا ہو کر وہ اکیلا ہی دنیا کا سامنا کرسکے، اسے آپ کا ہاتھ تھامنے کی ضرورت پیش نہ آئے۔ یہ باتیں کہنے میں جتنی آسان لگتی ہیں، ان پر عمل کرنا اتنا ہی مشکل ہے۔ بچوں کی پرورش کے مشکل کام کو کیسے آسان بنایا جاسکتا ہے؟ آیئے جانتے ہیں:پہلے خود کو تبدیل کریںاگر آپ اپنے بچے کو اچھی تربیت دینا چاہتی ہیں تو اس کیلئے پہلے اپنی بری عادتوں کو تبدیل کریں کیونکہ بچہ وہی کرتا ہے جو اپنے آس پاس دیکھتا ہے۔

شفقت ضروری ہے
بچے کے بات نہ ماننے یا کسی چیز کے لئے ضد کرنے پر عام طور پر ہم اسے ڈانٹتے ہیں لیکن اس کا بچے پر الٹا اثر ہوتا ہے۔ جب ہم زور سے چلّاتے ہیں تو بچہ بھی تیز آواز میں رونے یا چیخنے چلّانے لگتا ہے۔ ایسے میں ظاہر ہے آپ کا غصہ ساتویں آسماں پر پہنچ جاتا ہے لیکن اس صورتحال میں غصے سے کام بگڑ سکتا ہے۔ لہٰذا محبت سے بھرے لہجے میں سمجھانے کی کوشش کریں۔

’نہ‘ کہنا بھی ضروری ہے بچے سے محبت کرنے کا یہ مطلب قطعی نہیں ہے کہ آپ اس کی ہر غیر ضروری مانگ پوری کریں۔ اگر آپ چاہتی ہیں کہ آگے چل کر آپ کا بچہ نظم و ضبط کا پابند بنے، تو ابھی سے اس کی غلط مانگ کو ماننا چھوڑ دیں لیکن ڈانٹ نہیں محبت سے انکار کریں۔

بچے کی خوبی پہچانیں ہر بچہ اپنے آپ میں منفرد ہوتا ہے۔ اپنے بچے کا موازنہ کرکے آپ اس کے اعتماد کو کمزور کرسکتی ہیں۔ اگر بچہ پڑھائی میں کمزور ہے تو اسے پڑھائی پر دھیان دینے کیلئے کہہ سکتی ہیں، لیکن غلطی سے بھی یہ نہ کہیں کہ فلاں لڑکا تم سے زیادہ ذہین ہیں۔فیصلہ کرنا سکھائیں اگر آپ چاہتی ہیں کہ مستقبل میں آپ کا بچہ اپنے فیصلہ خود کرسکے تو ابھی سے اسے اپنے چھوٹے موٹے فیصلے خود کر نے دیں۔

Leave a Comment