موت کو کیسے روکا جا سکتا ہے

Moat ko kesy rooka ja sakta hai

کیا موت کو موضوعِ ممنوعہ سمجھ کر چھوڑ دیا جائے؟ موت شروع کب ہوئی؟ موت کے بعد کیا ہوتا ہے؟ موت کے قریب کیا کچھ دکھتا ہے؟ کیا روح کوئی شے ہے؟ موت سے متعلق حیاتیات، طب اور طبعیات کیا کہتے ہیں؟ایپل کے شریک بانی اسٹیو جابز نے اپنی الوداعی تقریر میں جب کہا تھا ’’موت شاید زندگی کی سب سے بہترین ایجاد ہے‘‘ کیوں کہ یہ زندگی میں تبدیلی کی وجہ بنتی ہے۔ یہ پرانے کا خاتمہ کر کے نئے کے لیے جگہ بناتی ہے۔‘‘

جابز کے اس جملے نے بہت سوں کو جذباتی کر دیا تھا۔ جابز کی کامیابیاں، کامرانیاں حتیٰ کے قریبی رشتے تک موت سے لڑائی میں ان کی کوئی مدد نہ کر سکے اور وہ فقط 56 برس کی عمر میں سرطان کی بیماری کی وجہ سے انتقال کر گئے۔مردہ خنزیر کے دماغ کے سیلز کی بحالی کا کامیاب تجربہ تشدد سے زیادہ آلودہ پانی اموات کی وجہ حیاتیاتی موت کیوں اٹل ہے؟

موت نئی زندگی کے لیے جگہ بناتی ہے۔ بالکل ویسے ہی جیسے انسان میں اربوں خلیات ہوتے ہیں، جو روزانہ کی بنیاد پر بنتے اور ٹوٹتے ہیں اس طرح نمو جاری رہتی ہے۔ زندہ خلیات میں ایک زبردست قوت پائی جاتی ہے، جو خطرناک خلیات سے لڑنے اور انہیں ختم کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہے مثلاﹰ وائرس یا سرطان کے خلیات سے جنگ کی صورت میں۔ پرانے خلیات نئے خلیوں سے تبدیل ہوتے جاتے ہیں مگر جب نئے خلیات کا بننا سست اور بلآخر رک جاتا ہے، تو معاملہ رفتہ رفتہ بگڑنے لگتا ہے۔

اس طرح نئے خلیات جسم میں پیدا نہیں ہوتے اور پرانے رفتہ رفتہ مرنے لگتے ہیں۔گو کہ انزائم کیومیریس یہ یقینی بناتا ہے کہ کسی طرح خلیات کی تقسیم کا عمل جاری ہے، مگر اس کی وجہ سے سرطان کے خلیاتی کی تخلیق بھی تیزی پکڑتی جاتی ہے۔حیاتیاتی طور پر انسانی جسم ایک سو بیس برس تک فعال ہوتا ہے، مگر مختلف عناصر مثلاﹰ خوراک ہوا اور دیگر چیزیں رفتہ رفتہ یہ عمر کم کرتی چلی جاتی ہیں۔ موت ہے کیا؟

طبعی زندگی کا عمل عموماﹰ مختلف اعضاء کے ناکارہ ہونے، قلبی نظام کے تھم جانے، پھیپڑوں اور دماغ کے ناکارہ ہونے کی صورت میں رکتا ہے۔ طبی نکتہ ہائے نگاہ سے موت کی مختلف اقسام ہیں، ایک طرف تو ’کلینیکل موت‘ ہے، جس میں قلبی نظام رک جاتا ہے، جس کے نتیجے میں آکسیجن کی مختلف اعضاء تک ترسیل بند ہو جاتی ہے۔ کلینکل موت کو ٹالنے کے لیے منہ سے سانس دینے، یا مصنوعی سانس دینے اور سینے کو دبانے سے اسے ٹالنا ممکن ہو سکتا ہے۔

لیکن اگر دماغ ناکارہ ہو جائے، یعنی موت دماغی ہو، تو پھر اسے ٹالنا ممکن نہیں ہوتا۔ گو کے دماغ کی نچلی تہوں میں کچھ خلیات برین ڈیتھ کی صورت میں بھی زندہ ہو سکتے ہیں، مگر شعور جاتا رہا ہے۔ یہ بات تاہم اہم ہے کہ دماغی طور پر مرنے والوں کو بھی مصنوعی طریقے سے طویل عرصے تک زندہ رکھا جا سکتا ہے۔ دماغی طور پر مر چکی خواتین کو بچے کی پیدائش تک مصنوعی طور پر زندہ رکھنے کے واقعات ہمارے سامنے ہیں۔ دماغی طور پر مردہ ہو چکے بعض مریض بیرونی عوام پر ردعمل ظاہر کر سکتے ہیں، تاہم ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس کی وجوہات ریڑھ کی ہڈی سے وابستہ ہو سکتی ہے اور اصل میں یہ درد یا بیرونی چھونے کا ردعمل نہیں ہوتے۔

Leave a Comment