افطاری کے وقت تین بڑی غلطیاں کہیں آپ ایسی افطاری تو نہیں کررہے

Aftarii k waqt een bari ghaltiyan

ہمارے نبی کریمﷺ فرماتے ہیں کہ اللہ رمضان میں سارے آسمان کے فرشتوں سے فرماتا ہے۔ روزے رکھنے والی دعا پر آمین کہو۔ اور عرش کے فرشتوں سے اللہ فرماتا ہے میری تسبیح چھوڑ دو۔ رمضان کے روزے رکھنے والے کی دعا پر آمین کہو۔ اور عرش فرش پر گونج اٹھتی ہیں۔ میر ی دعائیں ، صدائیں ، نوحے ، گریے پھیلا دیتے ہیں۔ اگر رمضان میں بھو ک وپیا س سے بیٹھا ہوں۔اس لیے افطار کے وقت دعا کیوں قبول ہے؟ کھاناسامنے ہے ۔ پانی سامنے ہے۔

کان لگے ہوئے سائرن کی آوا ز پر۔ تواللہ فرماتا ہے کہ کھانا بھی سامنے ہے پانی بھی سامنے ہے یہ کیوں نہیں کھارہے بولو؟ یا اللہ تیری محبت۔ چلو تم گواہ رہو۔ اور میں نے ان کو مع اف کردیا۔ میرے بندے کھانےسے پہلے مانگ۔ وہ وقت مانگنے کا ہوتا ہے۔ ایک مہینے کے لیے ٹیونگ ہے۔ تھوڑا کھاؤ۔ پانچ سوچیزیں ہوتی ہیں۔ افطاری پر۔ ٹھنڈے شربت مت پیو افطاری کے وقت۔ بعد میں اگر پینا ہے تو پی لو۔

عین افطاری کے وقت اپنے اوپر ظ لم مت کرو۔ سارے دن کے اانجن گرم ہے اور ایک وقت پر اس پر برف ڈالتے ہو۔ تھوڑا ساصبر کر لو۔ سادہ پانی پی لو ۔ اور پھر نماز پڑھ لو۔ اس کے بعد کچھ بھی کھاؤ پیو۔مگر عین روزے کے وقت بچو۔ تلی ہوئی چیزوں سے ، مصالحے دار چیزوں سے بچو۔ پیٹ کو ہلکا پھلکا رکھو۔ تاکہ روز ے کا مقصد حاصل ہو۔ جسم پاک ہو۔ رمضان میں سب کی بخشش ہوجاتی ہے۔ چار نہیں بخشے جاتے ۔

چار قسم کے مرد اور عورت نہیں بخشے جاتے باقی سب کی بخشش ہوجاتی ہے۔ پہلا ش راب پینے والا، ماں با پ کا نافرمان( ماں باپ کے نافرمان کے لیے ہمارے نبی نے کہا:کہ اللہ ہر گناہ کی سزا موت کے بعد دے گا۔ ماں باپ کا جو نافرمان ہوگا ا سکو یہاں سے لے کر جائے گا اور آگے تک لے جائے گا)، تیسرا رشتہ داروں سے لڑنے والا اور چھوتھا کینہ رکھنے والا۔
ایک ہوتا ہے بغض ایک ہوتا ہے کینہ ۔ بغض کیا ہے ؟ کہ مجھے عنصر بھائی سے نفرت ہے۔ یہ بغض ہے۔ اور کینہ کیا ہے ؟ کہ میں اس کو نقصان پہنچانا چاہتا ہوں۔

نفرت کے ساتھ ان کی ٹانگیں کھینچنا چاہتاہوں ۔ اس کو کینہ کہتے ہیں۔ تو یہ چار برائیاں معاف نہیں ہیں۔ کوئی توبہ کرے تو معا ف ہوجائے گا۔ تواللہ پاک نے ہمیں رمضان کا مہینہ دیا ہے۔ جنت کے دروازے کھل جائیں گے ۔ جہنم کے دروازے بند ہوجائیں گے۔ فرض سترفرضوں کے برابر ہوجائے گا۔ نفل فرضوں کے برابر ہوجائےگا۔تراویح کے ہرسجدے پر ڈیڑھ ہزار نیکی لکھی جائے گی۔ہر روز تراویح میں چالیس سجدے ۔

اور روزانہ چالیس سجدوں پر ساٹھ ہزار نیکیاں ملیں گی۔ اور ہر سجدے پر جنت میں ایک سرخی یاقوت کا محل اور ہر سجدے پر جنت میں ایک درخت جس کےنیچے سوسال گھوڑا دوڑ سکتا ہے۔ اتنے کم وقت میں اتنی بڑی کمائی۔ اور ہم لوگ آٹھ تروایح پڑھ کر بھا گ جاتے ہیں۔ اور پھر جب آخری رات ہوتی ہے۔ تو اللہ پاک فرشتوں سے کہتا ہے کہ میرے بندوں کی رات کی تراویح اور دن کا روزہ اور اس کے بدلے میں ، میں نے ان کے پچھلے سارے گناہ معاف کردیے ہیں۔ اور آسمان پر ایک فرشتہ اعلان کرتا ہے۔

اے بھلائی کے چاہنے والے آگے بڑھ ، خوشخبری ہو، اورا ے برائی کے کرنے والے بس کر اور واپس آ۔ اور اللہ کا عرش مستقل پہلے آسمان پر آجاتا ہے۔ عرفہ کے دن پہلے آسمان پر۔ لیکن پورے رمضان کے لیے پہلے آسمان پر۔ اور اللہ فرماتا ہے ، ہے کوئی بخشش چاہنے والا، ہے کوئی تو بہ کرنے والا، ہے کوئی رزق لینے والا، ہے کوئی سوال کرنے والا، ہے کوئی دنیا وآخرت کی حاجت لینے والا، ہے کوئی مانگنے والا ہروقت اللہ کی طرف سے اعلان ہوتا ہے۔ ا س مہینے میں کماؤ ، حلال کماؤ۔ لیکن ایسے کمائی نہ کرو کہ روزے پر زد پڑے ۔ تراویح پرزد پڑے۔ ہمارے نبی کریم ﷺ رمضان میں قرآن کی تلاو ت بڑھا دیتے تھے۔

رمضان میں خاص وظیفہ قرآن کی تلاو ت ہے۔ جتنا پڑھ سکتے ہو پڑھتے رہو۔ رمضان کی خد مت قرآن کی تلاوت اور تسبیح۔ رمضان کی خدمت روزے افطا ر کرواؤ۔ غر یبوں کی مدد کرو۔ زکوٰۃ ادا کرو۔ اپنے مزدروں سے کام تھوڑا لو۔ اپنے نوکروں سے کام تھوڑا لو۔ اور رمضان کی سب سے بڑی بات آپس کے بغض صاف کرو۔

Leave a Comment