رمضان میں وہ 5 کام جن سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے

Ramzan mai wo paanch kam jin sy roza toot jata hai

ہمارے نبی کریمﷺ فرماتے ہیں کہ اللہ رمضان میں سارے آسمان کے فرشتوں سے فرماتا ہے۔ روزے رکھنے والی دعا پر آمین کہو۔ اور عرش کے فرشتوں سے اللہ فرماتا ہے میری تسبیح چھوڑ دو۔ رمضان کے روزے رکھنے والے کی دعا پر آمین کہو۔ اور عرش فرش پر گونج اٹھتی ہیں۔ میر ی دعائیں ، صدائیں ، نوحے ، گریے پھیلا دیتے ہیں۔ اگر رمضان میں بھو ک وپیا س سے بیٹھا ہوں۔اس لیے افطار کے وقت دعا کیوں قبول ہے؟ کھاناسامنے ہے ۔ پانی سامنے ہے۔ کان لگے ہوئے سائرن کی آوا ز پر۔

تواللہ فرماتا ہے کہ کھانا بھی سامنے ہے پانی بھی سامنے ہے یہ کیوں نہیں کھارہے بولو؟یا اللہ تیری محبت۔ چلو تم گواہ رہو۔ اور میں نے ان کو مع اف کردیا۔ میرے بندے کھانےسے پہلے مانگ۔ وہ وقت مانگنے کا ہوتا ہے۔ ایک مہینے کے لیے ٹیونگ ہے۔۔ فرض سترفرضوں کے برابر ہوجائے گا۔ نفل فرضوں کے برابر ہوجائےگا۔تراویح کے ہرسجدے پر ڈیڑھ ہزار نیکی لکھی جائے گی۔ہر روز تراویح میں چالیس سجدے ۔ اور روزانہ چالیس سجدوں پر ساٹھ ہزار نیکیاں ملیں گی۔

اور ہر سجدے پر جنت میں ایک سرخی یاقوت کا محل اور ہر سجدے پر جنت میں ایک درخت جس کےنیچے سوسال گھوڑا دوڑ سکتا ہے۔اللہ معاف کرنے کے لیے تیار بیٹھاہے۔ ارے میں تمہیں آزاد دیکھ کر خوش نہیں ہوں۔ تم توبہ کرلو میں تمہیں معاف کردوں گا۔ میرے نبی نے فرمایا ہےکہ تم ستر مرتبہ توبہ توڑ دو دن میں ۔اور ستر مرتبہ تو بہ کرو۔تو اللہ ہر دفعہ معا ف کرےگا۔ گناہ کرنا کوئی بڑی بات نہیں ہے۔ وہ بشر ہی کیا جس سے خطا نہ ہو۔ غیبت کرلی تو کیا ہوگیا۔

زنا کرلیا تو کیا ہوگیا۔ کسی کی زمین پر قبضہ کرلیا۔ تو کیا ہوگیا۔ شراب پیتی توکیا ہوگیا۔ یہ خطرنا ک کیس ہے۔ یہ کفر سے بھی زیادہ خطرناک کیس ہے۔ اگر زمین سے لے کر آسمان تک گناہ سے بھر دے ۔ اور صر ف ایک بار نادم ہوکر اللہ سے معافی مانگ لے ۔ تو اللہ کی قسم اللہ زمین سے لے کر آسمان تک اللہ ایک بول سے یوں معاف کردیتا ہے۔ کہ جسم پر مچھر کے پرکے برابر گناہ نہیں چھوڑتا۔ روزہ بناؤ۔ قرآن پڑھو۔ تراویح پڑھو۔

ایک مہینہ کمرے میں بند ہوجاؤ۔ کام پر جاؤ۔ واپس کمرے میں آجاؤ۔ ٹی وی بند کردو۔ قرآن پاک پڑھو۔ روزے کو پیسے بنانے کا مہینہ نہ بناؤ۔ روزے کو جنت کمانے کا، اللہ کو ساتھ لینے کا ، اللہ کے نبی کو ساتھ لینے کا مہینہ بناؤ۔ کسی سے ناراض ہو صلح کرلو۔ لوگ حج پر جاتےہیں۔جناب معاف کر میں حج پر جارہا ہوں۔ حج چھوٹا فرض ہے۔ روزہ بڑا فرض ہے۔ رمضان آگیا ہے۔ روزہ آگیا ہے۔ اپنے فون اٹھاؤ اور کہو کہ یا ر معاف کردے۔

رمضان شروع ہوگیا ہے۔ میرے روزے نہ خراب ہوجائیں۔ اور جس پر زیادتی کی ہے۔ اس کے پاؤں پکڑو۔ اور جس نے آپ پر زیادتی کی ہے۔ اس کو آنے سے پہلے معاف کردو۔ جا میں نے تجھے معاف کردیا۔ میرے روزے کا مسئلہ ہے۔میری جنت کا مسئلہ ہے۔ ہمارے نبی ﷺ نے فرمایا: اگر کوئی تمہیں گالی دے۔ توتم کہو میں گالی نہیں دوں گا۔ کیونکہ میرا روزہ ہے۔ اپنے روزے کو حسین بناؤ۔ سحری کھلاؤ۔ افطاری بناؤ۔ مالداروں سے کہتا ہوں زکوٰۃ دو۔

اللہ فرماتا ہے :اے ایمان والو! میں اللہ اور میرے فرشتے میرے نبی پر درود بھیجتے ہیں۔ تم بھی میرے نبی پر درود بھیجو۔ پھر اللہ فرماتا ہے۔ جو تیری امت میں زکوٰۃ ادا کرے۔ آپ ان پر درود بھیجیں گے۔”صلی علیہم “۔یہاں “صلی علیہم ” سے مراد دعا ہے۔ آپ ان کے لیے دعا فرمائیں۔ جو لوگ زکوٰ ۃ دے رہے ہیں۔ میرے نبی اس کے لیے خصوصی دعا کررہے ہیں۔ اور اس کے لیے اللہ نے درود کا لفظ ادا کیا ہے۔ جس کو نبی کے حق میں امت کے بارے میں دعا سے ترجمہ کرتے ہیں۔

نما ز پڑھنے والے کے لیے نہیں ہے صلی علیہم ۔ حج ادا کرنے والے کے لیے نہیں ہے صلی علیہم ۔زکوٰۃ ادا کرنے والے کے لیے نہیں ہے۔ “صلی علیہم”۔ تہجد پڑھنے والے کے لیے نہیں ہے صلی علیہم ۔ کہ مال خرچ کرنے والاکے لیے “صلی علیہم “ہے۔ اے میرے حبیب اس کے لیے دعا کریں۔ اس پردرود بھجیں۔کہ میرا رب غریب کے دل میں بستا ہے۔ میرے رب نے کہا میں ٹوٹے دلوں میں بستا ہوں۔ ہمارے نبی سے پوچھا گیا کہ قیامت کے دن کہاں ہوں گے۔ آپ ؐ نے فرمایامیں اپنی امت کے غریبوں کے پاس ہوں گا۔

یارسول اللہ ﷺ جنت میں جانا کیسا ہوگا؟ جنت میں سب سے پہلے میں جاؤں گا۔ میری اونٹنی کی مہار بلال کے ہاتھ میں ہوگی۔ اور میرے دائیں بائیں امت کے غریب لوگ ہوں گے۔ جو ایمان والا ہے ۔جو تقوی ٰ والا ہے۔ جو اللہ سے ڈرتا ہے۔ جو ح رام سے ڈرتا ہے۔ جو حلال کماتا ہے۔ چاہے مالدار ہے۔ یا بادشاہ ہے۔ وہ بھی جنت میں جائے گا۔ میں کسی کی کمی بیان نہیں کرنا چاہتا۔ میں تقابل کی بات کررہا ہوں۔ مالدار میرے پیچھے ہوں گے ۔ اور غریب لو گ میرے ساتھ ساتھ ہوں گے۔

زکوٰۃ دو ۔ مال خرچ کرو۔ سخی بنو۔ بخیل نہ بنو۔ بخیل سے کبھی اللہ کی یاری نہیں ہے۔ اور سخی سے اللہ یا ری توڑتا نہیں ۔ ایک سخی کا واقعہ سناتا ہوں۔ ایک صحابی رات کو اٹھے یااللہ! تیر ا نبی کہہ رہا ہے مال خرچ کرو۔میرا پاس کچھ نہیں ۔ میں کیاخرچ کرو۔ اچھا جن جن نے میر ی بے عزتی کی۔ میں ان سب کو معاف کرتا ہوں۔ اور یہ میرا صدقہ قبول فرما۔ صبح فجر کی نماز کے بعد آپؐ نے سلام پھیرا۔

رات کو صد قہ کس نے کیا ہے۔سب چپ کسی نے بھی نہیں کیا ہے۔ آپ ؐنے کہا رات کو اپنی عزت کا صدقہ کس نے کیا ہے؟ پھر وہ کھڑا ہوایا رسول اللہ ﷺ میرے خیال آیا کہ میرے پاس کچھ نہیں ہے۔ توٹھیک ہے اپنی عزت کاصدقہ کرو۔ جس نے میری بے عزتی کی میں نے اسے معاف کردیا۔ میرے نبی نےفرمایا تیر ا صدقہ قبول ہوگیا ہے۔

Leave a Comment