کا ش رمضان سے پہلے ہر کوئی یہ بیان سن لے

kash Ramzan sy pehly her koi yeh bayan sun lay

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور اکرم ﷺ کا فرمان ہے کہ: جو محاسبہ نفس کے ساتھ اور ایمان کے ساتھ روزے رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کے پچھلے سارے گناہ معاف کردیتاہے۔ اس کے دامن پر گناہ کا ایک لفظ بھی باقی نہیں رہے گا۔ یہ کرم نوازیاں ہیں۔ حضور اکرم ﷺ ماہ صیا م سے قبل خطبہ دیا کرتے تھے صحابہ کو۔ اور ماہ صیام کا استقبالیہ خطبہ دے کر ان کو ماہ صیام کو کیسے گزارنا ہے ۔ اس کی تعلیم دیا کرتے تھے۔ آج یہ خطبہ جو حضور نے ارشاد فرمایا۔

وہ آپ کو بتائیں گے ۔ حضور اکرم ﷺ نے ارشا د فرمایا: لوگوں تمہارے اوپر ایک مہینہ جلوہ افروز ہورہا ہے جو بہت بڑا مہینہ ہے۔ بڑا عظیم مہینہ ہے۔ جو مبارک مہینہ ہے۔ وہ ایسا مہینہ ہے جس کے دامن میں ایک رات ایسی ہے جو ہزار مہینے سے بہتر ہے۔ اللہ نے اس مہینے کے روزے فرض بنایا۔ اوراس کی رات کے قیام نفل بنایا۔ اورجس نے کوئی مہینے میں بھلائی کی تووہ ایسے ہے کہ جس طرح اس نے فریضہ ادا کیا۔

اگر اس نے نفل ادا کیا ۔ تو ایسے ہے جیسے اس نے فرض ادا کیا۔ او ر جس اس مہینے میں ایک فرض ادا کیااللہ پاک اس کوستر فرضوں کا ثواب عطا کرتا ہے ۔ وہ صبرکا مہینہ ہے۔ اور صبر کا ثواب جنت ہے۔ایک دوسرے سے پیار کرنے ہمدردی کرنے کامہینہ ہے۔ دکھ بانٹنے کا مہینہ ہے۔ لوگوں سے محبت کرنے کامہینہ ہے۔ وہ بابرکت مہینہ ہے جس میں مومن کا رزق بڑھا دیاجاتاہے۔ جس اس مہینے کے اندر افطار کروایا کسی شخص کو کسی روزہ دار کو، اللہ تعالیٰ اس کے گناہ معاف فرما دے گا۔

اور اس کو جہنم کی آگ سے آزاد کردے گا۔ اور روزہ رکھنے والے کو جتنا اجرا ملا ، روزہ افطارکروانے والے کو بھی اتنا ہی اجر دیا جائےگا۔ روزہ رکھنے والے کے اجر میں کسی کمی کے بغیر اس کے اجر میں بھی کوئی کمی نہیں ہوگی۔روزہ افطارکروانے والوں کو بھی پورا پورا اجر دیا جائےگا۔ صحابہ فرماتے ہیں کہ اللہ کےپیارے رسول ﷺ سے پوچھا ہم میں سے تو ایسے نہیں کہ روزے دار کا افطار کرسکیں۔ غریب لوگ بھی ہیں ۔

مسکین لوگ بھی ہیں۔ تو سارے لوگ تو ایسے نہیں ہیں۔ حضور اکرم ﷺنے فرمایا: یہ اللہ تعالیٰ یہ روزہ افطا رکروانے کا سبب عطا کرتاہے۔ جو کسی کو افطا رکروائے دودھ کے ایک گھونٹ سے یا ایک کھجور سے ، یاپانی کے ایک گھونٹ سے ۔ لازمی نہیں ہے کہ سموسے پکوڑے بہت کچھ پڑے ہوئےہوں۔ یہ لازم نہیں ہے۔

Leave a Comment