رمضان آنے سے پہلے جو بندہ یہ کام نہیں کرتا وہ اپنے مقدر میں خود غم پریشانی غربت لکھ لیتا ہے

Ramzan any sy pehly jo bnda yek kam nai kerta

قرآن پاک دلوں کو صاف کرتا ہے۔نفس تزکیہ کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کتا ب کو بھیجا بھی اسی لیے ہے۔ یہ اللہ کا کلام ہے۔ انورات سے بھری ہوئی کتاب ہے۔ برکتوں سے بھری ہوئی کتا ب ہے۔ یہ دلوں کی دوا ہے۔ بیماروں کے لیے شفاء ہے۔ نسخہ خدا ہے۔ اللہ کی شان دیکھیں کہ عنقریب ایک مہینہ آنے والا ہے۔ جو رمضان المبار ک کہتے ہیں۔ وہ شان القرآن ہے قرآن کا مہینہ ہے۔ قرآن اسی مہینے میں اترا۔

اور اس مہینے قرآن کی کثرت کے ساتھ تلاوت کی جاتی ہے۔ تو ہم ابھی سے اس مہینے کی تیاری کرلیں۔ اپنے دنیا میں دیکھتا ہے۔ کہ عید کے آنے سے ایک مہینے پہلے عورتیں اپنے کپڑے تیار کرنا شروع کردیتی ہے۔ایک مہینہ لگ جاتا ہے عید کی تیاری میں۔ رمضان المبارک کا مہینہ شان القرآن ہے۔ اس کی آمد کے لیے ہم ابھی سے تیاری شروع کردیں۔ اب رمضان کی تیاری کیا ہے؟ ایک تو گنا ہوں سے توبہ کرلیں۔

دوسرا اپنے کام کو اس طرح سے کرے ۔ ایک رمضان شریف توعبادت کے لیے ہے۔ روزہ صرف کھانے پینے اور رکنے کا نام نہیں ہے۔ روزہ اپنے اعضا ء کو گناہوں سے بچانے کا نام ہے۔ ہم روزے کو اس طرح سے رکھیں کہ کھانےپینےسے رکے رہیں۔ اور اپنے اعضائے جسمانی کو گنا ہوں سے بچائیں رکھیں۔ یہ اعلیٰ پائے کا روزہ ہے۔ سر سے لے کر پاؤں تک ہم روزہ دا ر بن کر زندگی گزاریں گے۔ تو اس کی عادت ہم نے ابھی سے کرنی شروع کردینی ہے۔

اگر کوئی صاحب موبائل فون کا غلط استعمال کرتے ہیں۔ تو ابھی سے بند کردیں۔ شیطان آپ کو پکڑے گا مگر آپ ابھی سے کوشش کریں گے تو اس مصیبت سے چھٹکا را پالیں گے ۔ اپنے آپ کو گناہوں سے بچانا رمضان کی تیا ری ہے۔ جیسے انسان ہاتھ دھو کر تیار ہوتاہے۔ ہم توبہ کرکے گناہوں کو چھو ڑ کر رمضان کے لیے تیار ہوجائیں ۔ تو پھر ہمیں رمضان کی تیاری سے پورا پورا اجر ملے گا۔

نبی کریم ﷺ کے زمانے میں قرآن کی کثرت سے تلاو ت کی جاتی ہے۔ کتابوں میں لکھا ہے کہ اگر تہجد کے وقت مدینے کی گلیوں میں کوئی چلتا تو اسے ہر گھر سے شہد کی مکھیوں کی بھنبھانے کی آوازیں آتی تھیں۔یہ آواز کیا تھی؟ یہ ہر گھر سے قرآن پڑھنے کی آواز ہوتی تھی۔ آج ہمارے گھروں سے یہ آواز نہیں آتی۔ ہم لوگ سوئے ہوئے ہوتےہیں۔ تہجد کے وقت قرآن کا پڑھنا دلوں کو دھو دیناہے۔

نبی کریم ﷺ کبھی کبھی پوری رات اور کبھی آدھی رات قرآن پاک پڑھنے میں گزار دیتے تھے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی ایسے کیاکرتے تھے۔ اصلی قرآن کی ایک لذت ہے۔ جب وہ لذت مل جاتی ہے تو پھر انسان کا پڑھے بغیر گزارا نہیں ہوتا۔ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے اگر تمہارے دل پاک ہوتے تو اللہ کے کلا م کو پڑھنے سے تمہار ا دل ہی نہ بڑھتا۔ دل ہمارے گناہوں میں ملوث ہوتے ہیں تو قرآن پڑھنے کا دل ہی نہیں کرتا۔

Leave a Comment