رمضان سے پہلے لازمی جانیے۔ رمضان میں اگر یہ عمل کر لیا تو روزہ رکھنے کا کوئی فائدہ نہیں۔

Ramzan mai ager yeh amal ker liya to roza rakhny ka koi faida nai

کھانا پینا قر بت کرنااستمنا ، یعنی مرد اپنے ساتھ یا کسی چیز کے ذریعے قربت کئے بغیر ایسا کام کرے جس سے منی خارج ہو اور یہ چیز عورتوں کے بارے میں اس تفصیل کو مدّنظر رکھتے ہوئے ہے احتیاط واجب کی بنا پر خداوند متعال ، پیغمبر اکرم ﷺ اور ان کے جانشینوں علیہم السلام کی طرف جھوٹی نسبت دینا۔احتیاط واجب کی بنا پر غلیظغبار حلق تک پہنچانا۔ اذان صبح (طلوع فجر) تک جنابت پر باقی رہنا۔ عورت کا حالت حیض و نفاس میں اذان صبح (طلوع فجر) تک باقی رہنا۔

کسی سیّال چیز سے حقنہ (انیما) کرنا ۔ جان بوجھ کر قے کرنا ۔ان مبطلات کے احکام آئندہ مسائل میں ذکر کئے جائیں گے۔کھانا اور پینااگر روزے دار توجہ رکھتے ہوئے کہ روزے سے ہے جان بوجھ کر کوئی چیز کھائے یا پیے اس کا روزہ باطل ہو جائے گا خواہ اس چیز کا کھانا اور پینا معمول ہو جیسے روٹی، پانی یا معمول نہ ہو جیسے خاک اور درخت کا شیرہ اور خواہ کم ہو یا زیادہ حتی اگر تھوڑا پانی منھ سے باہر نکالے اور دوبارہ منھ میں لے جائے اور اسے نگل لے، اس کا روزہ باطل ہو جائے گا مگر یہ کہ پانی اتنا کم ہو کہ آب دہن میں مخلوط ہو کر نہ ہونے کے برابر ہو جائے۔

جس وقت انسان کھانا کھانے میں مشغول ہے متوجہ ہو جائے کہ اذان صبح کا وقت ہو گیا ہے لازم ہے کہ لقمے کو منھ سے نکالے ، چنانچہ جان بوجھ کر نگل جائے اس کا روزہ باطل ہے اور اس تفصیل کے ساتھ جو بعد میں بیان ہوگی کفارہ بھی واجب ہے۔اگر روزے دار اس چیز کو جو دانتوں میں پھنسی ہوئی ہے جان بوجھ کر نگل جائے تو اس کا روزہ باطل ہو جائے گا۔ جو شخص روزہ رکھنا چاہتا ہے ضروری نہیں ہے کہ اذان (طلوع فجر) سے پہلے اپنے دانتوں کو خلال کرے یا برش کرے لیکن اگر جانتا ہو کہ جو غذا دانتوں کے درمیان پھنسی رہ گئی ہے دن میں اندر چلی جائے گی تولازم ہے کہ خلال یا برش کرے۔

اگر روزے دار بھول كر کوئی چیز کھا ئے یا پیے تو اس کا روزہ باطل نہیں ہوگا۔آب دہن کا نگلنا گرچہ کسی ترش (كھٹی) چیز کے قصد وغیرہ سے منھ میں اکٹھا ہو گیا ہو روزے کو باطل نہیں کرتا۔
سراور سینے کے بلغم کو نگلنا جب تک منھ کی فضا میں نہ آیا ہو حرج نہیں ہے بلکہ اگر منھ کی فضا میں آگیا ہو اور اسے نگل جائے اس کا روزہ باطل نہیں ہوگا، گرچہ احتیاط مستحب ہے کہ اسے نگلنے سے پرہیز کرے۔

انجکشن اور گلوکوز روزے کو باطل نہیں کرتا گرچہ انجکشن تقویت کا ہو یا گلوکوز شکر اور نمک کا ہو۔آنکھ اور کان میں دوا کا ڈالنا روزے کو باطل نہیں کرتا گرچہ اس کا مزہ گلے تک پہونچ جائے لیکن اگر ناک میں دوا ڈالے چنانچہ نہ جانتا ہو کہ حلق تک پہونچے گی یا نہیں اور حلق تک پہونچانے کا قصد بھی نہ رہا ہو تو روزے کو باطل نہیں کرے گی ، لیکن اگر انسان پانی یا کسی اور چیز کا ناک کے ذریعے حلق اور معدے کی نلی میں داخل کرے تو پینا صدق كرے گا اور وزہ باطل ہو جائے گا۔

Leave a Comment