رمضان سے پہلے چار گناہ چھوڑ دیں ورنہ روزے قبول نہ ہوں گے

Ramzan sy pehly chaar gunah choor dyn

رمضان کا نام اللہ نے قرآن میں لکھا ہے ۔ یہ عرشوں پر اس کا مہینے کا نام رمضان ۔ تو اس مہینے اور روزے میں کیا مطابقت ہے۔ ان میں جوڑ کیا ہے۔ کہ رمضان جل جانا۔ اس میں کوئی روزہ رکھنے والا ، روزے رکھنے والی رکھتا جاتا ہے تو اس کے گناہ پچھلے سال کے جل جاتے ہیں۔ جلتے جاتے ہیں جلتے جاتے ہیں جلتے جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ جیسے لوہے کو صاف کیا جاتا ہے آگ سے ۔ اور دھاتوں کو صاف کیا جاتا ہے آگ سے ۔ اور ظاہر ی میل کو صاف کیا جاتا ہے پانی سے ۔ تو پورے سال میں ہمارے اندر جو گندگیاں گھس جاتی ہیں۔

کبھی حسد، کبھی بغض، کبھی کینہ کبھی کچھ تو اللہ تعالیٰ اس کو اندرسے کھینچ کر با ہر نکال کرصاف کردیتا ہے۔ اور عید کی رات فرشتوں سے کہتا ہے۔ جن مزدروں نے مزدوری پوری کردی ہو تو اس کے ساتھ کیاہونا چاہیے۔تو سب نے عرض کیا کہ اس کو مزدوری ملنی چاہیے۔ پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تم گواہ رہو۔ میرے بندوں نے دن میں روزہ رکھا۔ رات کو قیام کیا۔ میرا قرآن سنا ۔ میں اس مزدور ی کےبدلے ان کے سارے گناہ معاف کرتا ہوں۔

تو میری درخواست ہے تمام بہن بھائیوں سے کہ وہ اسکی بھی تیاری کریں۔ ایک تیاری ہوتی ہے ظاہر ی جو چیزیں ہم اکٹھی کرتے ہیں۔ ایک تیاری وہ ہے کہ جس کے بغیر ہمارا روزہ قبول نہیں ہوگا۔ ہمارے نبی کا فرمان ہے کہ چار آدمی ایسے ہیں جن کی لیلتہ القدر میں بھی بخشش نہیں ہوتی۔ تو رمضان کی باقی راتیں تو اس سے ادنی ٰ ہیں۔ چا ر گناہ یا ایک گن اہ ہو بخشش ہونے کا مطلب یہ ہےکہ اگر وہ ت وبہ نہیں کرے گا۔

تو اس کا روزہ اس کو معافی نہیں دلا سکے گا۔ توبہ کرنے پر تو کفر بھی معاف ہو جاتا ہے۔ توبہ کرنے پر تو شرک بھی معاف ہوجاتا ہے۔ ہر بڑے سے بڑا گناہ مع اف ہوجاتا ہے۔ حضور اکرم ﷺ کا فرمان ہے کہ جو دن میں ستر مرتبہ توبہ توڑے ۔اور پھر توبہ کرلے سچے دل کے ساتھ۔ تو وہ رب کی نظروں میں محبوب ہے۔ وہ اس کا پیارا ہے۔ چاہے وہ بار بار توبہ توڑتا ہے۔ اور آخر ی سانس تک اللہ نے توبہ کا دروازہ کھلا رکھا ہے۔

عربی میں ستر سے مراد ہوتا ہے بے شمار۔ تو صرف چار باتیں ہیں ایک ہے جو مستقل شرابی ہو۔ اور شراب کا عادی ہو۔ اس کی رمضان کے روزے سے بخشش نہیں ہوتی۔ دوسرا جو والدین کو پرزے پرزے کردے۔ کبھی کبھی والدین کے ساتھ اونچا بول جاتا ہے بد تمیزی ہوجاتی ہے۔اس کو نافرمانی نہیں کہتے۔ کوئی اپنے ماں باپ کو اتنا زخمی کرے کہ ان کی آہیں نکلیں۔ ان کے آنسو نکلیں تو اس کی بخشش بھی نہیں ہے۔

تیسرا وہ جو رشتہ داروں سے لڑتا رہتا ہو۔ کسی سے نہ بناکے رکھے ۔ نہ بھائی سے نہ بہن سے۔ ماں باپ کی طر ف سے جتنے بھی رشتے ہیں۔ اگر ان کو توڑتا ہے۔ اپنے آپ کو سپریئر سمجھتا ہے۔ یہ سب گند ہے یہ سب ایسے ہیں۔ تو ایک ایسے بندے کی بخشش نہیں ہوتی۔ اور چوتھا جو اپنے دل میں کسی کے لیے بغض پالتا ہو۔ نفرت رکھتا ہو۔ حسد رکھتا ہو۔ ان میں جو سب سے اہم بات ہے وہ آخری ہے۔ کیونکہ آج کے دور میں ہر کوئی شرابی یا والدین کا نافرمان نہیں ہے۔

لیکن آج ہر آدمی کسی نہ کسی کے لیے بغض رکھے بیٹھا ہے۔ کسی نہ کسی کا حسد لیے بیٹھا ہے۔ چونکہ انسان کی فطرت ہے کہ وہ منفی چیزوں کی طر ف جلدی جاتا ہے۔ اور مثبت چیزوں پر جانا مشکل ہوجاتا ہے تو ایسے میں آدمی پھسل جاتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم رمضان کی تیاری کریں۔

Leave a Comment