رسول پاکﷺ نے کس عورت کو ناپسند فرمایا؟

Rasool Pak ﷺ ny kis orat ko napasend fermaya?

ہمارے پیارے آقا حضرت محمد مصطفی ٰ ﷺ کونسی عورت کو ناپسند کرتے تھے آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: میں ایسی عورت کو ناپسند کرتاہوں، جس کے ہاتھ مہندی سے اورآنکھیں سرمہ سے خالی ہوں۔ جس شخص پر تنگدستی آجائے اور وہ لوگوں سے امید لگائے، توا للہ اس کا فاقہ دور نہیں کرتا اورجو اللہ سے رجوع کر لے اللہ جلد اسے غنی کر دے گا۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: بعض اوقات انسان ایسی بات کہہ جاتا ہے۔

جس کے نقصان کو نہیں سمجھتا اور اس بات کی وجہ سے وہ جہنم میں اتنی دور جاگرتا ہے ، جتنی دوری مشرق اور مغرب کی ہے۔ اپنے رب تعالیٰ سے ڈرو، اپنی پانچوں نمازیں ادا کرو، اپنے رمضان کے مہینے کے روزے رکھو، اپنے مالوں کی زکوٰۃ ادا کرو اور اپنے حاکموں کی اطاعت کرو تم اپنے ر ب کی جنت میں داخل ہوجاؤ گے ۔حضرت ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ایک شخص رسول اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کرنے لگا کہ مجھے کوئی ایسا کام بتایئے جو مجھے جنت کے قریب اور جہنم سے دور کردے۔

آپ ﷺ نے فرمایا تم صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور کسی کو اس کا شریک نہ بناؤ، نماز قائم کرو اور زکوۃ ادا کرو اور رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی کرو۔ جب وہ واپسی کیلئے چلا تو آپ ﷺ نے فرمایا اگر یہ شخص ان باتوں پر عمل پیرا ہوا جن کا اسے حکم دیا گیا ہے تو ضرور جنت میں جائے گا۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ایک شخص نے کہا اے اللہ کے رسول ﷺ میرے بعض رشتہ دار ایسے ہیں کہ میں ان سے تعلق جوڑتا ہوں۔

وہ مجھ سے توڑتے ہیں ،میں ان کے ساتھ نیکی کرتا ہوں اور وہ میرے ساتھ برائی کرتے ہیں ،میں ان کے ساتھ بردباری کے ساتھ پیش آتا ہوں اور وہ میرے ساتھ جہالت آمیز سلوک کرتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا اگر تم درحقیقت ایسا ہی کرو جیسا کہ تم نے کیا ہے تو تم ان کو جلتی ہوئی راکھ کھلا رہے ہو اور جب تک تم اس طرح کرتے رہو گے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے مقابلہ میں تمہارا ایک مدد گار رہے گا۔حضرت مجاہدؒ سے روایت ہے کہ حضرت عبدا للہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے گھر میں ایک بکری ذبح کی گئی ہے پھر جب آئے تو کہا تم نے ہما رے یہو دی ہمسا یہ کو ہد یہ بھیجا ،

کیا تم نے ہما رے یہودی ہمسا یہ کو ہد یہ بھیجا کہ میں نے آنحضرت ﷺ کو فر ماتے سنا تھا ۔ جبریل ؑ ہمیشہ مجھے ہمسایہ کے ساتھ احسان کرنے کی وصیت کرتے یہاں تک کہ میں نے گمان کیا کہ اس کو وارث کر دیں گے ۔حضرت ابو ہر یرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کیا :یارسو ل اللہ ﷺ! فلانی عورت کے بارے میں یہ مشہور ہے کہ وہ کثرت سے نماز، روزہ اور صدقہ خیرات کرنے والی ہے ( لیکن ) اپنے پڑوسیوں کو اپنی زبان سے تکلیف دیتی ہے( یعنی برا بھلا کہتی ہے) ۔

رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فر مایا : وہ دوزخ میں ہے ۔پھر اس شخص نے عرض کیا یا رسو ل اللہ! فلانی عورت کے بارے میںیہ مشہور ہے کہ وہ نفلی روزہ ، صدقہ خیرات اور نماز تو کم کرتی ہے بلکہ اس کا صدقہ وخیرات پنیر کے چند ٹکڑوں سے آگے نہیں بڑھتا لیکن اپنے پڑوسیوں کو اپنی زبان سے کو ئی تکلیف نہیں دیتی ۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فر مایا وہ جنت میں ہے ۔

Leave a Comment