حضرت محمد ﷺ نے فرمایا بیوی سے ناراض ہونے میں جلدی نہ کرو؟

Hazrat Muhammad ﷺ ny fermaya bivi sy naraz hony mai jaldii na kro

ہمارے پیارے آقا حضرت محمد ﷺ نے فرمایا: بیوی سے ناراض ہونے میں جلدی نہ کر اگر ایک عادت پسند نہ آئے گی تو دوسری عادت پسند آجائے گی۔ مطلب یہ ہے کہ کوئی عورت ہراعتبار سے بری نہیں ہوتی ، کوئی نہ کوئی اچھی بات ہوگی ایسانہ کرنے کہ ذرا سی بات میں خفا ہوکر طلاق دیدے یا عورت سے ناراض ہوجائے۔ حضرت عبد اللہ بن مسعو د رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں۔ کہ آنحضرت محمد مصطفی ٰ ﷺ نے فرمایا: کیا میں تمہیں بتاؤں کہ آگ کس پر حرام ہے ، وہ حرام ہے ، ہر اس شخص پر جو اللہ اور اس کے بندوں سے قریب ہے ،ان سے نرم سلو ک کرتا ہے ، ملائمت رکھتا ہے اور ان کے لیے سہولت مہیا کرتاہے۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہمارا رب ہر رات کے تہائی حصے میں پہلے آسمان کی طرف نزول فرماتا ہے ، پھر کہتا ہے کہ : کون ہے مجھ سے دعا مانگے تو میں اس کی دعا قبول کروں؟ کون ہے جو مجھ سے سوال کرے تو میں اسے عطاکروں، کون ہے جو مجھ سے بخشش مانگے تو میں اسے بخش دوں۔ جب کوئی شخص نماز کے لیے کھڑ ا ہوتا ہے ۔ تو اس کے گناہ اس کے سر اور کندھوں پر رکھ دیے جاتے ہیں۔ جب جب و رکوع اور سجدہ میں جاتا ہے تو وہ گناہ کرتے رہتے ہیں۔

‘حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ میرے پاس تشریف لائے اس وقت (انصار کی) دو لڑکیاں میرے گھر میں بعاث کی لڑائی کا قصہ گارہی تھیں۔ آپؐ بچھونے پر لیٹ گئے اور اپنا منہ پھیر لیا ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے انہوں نے مجھ کو جھڑکا اور کہا یہ شی طانی باجا آنحضرت ﷺ کے سامنے۔ آخر آپؐ نے ان کی طرف منہ کیا اور فرمایا جانے دے (خاموش رہ) ۔جب ابوبکرؓ دوسرے کام میں لگ گئے تو میں نے ان لڑکیوں کو اشارہ کیا وہ چل دیں۔ یہ عید کا دن تھا۔

اس دن حبشی لوگ ڈھالوں اور برچھیوں سے کھیل کرتے تھے تو یا تو میں نے آنحضرت ﷺ سے خواہش کی یا خود آپؐ نے فرمایا تو یہ کھیل دیکھنا چاہتی ہے ۔میں نے عرض کیا جی۔ آپؐ نے مجھ کو اپنے پیچھے کھڑا کرلیا ۔میرا گال آپؐ کی گال پر تھا۔ آپؐ فرماتے تھے کھیلو کھیلو اے بنی ارفدہ !جب میں اکتا گئی تو آپؐ نے فرمایا بس۔ میں نے کہا جی ہاں۔

فرمایا اچھا جا۔حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم ﷺ نے فرمایا پہلے اپنی ذات پر خرچ کرو۔ پھر اگر کچھ بچے تو اپنے اہل و عیال پر خرچ کرو ۔پھر اگر اپنے اہل و عیال سے کچھ بچے تو اپنے رشتہ داروں پر اور اگر رشتہ داروں سے بھی کچھ بچ جائے تو ادھر ادھر اپنے سامنے، دائیں اور بائیں والوں پر خرچ کرو۔

Leave a Comment