رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میرے دوستوں میں بہت زیادہ قابل رشک میرے نزدیک وہ مومن ہے جو

Rasool Allah ﷺ ny fermaya mery dostoo

حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایاکہ : میرے دوستوں میں بہت زیادہ قابل رشک میرے نزدیک وہ مومن ہے ، جو سبک بار(یعنی دن کے سازو سامان اور مال وعیال کے لحاظ سے بہت ہلکا پھلکا) ہونماز اس کا بڑا حصہ ہو، اوراپنے رب کی عبادت خوبی کے ساتھ اور صفتِ احسان کے ساتھ کرتا ہو، اور اس کی اطاعت و فرمانبرداری اس کا شعار ہو، اور یہ سب کچھ اخفا کے ساتھ اور خلوت میں کرتا ہو، اور وہ چھپا ہوا اور گمنامی کی حالت میں ہو،۔

اور اس کی طرف انگلیوں سے اشارے نہ کئے جاتے ہوں، اور اس کی روزی بھی بقدر کفاف ہو اور وہ اس پر صابر و قانع ہو۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے اپنے ہا تھ کی چٹکی بجائی (جیسے کہ کسی چیز کے ہوجانے پراظہار تعجب یا اظہار حیرت کے لیے چٹکی بجاتے ہیں)اور فرمایا جلدی آگئی اس کو م و ت ، اوراس پر رونے والیاں بھی کم ہیں ، اس کا ترکہ بھی بہت تھوڑا ہے۔ تشریح: رسول اللہﷺ کے ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ اگرچہ میرے دوستوں اور اللہ کے مقبول بندوں کے الوان و احوال مختلف ہیں ۔

لیکن ا ن میں بہت زیادہ قابل رشک زندگی اور اہل ایمان کی ہے، جن کا حال یہ ہے کہ دنیا کے ساز وسامان اور مال وعیال کے لحاظ سے وہ بہت ہلکے ، مگر نماز اور عبادات میں ان کاخاص حصہ اور اس کے باوجود ایسے نامعروف او ر گمنا م کہ آتے جاتے کوئی ان کی طرف انگلی اٹھا کے نہیں کہتا کہ یہ فلاں بزرگ اور فلاں صاحب ہیں ، اور ان کی روزی بس بقدر کفاف، لیکن وہ اس پر دل سے صابر وقانع۔

جب مو ت کا وقت آیا ، تو ایک دم رخصت ، نہ پیچھے زیادہ مال ودولت اور نہ جائیداد ومکانات اور باغات کی تقسیم کے جھگڑے اور نہ زیادہ ان پر رونے والیاں۔ بلاشبہ بڑی قابل رشک ہے اللہ کے ایسے بندوں کی زندگی اور الحمداللہ کہ اس قسم کی زندگی والوں سے ہماری یہ دنیا اب بھی خالی نہیں ہے۔

Leave a Comment