حدیث نبوی ﷺ اس وقت سے پہلے تو بہ کر لو تمہاری تو بہ قبول ہوگی؟

Hadees Nabvii ﷺ us waqt sy pehly tooba ker loo tmhari tooba kabool ho gi?

حضرت معاویہ بن حکیم بن حزام اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:اللہ تعالی ٰ اس بندے کی تو بہ قبول نہیں فرماتا۔ جواسلام لانے کے بعد کفر کرتا ہے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جس شخص نے سورج کے مغرب سے طلوع ہونےسے پہلے تو بہ کرلی اللہ تعالیٰ اس کی تو بہ قبول فرما لے گا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: اللہ اپنے بندے کی تو بہ اس وقت تک قبول کرتا ہے جب تک کہ موت کے وقت اس کے گلے سے کھر کھر کی آواز نہ آنے لگے ۔

نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:اگر تم گنا ہ کرو۔ یہاں تک تمہارے گناہ آسمان تک پہنچ جائیں ۔ پھر تم تو بہ کرو۔ تو اللہ تعالیٰ ضرور تمہاری تو بہ قبول کرے گا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: بے شک اللہ اپنے بندے کی تو بہ قبول کرتا رہتا ہے۔ جب تک اس کی جان حلق میں نہ آجائے۔ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا : اللہ اس شخص کے چہرے کو تروتازہ رکھے جس نے میرے سے کوئی حدیث سنی۔ پھر جیسے سنی ویسے ہی اسے آگے پہنچا دیا۔

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ مدینہ یا مکہ کے کسی باغ میں سے گزرے (دوسری روایت میں بغیر شک کے مدینہ کا باغ مذکور ہے) وہاں دو آدمیوں کی آواز سنی، جن کو قبر میں عذاب ہورہا تھا۔ اس وقت آپ ﷺ نے فرمایا ان دونوں کو (قبر میں) عذاب ہورہا ہے اور کسی بڑے گناہ کی وجہ سے نہیں پھر فرمایا البتہ بڑا گناہ ہے ان میں ایک تو اپنے پیشاب کی احتیاط نہیں کرتا تھا اور دوسرا چغل خوری کرتا پھرتا تھا۔

پھر آپ ﷺ نے (کھجور کی ایک ہری) ٹہنی منگوائی اس کے دو ٹکڑے کرکے ہر قبر پر ایک ٹکڑا رکھ دیا لوگوں نے کہا یارسول اللہ! آپ ﷺ نے ایسا کیوں کیا؟ فرمایا شاید جب تک وہ سوکھیں نہیں ان کا عذاب ہلکا ہو۔حضرت نفیع بن حارث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا میں تم کو بڑے بڑے گناہ نہ بتادوں؟ تین بار یہ فرمایا ۔صحابہؓ نے کہا کیوں نہیں یارسول اللہ بتلایئے۔ آپ ﷺ نے فرمایا اللہ کے ساتھ شرک کرنا اور ماں باپ کی نافرمانی کرنا۔

آپ ﷺ تکیہ لگائے بیٹھے تھے تکیہ سے الگ ہوگئے فرمایا اور جھوٹ بولنا، سن رکھو بار بار یہی فرماتے رہے یہاں تک کہ ہم دل میں کہنے لگے کاش آپ ﷺ چپ ہوجاتے۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا (روزانہ) 5 نمازیں اور جمہ کے بعد دوسرا جمعہ پڑھنا اور ایک رمضان کے بعد دوسرے رمضان کے روزے رکھنا۔ ان گناہوں کا کفارہ ہوجاتے ہیں جو ان کے درمیان سرزد ہوئے ہوں بشرطیکہ کبیرہ گناہوں سے بچا جائے۔

Leave a Comment