ہر شخص تین زندگیاں جیتا ہے ؟

Her shakhs teen zindagiyan jeeta hai?

پریشانی خاموش رہنے سے کم صبر کرنے سے ختم اور شکر کرنے سے خوشی میں بدل جاتی ہے ۔ اپنی خوشی کے لئے کسی دوسرے کی خوشی خاک میں مت ملاؤ ،تمہاری وہ خوشی بیکار ہے جس کے پیچھے کسی کے آنسوں ہوں زندگی کی اصل خوبصورتی یہ نہیں کے تم کتنے خوش ہو بلکہ زندگی کی اصل خوبصورت تو یہ ہے کہ دوسرے تم سے کتنے خوش ہیں ۔اگر کوئی تم کو صرف اپنی ضرورت کے وقت یاد کرتا ہے تو پریشان مت ہونا بلکہ فخر کے اس کو اندھیروں میں روشنی کی ضرورت ہے اور وہ تم ہو ۔

مشکل ترین کام بہترین لوگوں کے حصے میں آتے ہیں کیونکہ وہ اسے حل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔ کبھی تم دوسروں کے لئے دل سے دعا مانگ کر دیکھو تمہیں اپنے لئے مانگنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔جس درخت کی لکڑی نرم ہوگی اس کی شاخیں زیادہ ہوں گی بس نرم طبیعت اور نرم گفتار بن جاؤ تا کہ تمہارے چاہنے والے زیادہ ہوں۔ جو تمہاری خاموشی سے تمہاری تکلیف کا اندازہ نہ کر سکےاس کے سامنے زبان سے اظہار کرنا صرف لفظوں کو ضائع کرنا ہے ۔

ہر شخص تین زندگیا جیتا ہے ۔1:عومی زندگی ،2: ذاتی زندگی،3: مخفی زندگی۔حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہمارے رب نے اپنی رحمت کو سو اجزاء میں تقسیم کیا پھر ان میں سے ایک جزو کو زمین پر اُتارا۔یہی وہ جزوِ رحمت ہے جس کی وجہ سے انسان، پرندے اور درندے باہم شفقت و رحمت کرتے ہیں، باقی ننانوے رحمتیں اس کے پاس قیامت کے دن اپنے بندوں کے لئے محفوظ ہیں۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے سو رحمتیں پیدا کیں ایک رحمت اپنی مخلوق کے درمیان رکھی جس سے وہ ایک دوسرے پر رحم کرتے ہیں جبکہ ننانوے رحمتیں اللہ تعالیٰ کے پاس ہیں۔حضرت حسن بصری فرماتے ہیں: مجھے یہ حدیث پہنچی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ سو رحمتوں کا مالک ہے، اُس نے (اُن میں سے) ایک رحمت کو جمیع اہلِ زمین کے درمیان تقسیم کر دیا جو اُن کی اموات تک انہیں اپنے احاطہ میں لئے رہے گیجبکہ اس نے باقی ننانوے رحمتوں کو اپنے اولیاء کے لئے ذخیرہ کر لیا۔

اللہ تعالیٰ اہلِ دنیا پر تقسیم ہونے والی رحمت اور (باقی) ننانوے رحمتوں کو اپنے قبضے میں کرنے والا ہے پھر وہ قیامت کے دن اپنے اولیاء پر اِن سو رحمتوں کی تکمیل کرے گا(اور ان رحمتوں کے باعث انہیں اعلیٰ و ارفع مقامات اور حقِ شفاعت سے نوازے گا)۔ حضرت معاویہ بن حَیدَہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے سو رحمتوں کو تخلیق کیا، پس ایک رحمت مخلوق کے درمیان تقسیم کر دی جس کے باعث وہ باہم رحم کرتے ہیں جبکہ ننانوے رحمتوں کو اپنے اولیاء (کی شفاعت) کے لئے محفوظ کر لیا۔

امام محمد بن سیرین و خِلاس دونوں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی سو رحمتیں ہیں جن میں سے اس نے ایک رحمت کو اہلِ دنیا کے درمیان تقسیم کردیا پس وہ اُن کی اموات تک انہیں اپنے احاطہ میں لئے رہے گی جبکہ ننانوے رحمتوں کو اس نے اپنے اولیاء کے لئے محفوظ کر لیا ہے۔اللہ تعالیٰ اہلِ دنیا پر تقسیم کی جانے والی رحمت اور باقی ننانوے کو اپنے قبضہ میں لینے والا ہے۔ پھر قیامت کے دن وہ اُن سو رحمتوں کی اپنے اولیاء پر تکمیل کرے گا۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔

Leave a Comment