رسول اللہ ﷺ نے فرمایاجوشخص صبح کے وقت سات عجوہ کھجوریں کھالے تو اسے ؟؟

jo shakhs subah k waqt sath ajwa khajoorain kha lay

اے لوگو! یقین جانو کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے ، لہذا تمہیں یہ دنیوی زندگی ہر گز دھ وکے میں نہ ڈالے ، اور نہ اللہ کے معاملے میں تمہیں وہ (ش یطان ) دھ وکے میں ڈالنے پائے جو بڑا دھ وکے باز ہے۔ بہنوں اور بیٹیوں کوخالی دعائیں نہ دیں۔ بلکہ ان کے حقوق بھی دیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: قطع رحمی کرنے ( یعنی رشتہ ناتا توڑنے ) والا جنت میں نہیں جائے گا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ جو کچھ تمہارے پاس ہے وہ سب ختم ہوجائے گا، اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ باقی رہنے والا ہے ۔

اور جن لوگوں نے صبر سے کال لیا ہوگا، ہم انہیں ان کے بہترین کا موں کے مطابق ان کا اجر ضرور عطا کریں گے۔ اچھائی پھیلانی پڑتی ہے۔برائی خود سے پھیل جاتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عالم کی فضیلت عابد پرایسی ہے جیسے میری فضیلت تم میں سے ایک عام آدمی پر ہے ۔ اللہ اور اس کے فرشتے اور آسمان اور زمین والے یہاں تک کہ چیونٹیاں اپنی سوراخ میں اور مچھلیاں اس شخص کے لیے جو نیکی و بھلائی کی تعلیم دیتا ہے۔

خیرو برکت کی دعائیں کرتی ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ہر ایک تسبیح ( سبحان اللہ کہنا) صدقہ ہے۔ ہر ایک تمحید ( الحمد اللہ کہنا ) صدقہ ہے۔ ہر ایک تحلیل ( لا الہ اللہ کہنا) صدقہ ہے۔ ہر ایک تکبیر(اللہ اکبر کہنا) بھی صدقہ ہے۔ نیکی کی تلقین کرنا صدقہ ہے ۔ اور برائی سے روکنا بھی صدقہ ہے۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اللہ کی را ہ میں قتل کے علاوہ شہادت ک سات قسمیں ہیں۔ طاعون کی بیماری میں مرنے والا،ڈوبنے والا، اندرونی پھوڑے سے مرنے والا، پیٹ کی بیماری سے مرنے والا، جل کر مرنے والا ، دیوار کے نیچے د ب مرنے والااور حمل کی وجہ سے مرنے والی عورت شہید ہے۔

اور جو شخص کسی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کی سزا جہنم ہے۔ جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اور اللہ اس پر غضب نازل کرے گا اور لعنت بھیجے گا ۔ اور اللہ نے اس کے لیے زبردست عذاب تیار کررکھا ہے۔ آپ ﷺنے فرمایا: جو شخص صبح کے وقت سات عجوہ کھجوریں کھالیں۔ اسے اس دن نہ ز ہر نقصان پہنچا سکے گا اور نہ جادو۔ عجوہ کھجور جنت کے پھلوں میں سے ایک پھل ہے وہ ز ہر کے لیے شفاء ہے۔

آپ ﷺ نے فرمایا: اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر قائم کی گئی ہے۔ اول : گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور بے شک محمد ﷺ اللہ کے سچے رسو ل ہیں۔اور نماز قائم کرنا اور زکوٰ ۃ ادا کرنا اور حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔ اے ایمان والو! صبر اور نماز سے مدد حاصل کرو۔ بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: کسی آدمی کے برے ہونے کے لیے یہی کافی ہے۔

کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کی تحقیر کرے (حقیر سمجھ کر ذلیل کرے )۔ ہر مسلمان پر ( دوسرے ) مسلمان کا خون ، مال اور عز ت حرام ہے۔ ایک شخص نے آپ ﷺ سے عرض کیا:اے اللہ کے رسول ! ہم خادم کو (غلطی پر) کتنی بار معاف کریں؟ آپ ﷺ چپ رہے ، پھر اس نے اپنی بات دہرائی ، آپ پھر خاموش رہے، تیسری بار جب اس نے اپنی بات دہرائی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ہر دن ستر بار اسے معا ف کرو۔

Leave a Comment