صرف ایک حدیث پر عمل کریں زندگی بھر بیمار نہیں ہونگے

Sirf aik hadees per amal krain, Zindagii bher bemar nai hoon gy

صحابہ کرام کی زندگی دیکھیں کہ کیسے خوبصورت زندگی تھیں۔ کتنی اچھی صحتیں تھیں۔ ایک بادشاہ نے حضور اکرمﷺ کے پاس ایک حکیم بھیجا کے طو رپر۔ تحفہ کے طور پر۔ ایک صحابہ کا۔ ہمارے محلے میں ڈاکٹر آجائے تو خوشی سے سارے پاگل ہوجاتے ہیں کہ ڈاکٹر فری میں علاج کرتے ہیں۔ کیمپ لگ جاتا ہے۔ اس کے پاس لمبی لائن لگ جاتی ہے۔ تو اس کا بھی یہی خیال تھا بادشاہ کا ۔

غالباً نجاشی تھا یا کوئی اور بادشاہ تھا۔ تو اس نے ایک گفٹ بھیجا ایک طبیب کے پاس۔ ہمارا ہاں ماہر ناز طبیب ہے۔ اس زمانے میں ڈاکٹر طبیب ہوا کرتے تھے۔ یونانی طب۔ یہ علاج کرے گا۔
اس کا خیال تھا یہ بڑے خو ش ہوں گے۔ تو وہ طبیب سارا دن بیٹھ کر مکھیاں مارتا رہتا تھا۔ کوئی مریض نہیں آتاتھا۔ کوئی بیمار نہیں ہوتا تھا۔ اس نے تجزیہ کیا کہ کیا وجہ ہے کہ یہ لوگ بیمار نہیں ہوتے ۔

اس نے رپورٹ پیش کی۔ جیسے ڈاکٹر لوگ رپورٹس پیش کرتے ہیں۔ اس نے رپورٹس پیش کی ۔ کہ یہ لوگ جب تک سخت بھوک نہ لگے کھاتے نہیں ہیں۔ جب تک شدید ان کو یعنی ہماری طرح سموسہ آجائے تو اٹھا کر منہ میں ڈال دیں۔ چلیں چلتے پھرتے یہ رول اٹھا کر کھالو۔ چلو کھانا تو کھا لیا ہے ۔ لیکن بڑے اخلاص سے کہہ رہاہے تو دوبارہ سے کھالو۔ تو اس نے کہا کہ جب تک ان کو شدید بھوک نہیں لگتی یہ کھاتے نہیں ۔

اور تھوڑی سے بھوک باقی ہوتو یہ کھانا چھوڑ دیتے ہیں۔ کیونکہ رسو ل اللہ ﷺ کا ارشاد فرمایا: مومن شہوت پرست نہیں ہوتا۔ حدیث میں آتا ہے کہ ایک شخص حضور اکرم ﷺ کی خد مت میں آیا۔ وہ غیر مسلم تھا۔ کافر تھا۔ آپ ؐ نے اس کو دودھ کاپیالہ پیش کیا۔ اس نے دودھ پیا۔ آپؐ نے فرمایا:اور۔ اس نے کہااور۔ آپ ؐ نے دوسرا پیالہ پیش کیا۔ سات پیالے دودھ کے پی گیا۔آپ ؐ نے اور پیش کیا اس نے کہا بس سیر ہوگیا ہوں میں۔ پھر اللہ نے اس کو توفیق دی اور کلمہ پڑھا اور اسلام قبول کیا۔

اگلے دن دوبارہ آیا اور آپ ؐ دودھ کا پیالہ پیش کیا ۔ بھوکا تھا۔ اس نے دودھ پیا۔ ایک پیالہ پی گیا۔آپؐ نے فرمایا:دوسرا۔ تو اس نے کہا بس سیر ہوگیا۔حالانکہ یہ بیان نہ سنا کہ نبی کا ۔کہ مومن کیاکرتا ہے کم کھاتا ہے۔ یہ سنا  نہیں سنا۔ ایمان کی برکت کہ خود بخودخواہشات نفسانی میں قناعت پیدا ہوگئی۔ کیونکہ جو شہوت پرست آدمی ہے وہ تو مزے کے لیے کھاتا ہے ۔بس کھاتے رہو۔ چٹخارے لیتےرہو۔

مومن بھی کھاتا ہے وہ بھی لذت کی چیزیں کھاتا ہے مگر کھاتا کس سے ہے۔ اعتدال سے ۔ اس موقع پر آپﷺ نے فرمایا: کافر سات آنتیں بھر کر کھاتا ہے اور مومن صرف ایک آنت بھرتا ہے۔ اور آج ہماری حالت دیکھیں ۔ کھائے جارہے ہیں۔ اور پھر بالآخر جب بالغ ہوتے ہیں۔تو بہنوں کی وراثت بھی کھاجاتے ہیں۔ جائیدادیں بھی کھاجاتےہیں۔ رک ہی نہیں رہے۔ کھاتے کھاتے بالآخر ق بر ہمیں کھانا شروع کردیتی ہے۔

Leave a Comment