رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جوشخص دنیا کو اپنا محبوب و مطلوب بنائے گا وہ اپنی آخرت کا ضرور۔۔۔؟؟

Jo shakhs duniya ko apna mehboob or matloob bnaey ga

حضرت ابو موسٰیؑ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص دنیا کو اپنا محبوب و مطلوب بنائے گا وہ اپنی آخرت کا ضرور نقصان کرے گا، اورجو کوئی آخرت کو محبوب بنائے گا۔ وہ اپنی دنیا کا ضرور نقصان کرے گا، پس (جب دنیا وآخرت میں سے ایک محبوب بنانے سے دوسرے کانقصان برداشت کرنا لازم اور ناگریز ہے ، تو عقل و دانش کا تقاضہ یہی ہے کہ )فنا ہوجانے والی دنیا کے مقابلہ میں باقی رہنے والی خرت اختیار کرو۔

تشریح: ظاہر ہے کہ جو شخص دنیا کو اپنا محبوب و مطلو ب بنائے گا تو اس کی اصل فکر و سعی دنیا ہی کے واسطے ہوگی اور آخرت کو یا تو وہ بالکل ہی پش پشت ڈا ل دے گا،یا اس کے لیے بہت کم جدوجہد کرے گا، جس کا نتیجہ بہر حال آخرت کا خسارہ ہوگا۔ اسی طرح جو شخص آخرت کو محبوب ومطلوب بنائےگا، اس کی اصلی سعی و کوشش آخرت کے لیے ہوگی۔

اور وہ ایک دنیا پرست کی طرح دنیا کے لیے جد و جہد نہیں کرسکے گا، جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ دنیا زیادہ نہ سمیٹ سکے گا، پس صاحب ایمان کو چاہیے کہ وہ اپنی محبت اور چاہت کے لیے آخرت کو منتخب کرے ، جو ہمیشہ باقی رہنے والی ہے ، اور دنیا تو بس چند روز میں فنا ہوجانے والی ہے۔ حضرت مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا سن لو! مجھے کتاب (قرآن) دی گئی ہے اور اس کے ساتھ اس کی مثل (حدیث) بھی دی گئی ہے ممکن ہے کہ کوئی مال و دولت کے ن شہ سے سرشار اپنے تخت پر بیٹھ کر یہ کہے کہ تم اس قرآن کو لازم پکڑو۔

اس میں تم جو چیز حلال پاؤ اسے حلال سمجھو اور جو ح رام پاؤ اسے ح رام قرار دو۔ سُن لو!پالتو گدھے تمہارے لئے حلال نہیں (اسی طرح) درندوں میں سے کچلی والے بھی (حلال نہیں) اور معاہد (ذمی) کی گری پڑی چیز بھی حلال نہیں الا یہ کہ اس کا یہ مالک اس سے بے نیاز ہوجائے اور جو شخص کسی قوم کے ہاں مہمان ٹھہرے تو اس کی ضیافت و اکرام ان پر فرض ہے اگر وہ اس کی مہمان نوازی نہ کریں تو وہ اپنی مہمان نوازی کے بقدر ان سے لے سکتا ہے۔

حضرت بلال بن حارث مزنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ۔کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا:جس نے میری کسی ایسی سنت کو زندہ کیا ۔جو میرے بعد مٹ چکی تھی ۔تو اس کو ان لوگوں کے ثواب کے برابر اجر ملے گا ۔جنہوں نے اس پر عمل کیا اور ان کے ثواب میں بھی کچھ کمی نہیں ہوگی اور جس نے کوئی بدعت کا کام ایجاد کیا جسے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پسند نہیں فرماتے تو اس کو ان لوگوں کے گن اہوں کے برابر گناہ ملے گا۔

جنہوں نے اس پر عمل کیا اور ان کے گن اہوں میں کچھ کمی نہیں ہوگی۔حضرت ابی رافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا:میں تم میں سے کسی آدمی کو اس حال میں نہ دیکھوں کہ وہ اپنی چارپائی پر تکیہ لگائے بیٹھا ہو، اس کے پاس میرے ان احکام میں سے جن کا میں نے حکم دیا ہے یا جن سے میں نے منع کیا ہے کوئی حکم پہنچے تو وہ کہے کہ میں نہیں جانتا، جو حکم ہم نے اللہ تعالیٰ کی کتاب میں پایا ہم نے صرف اس کی پیروی کی۔

Leave a Comment