رمضان کی سب سے بڑی تیاری

Ramzan ki sab sy bari tayari

رمضان کی سب سے بڑی تیار ی کیا ہے؟ اپنے دلو ں کوصاف کرلو۔ جس دل میں نفرت ہو بغض ہو ۔ غصہ ہو۔ کسی کے لیے کیا کیا جذبے ہوں؟ دل کاصاف ہونا ضروری ہے۔ ہمارے گھروں میں روزانہ صفائی ہوتی ہے ۔ چونکہ دنیا کی اصل گندگی ہے۔تو دل پر غبا ر ایسا آتے ہے جیسے صحن پرغبار آتا ہے۔ دل پر گندگی ایسے آتی ہے۔ جیسے صحن پر آتی ہے۔ تمہار ادل ایک صحن ہے۔ اس میں نفرت ، بغض، حسد پتہ کیا کیا گندگیاں آتی رہیں گی۔ کسی نے گالی دی ۔ کسی نے حق مارا۔ کسی نے غیبت کی ۔ کسی نے کچھ کیا۔ یا اللہ ! تیرے سپر د ہے۔

میں نے اپنے دل کو سب سے صا ف کیا۔ یہ اتنی بڑی عبادت ہے کہ تمہیں بڑے بڑے نوافل والے، حج والے ، تہجد والے پکڑ نہیں سکتے ۔ چونکہ اس کا دنیا میں کرنے والا کوئی نہیں ہے۔ کیونکہ نفل پڑھنے والے دنیا میں بے شما رہیں۔عمرے کرنے والے بے شما ر ہیں ۔ حاجی بے شما ر ہیں۔ سخاوت کرنے والے بے شمار ہیں۔ لیکن اس ٹکڑے کوصاف کرنے والا لاکھوں میں ایک بھی نہیں ہے۔ یہ مشکل کام ہے اب یہ کام سیکھ لے۔

اب اس کو صا ف کر۔ یہ رمضان کی سب سے بڑی تیاری ہے۔ اور علم کو حاصل کرنے کی سب سے بڑی چابی ہے۔ کہ اپنے دل کو کھلا کر لو۔ کوئی چیز خالی ہوگی تو آئے گا۔ جس دل میں بغض بھرا ہو۔ کینہ بھرا ہو۔ حسد بھرا ہو۔ اس میں کیا خاک آئے گا؟ اس میں تو علم کی ایک کرن بھی نہیں آئے گی۔ چاہے جتنے مرضی زبان سے موتی بکھیرے۔ یہ آنکھوں سے اندھے نہیں ہیں یہ دل سے اندھے ہیں۔ تو لوگوں اپنے دلوں کو صاف کرنا سیکھو۔

وہ کتنی مشہور حدیث ہے کہ اس دروازے سے جنتی آرہا ہے۔ ایک انصاری صحابی داخل ہورہے ہیں۔ جوتا ہاتھ میں ہے۔ داڑھی میں وضو کا پانی۔ اگلے دن اس دروازے سے ایک جنتی آرہا ہےایک صحابی آرہے ہیں اور ہاتھ میں جوتا اور داڑھی میں وضو کا پانی ۔وہ صحابی ہیں۔ اگلے دن اس دروازے سے جنتی آرہا ہے۔ وہی صحابی تین دن جنت کی بشار ت لے کر آرہا ہے۔ اس صحابہ کی جماعت میں ایک شخص ہیں ۔ جن کا نام ہے حضرت عبداللہ بن عامربن عاص رضی اللہ عنہ ۔ ا ن سے بڑ اعبادت گزار صحابہ میں کوئی نہ تھا۔

نہ آگے نہ پیچھے۔ ان کی عبادت کیا تھی ؟ ساری رات جاگنا، سارے دن کا روزہ اور ایک ختم قرآن صبح سے شام تک۔ اتنی اللہ نے طاقت دی تھی۔ پھر وہ غلوب والی با ت آگئی۔ ان کی شادی ہوئی تو شادی والی رات حجلہ عروسی میں داخل ہورہے ہیں۔ دلہن کےکمرے میں داخل ہورہے ہیں۔ اور مصلیٰ بچھا کر نفل پر نفل پڑھ رہے ہیں۔ اور ان کی بیگم نے دیکھا تو خیر کا زمانہ تھا اس نے بھی مصلیٰ اٹھا کر صبح تک نوافل پڑھتے رہے۔

صبح ہوئی تو حضرت عبدا للہ بن عامر بن عاص نے پوچھا بیٹی رات کیسے گزری۔کہا آپ کے بیٹے تو بڑے عبادت گزار ہیں۔ ان کی شکا یت کردی۔ حضر ت عبداللہ بن عامر بن عاص کو بڑا غصہ چڑھا۔ اپنے بیٹے کو تو کچھ نہیں کہا۔ سیدھے اللہ کےنبی کے پاس گئے اور کہایہ کتنا نادا ن ہے؟ اس کی شادی کی اور ساری رات نفل پڑھتا رہا۔ تو آپ ؐ نے فرمایا: ماشاءاللہ ، ماشاءاللہ ، ماشاءاللہ ۔ آپ ؐ نے حضرت عبد اللہ بن عامر کو بلا کر ڈانٹا۔ کہا کہ تو نے مہینے میں تین دن تک روزے رکھنے ہیں۔

اور ہفتے میں ایک قرآن ختم کرنا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عامر نے کہا مجھ میں طاقت زیادہ ہے آپؐ نے فرمایا: چلو پندرہ دن رکھ لو۔ آپ ؐ اس کو ہر بار تھوڑا تھوڑا کرکے گھٹاتے رہے تو وہ کہتا رہا نہیں تھوڑا ہے۔ توآخر میں آکر کہا چلو ایک دن روزہ رکھو۔ ایک دن افطار کرلو۔اور تین دن سے پہلے قرآن ختم نہیں کرنا۔ تو لوگوں دنیا میں جنتی بننا ہے اور علم اللہ سے لینا ہے۔ تو اسے صاف کرو۔ سب کی نف رت سے صاف کرو۔ اس نے یوں کیوں دیکھا۔ اس نے میرے بارے میں یہ کیوں کہا۔

رمضان کی سب سے بڑی تیاری اور علم حاصل کرنے کا سب سے بڑا ہتھیار اپنے دلوں کا صا ف کرو۔ اپنے دلوں کو ان تما م نفرتوں سے صا ف کرو۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے رمضان میں علم اتارا ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو علم عطا فرمائے۔ اور باقی لوگ جو عام دنیا میں زندگی گزار رہے ہیں۔ ان کے دلوں میں اللہ رمضان کا نور ڈالے۔ اور ہدایت کا نور اتارے ۔ یہ سب سے بڑی تیاری ہے۔

Leave a Comment