اللہ کو دو سیکنڈ میں کیسے راضی کریں ؟

Allah ko do second mai kesy raazi krain?

حضر ت موسی ؑ کے زمانے میں قحط آگیا ۔ بارش نہیں ہورہی ۔ سب نے کہا حضور بارش کی دعا کریں۔ بارش کی دعا کی۔ اور دھوپ اور تیز ہوگئی ۔حضرت موسی ؑ نے کہا :یا اللہ ! ہم نے بارش کی دعا کی ہے اور تم نے دھوپ اور تیز کردی۔ تو اللہ نے فرمایا: موسیؑ ! یہ جو لوگ کھڑے ہیں ان میں ایک ایسا آدمی کھڑا ہے۔ چالیس سال سے میرا نافرمان ہے۔ اس کی ساری فائل سیاہی سے بھری ہوئی ہے۔ ایک سفید ڈاٹ نہیں ہے جب تک کھڑا ہے بارش نہیں ہوگی۔ حضرت موسی ؑ نے اعلان کیا کہ نکل جاؤ۔

تو اس نے ادھر بھی دیکھااور ادھر بھی دیکھا کہ شاید میرا جیسا کوئی اور بھی ہو۔ وہ کوئی بھی نہیں تھا۔ تو وہ کہنے لگا کہ اب اگرمیں نکلاتو میں ذلیل ہوجاؤ گا۔ اور میں کھڑا رہا تو بارش نہیں ہوتی۔اب یہ اللہ کو پکارنے لگا۔ اور یہ پکار اللہ کی محبت میں نہیں اور نہ ہی گن اہوں کی ندامت میں ہے۔ یہ پکار ہے عزت بچانے کے لیے ۔ اب وہ دل ہی دل میں کہتا رہا میں چالیس سال تک تیری نافرمانی کی ہے۔ اور تو مجھے مہلت دیتا رہا۔

مجھے چھپاتا رہا مجھے معاف کردے۔اگر بارش نہ کی تو میں بڑا ذلیل ہوجاؤں گا۔ آپ نے تو بہ کی کیفیت دیکھی اللہ کی محبت کے لیے نہیں ، ندامت کے لیے نہیں، اپنی عزت بچانے کے لیے ہے یا اللہ ! میری عزت رکھ۔ میں تو بہ کرتا ہوں۔چالیس سال کی نافرمانی اور چالیس سیکنڈ بھی نہیں لگے۔ صرف پانچ سیکنڈ اور دو جملے اور گھٹا اٹھی اور بارش شروع ہوگئی۔ تو حضرت موسی ؑ نے کہایا اللہ ! بندہ تو نکلا ہی نہیں بارش کیسے ہوگئی؟ تو اللہ نے فرمایا:اے موسی ؑ ! جس کی وجہ سے روکی تھی اسی کی وجہ سے طفیل ہوگئی۔

یہ ہمارے دیس کے خطیبوں نے اللہ کو تھانے دار بنا کردکھایا ہے۔ ہمارا اللہ تو کریم ہے۔ حضرت موسی ٰؑ حیران و پریشان ہوگئے۔ یہ کیا ہوگیا جس کی وجہ سے روکی اسی کی وجہ سے طفیل ہوگئی۔ کہااس نے توبہ کی ہم نے صلح کرلی۔ آپ منا سکتے ہیں دو سیکنڈ میں کسی کو۔ ماں جیسا پیارا رشتہ وہ ناراض ہوجائے تو منا کے دکھاؤ۔ وہ کتنے پسینے نکلوائے گی ۔ تب جا کر معا ف کرے گی۔

اور میرا رب دیکھ بھی رہا ہے اور سن بھی رہا ہے۔ تو حضرت موسی ؑ نے کہا کیسے معاف کردیا تو اللہ نے فرمایا: جب نافرمان تھا تو نہیں بتایا اور اب توبہ کرلی تو کیسے بتاؤں گا۔ موسی ؑ لوگوں سے کہتا ہوں کہ کسی کے عیب نہ کھولو۔ اور میں اپنے بندے کے عیب خود کھولو۔فرمایا: یہ میرے اور میرے بندے کے درمیان ہے۔ یہ اللہ ہے ۔ یہ تعارف میرے نبی نے کروا یا ہے” لا الہ الا اللہ “۔

میرے عزیزوں آپ میرا سرمایہ ہو۔ تربیت کی سب سےپہلے بنیاد “لا الہ الا اللہ ” ہے۔ کہ اللہ سے جڑ اور سب سے کٹ جاؤ۔اللہ سے جڑنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ تم جنید بغدادیؒ بن جاؤ گے ۔ بشر رہو گے ۔ گن اہ ہوجائےگا سر جھکا دے ۔ پھر اس کا معاف کرنا دیکھ کیسا ہے؟

Leave a Comment