رسول پاک ﷺ نے فرمایا: تم اللہ تعالیٰ سے ایسی حالت میں دعا کرو کہ ؟

Rasool Pak ﷺ ny fermaya: tum Allah Tallah sy asii halat mai dua kro

پیارے آقا حضرت محمد مصطفی ٰ ﷺ نے فرمایا: تم اللہ تعالیٰ سے ایسی حالت میں دعاکیا کرو کہ تم قبولیت کا یقین رکھا کرو، اور یہ جان رکھو کہ اللہ تعالیٰ غفلت سے بھرے دل سے دعا قبول نہیں کرتا۔ یا د رکھو! اللہ تعالیٰ کی مدد نصرت صبر کے ساتھ ہی ہے اور ہر تکلیف و مصیبت کے بعد کشادگی اور بلاشبہ ہر تنگی ومشکل کے بعد آسانی ہے۔ اللہ تعالیٰ حیا اور کرم والا ہے ۔ جب اس کا بندہ اس کے آگے مانگنے کے لیے ہاتھ پھیلاتا ہے تواس کو حیا آتی ہے۔ کہ کچھ عطاکئے بغیران کو خالی لوٹا دے ۔

جو حق پر ہونے کے باوجود جھگڑا نہیں کرتا میں اس کے لیے اعلی ٰ جنت میں گھر کا ضامن ہوں!۔جب رمضان المبارک آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور جہن م کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں اور شی طانوں کو زنجیروں میں جکڑ دیا جاتا ہے ۔ حضرت عروہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اور وہ نماز پڑھ رہی تھیں ۔

پس وہ (تیز تیز گفتگو سے )کہنے لگے اے حجرے والی میری بات سنیں ، انہوں نے ایسے کہا تو جب وہ نماز سے فارغ ہوئیں تو فرمایا کیا تمہیں(اے عروہ )اس سے اور تیز تیز گفتگو سے تعجب نہیں ہوا ؟ حالانکہ رسول اللہ ﷺ اس اندازمیں گفتگو فرماتے تھے اگر کوئی شمار کرنے والاچاہتا تو اسے شمار کر سکتا تھا (یعنی آرام آرام سے بالکل واضح گفتگو فرماتے تھے)۔ حضرت ابی ثعلبہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں۔

کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا :بلاشبہ قیامت کے دن تم میں سے سب سے زیادہ مجھے محبوب اور سب سے زیادہ میرے نزدیک وہ لوگ ہو نگے۔ جو تم میں سے سب سے اچھے اخلاق کے مالک ہونگے۔اور میرے نزدیک سب سے زیادہ نف رت کے قابل اور مجھ سے بہت دور وہ لوگ ہونگے جن کے اخلاق برے ، جو فضول باتیں زیادہ بنانے والے ،گفتگو میں احتیاط نہ کرنے والے اور جو تکبر کرتے ہوئے منہ پھیر کر باتیں کرنے والے ہونگے ۔

حضرت علی بن حسین رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا :فضول باتوں کو چھوڑ دینا ایک اچھے مسلمان کی علامت ہے ۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ میں نے صفیہ رضی اللہ عنہا (آپ ﷺ کی زوجہ محترمہ) کے بارے میں رسول کریم ﷺ سے کہا کہ وہ ایسی ایسی ہے ( یعنی وہ چھو ٹے قد والی ہے )۔آپ ﷺ نے نے فرمایا : اے عائشہ ،تم ایسا کلمہ زبان پر لائی ہو کہ اگر اسے سمندر کے برابر پانی میں ملایا جائے تو اس کی کڑواہٹ اتنے زیادہ پانی پر غالب آجائے۔

Leave a Comment