زندگی بدل دینے والا بیان ز نا کے پاس بھی نہ بھٹکو(القرآن)

Zindagi badal dyny wala bayan

قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ: “اور زنا کے پاس بھی نہ بھٹکو۔ وہ یقینی طور پر بڑی بے حیائی اور بے راہ روی ہے”۔ ز نا کے قریب تک نہ بھٹکو۔ جیسا کہ ہمارا فیصل آبا د کا گول چکر ہے آٹھ بازار آرہے ہیں۔ اب سرکاری پروگرام یہ ہے کہ اس گول چکر تک کوئی جلوس نہ پہنچے توآٹھوں دروازوں کوبند کیاجائےگا؟ لہٰذا اللہ تعالیٰ نے دور دور تک وہ حدیں لگادیں ہیں۔ کہ ز نا کی ترغیب نہ ہو۔ اور ز نا کے راستے مسد ود ہوجائیں۔ جدید نفسیات کا بانی ماناجاتا ہے فرائیڈ۔ فرائیڈ کے نزدیک انسان کے محرکات عمل میں سب سے زیادہ طاقت ور اور سب سے اہم سیکس ہے۔ ماش نے کہا پیٹ کو ۔

معاشی ضرورت۔ فرائیڈ نے کہا نہیں سیکس۔ بلکہ یہاں تک کہا ہے کہ باپ اگر بیٹی کو محبت بھری نگاہ سے دیکھ رہا ہے۔ یہ بھی سیکس ہے۔ اور ماں اگربیٹے سے محبت کررہی ہے تویہ بھی سیکس ہے۔ نعوذ بااللہ۔ ان کمبختوں کا یہ معاملہ ہے کہ ایک جگہ پر نگا ہ پڑ گئی۔ سب کچھ اسی کے گرد گھمادیا۔ ورنہ بات غلط نہیں ہے۔ اگر عورت کے لیے مرد کے لیے کشش نہ ہو تو تمدن ختم ہوجائے۔ اس اعتبار سے یوں سمجھیں کہ جتنا زور دار گھوڑا ہو۔ اتنی زور دارلگام چاہیے۔

اگر نظم وضبط میں رکھنا چاہتے ہیں۔ لہذا سیکس کو نظم وضبط میں لانا چاہتے ہیں۔ کہ قانونی تعلق ہوایک مرد اور عورت کے درمیان۔شادی بھی ہوجائے ۔ یا دوسرا راستہ جو آج کل نہیں رہا۔ باندی ہوکسی کی۔ ان کے اندر ج نسی تعلق ہو۔ اور اس سے باہر نگاہ بھی نہ جائے۔ قرآن اور رسول دونوں اس قدر حقیقت پسند ہیں۔ قرآن پاک کی سورت الاعمران میں فرمایا ہے کہ: انسان کے اندر محبت پھیلا دی گئی ہے۔

مزین کردی گئی ہے سب سے پہلے عورت ، پھر بیٹے، پھر ڈھیرومال سونا چاندی اعلی ٰ گھوڑے نشان زادےاور مال مویشی اور کھیتی لیکن سب سے پہلے عورت۔ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا ہے کہ : تمہاری دنیا میں سے مجھے تین چیزیں محبوب کرتی ہیں۔اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک نما ز میں ہے ۔ اسی طرح سورت الاحزاب میں جب حضور اکرم ﷺ سے کہا گیا ۔

اللہ کو حق بات کہنے میں کوئی حیاء یا جھجک نہیں ہے۔ اے نبی چاہے کہ عورتوں کا حسن آپ کو بھلا لگے ۔ کہ اب مسجد میں شادیاں ہوچکی تھیں۔ اب نہ کیجیے۔ اللہ تعالیٰ نے ہرانسان کا ز نا میں ایک حصہ لکھ دیا ہے۔ جو اس کوپہنچ کررہے گا۔ آنکھوں کا ز نا ہے نامحرم عورتوں کو دیکھنا۔ یہ بھی ز نا ہے ۔ اگر ز نا کو روکنا ہے تو یہاں پر بھی قدغن لگے گی۔ زبان کا ز نا ہے کسی عورت سے گفتگو کرکے چٹخارے لینا۔ عورت کی آواز میں بھی ایک موج ہے۔

اللہ تعالیٰ نے اسے سراپا ایسا بنایا ہے۔ کہ مرد کے لیے اس کی ہرشے کے اندر کشش ہے۔ اس کی آوا ز میں کشش ہے۔ اور باقی رہ گیا ہے نفس۔ وہ تمنا کرتا ہے۔ کہ میں اب اس سے آگے بھی بڑھو۔ او ر ز نا بھی کرلوں۔ لیکن یہ ہو بھی سکتا ہے اور نہیں بھی ہوسکتا ہے۔ لیکن یہ ز نا تو کرچکا ہے۔ کان کا ز نا اس نے کرلیا۔ آنکھ کا ز نا اس نے کرلیا۔ زبان کا ز نا اس نے کرلیا۔ ہاتھ کا بھی ز نا ہے یہ جو کسی کے لمس کو ہاتھ لگا رہا ہے۔ اور کہیں پر جارہا ہے تو پاؤں سے چل کر جارہا ہے تو یہ بھی ز نا ہے۔

آپؐ کا فرمان ہےکہ جو شخص اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو۔ وہ کبھی بھی کسی اجنبی عورت کے ساتھ خلوت میں نہ رہے۔ ملاقات نہ کرے ۔ جس کے ساتھ اس کا محرم شامل نہ ہو۔ کوئی عورت آئی ہے آپ سے مسئلہ پوچھنے کے لیے اس کا باپ ، بیٹا اور اس کا بھائی اور اسکا شوہر ساتھ ہوناچاہیے۔ جہاں ایک مرد اور عورت جو ایک دوسرے کے لیے نامحرم ہیں۔ جب ملیں گے تو تیسرا وہاں شیطان ہوگا۔ کوئی مرد عورت کے ساتھ خلوت میں نہ ہو۔ مگر اس عورت کے ساتھ اس کا محرم موجود ہو۔ اور کوئی عورت سفر نہ کرے جب تک اس کا محرم موجود نہ ہو۔

Leave a Comment